پالیسی کا فقدان، کپاس سیکٹر بحالی کے لیے کوشاں
- پی سی سی سی میں تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگیاں معطل رہنے کے باعث مالی بحران بدستور برقرار
پاکستان کا زرعی شعبہ بالخصوص کپاس کی صنعت، سنگین مشکلات سے دوچار ہے جبکہ یہ تشویش بھی پائی جاتی ہے کہ عوام، حکومت اور قومی اداروں سمیت اہم اسٹیک ہولڈرز کو انتظامی امور اور طریقہ کار کے بارے میں خاطر خواہ آگاہی حاصل نہیں۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ بیوروکریسی جس سے باخبر فیصلہ سازی میں سہولت فراہم کرنے کی توقع کی جاتی ہے نے اس شعبے میں ہمیشہ مطلوبہ شفافیت اور مؤثر رابطہ کاری کو یقینی نہیں بنایا۔
ایک قومی ادارے پاکستان سنٹرل کاٹن کمیٹی (پی سی سی سی) کو متعدد مشکلات کا سامنا ہے جن میں عملے کی شدید قلت بھی شامل ہے۔ ایک سرکاری ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ کل 752 منظور شدہ آسامیوں میں سے 564 خالی ہیں، یعنی صرف 26 فیصد عملہ کام کررہا ہے۔ گریڈ 20 کے افسران کی پانچ آسامیاں بھی ایک دہائی سے زائد عرصے سے خالی پڑی ہیں جبکہ ترقیوں اور بھرتیوں کا عمل تقریباً 15 سال سے تعطل کا شکار ہے۔
مزید برآں سرکاری ذرائع کے مطابق پی سی سی سی میں جولائی 2025 سے اپریل 2026 تک تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگیاں معطل رہنے کے باعث مالی بحران بدستور برقرار ہے۔ وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق کے کمزور ریکوری نظام کے باعث ٹیکسٹائل سیکٹر کے 2 ارب روپے سے زائد واجبات بھی پھنسے ہوئے ہیں جب کہ آپریشنل اخراجات میں متعدد بار اضافے کے باوجود 2012 سے کاٹن سیس 50 روپے فی بیل پر برقرار ہے۔
سرکاری ذرائع نے بتایا کہ انتظامی عدم توازن کے باعث پی سی سی سی میں کوئی مستقل نائب صدر موجود نہیں جبکہ کئی برس سے واجب الادا ایڈہاک ریلیف بھی ادا نہیں کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ منصوبہ بندی اور پالیسی میں خامیوں کے باعث پی سی سی سی کو پاکستان ایگریکلچر ریسرچ کونسل (پی اے آر سی) میں ضم کرنے کا عمل بھی تاخیر کا شکار ہے حالانکہ حکومت اس کی منظوری 18 ماہ قبل دے چکی ہے۔
پاکستان کے ٹیکسٹائل سیکٹر کو سالانہ ڈیڑھ کروڑ گانٹھ کپاس درکار ہوتی ہے۔ گزشتہ سال برازیل اور امریکا سے 7 ملین گانٹھیں جن کی مالیت 2.5 ارب ڈالر تھی درآمد کی گئیں۔ رواں سال بھی مزید 7 ملین گانٹھیں درآمد کرنے کا ہدف ہے کیونکہ ملک میں اس سال بمشکل 6 ملین گانٹھ کپاس پیدا ہونے کا امکان ہے۔
پاکستان نے رواں سال 50 لاکھ ایکڑ رقبے پر کپاس کی کاشت کا ہدف مقرر کیا ہے جبکہ پیداوار کا ہدف تقریباً 96 لاکھ گانٹھیں رکھا گیا ہے۔ پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق 31 جولائی 2026 تک ملک بھر کی جننگ فیکٹریوں میں 7 لاکھ 85 ہزار 926 گانٹھیں پہنچ چکی ہیں۔
پاکستان کی تاریخ میں تین مرتبہ ریکارڈ پیداوار کے ساتھ کپاس کی شاندار فصل حاصل ہوئی۔ 1991-92 میں 1 کروڑ 28 لاکھ گانٹھیں، 2004-05 میں 1 کروڑ 48 لاکھ گانٹھیں اور 2014-15 میں 1 کروڑ 40 لاکھ گانٹھیں پیدا ہوئیں۔
پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن کی رپورٹ کے مطابق 2025-26 کے سیزن میں پاکستان میں تقریباً 56 لاکھ گانٹھ کپاس پیدا ہوئی۔ موجودہ فصل کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے رواں سال بھی کپاس کی پیداوار 55 لاکھ سے 60 لاکھ گانٹھوں کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔
پی سی سی سی کو پاکستان ایگریکلچر ریسرچ کونسل میں ضم کرنے کا قانونی عمل مکمل ہوچکا ہے کیونکہ وزارتِ قانون نے وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق پر زور دیا ہے کہ انضمام کے معاملے کی قومی اسمبلی اور سینیٹ سے توثیق کرائی جائے۔
ماہرین کے مطابق قومی کپاس پالیسی تشکیل دیے بغیر کپاس کے شعبے کی بحالی ممکن نہیں، بصورتِ دیگر حکومت کو ساکھ کے نقصان، قومی معیشت پر منفی اثرات اور پی سی سی سی کے مزید بحران کا سامنا رہے گا۔ پی سی سی سی کے انضمام کے معاملے پر کئی ماہ سے کابینہ کا اجلاس بھی طلب نہیں کیا گیا۔
پی سی سی سی ملک کا سب سے بڑا قومی کپاس ادارہ ہے جس کا سالانہ بجٹ 80 کروڑ روپے ہے جبکہ پنجاب کے کاٹن ریسرچ ڈپارٹمنٹ کا سالانہ بجٹ 7 سے 8 ارب روپے ہے۔ 18ویں آئینی ترمیم کے بعد زراعت کا شعبہ صوبوں کے دائرۂ اختیار میں آ گیا ہے۔
بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے پی سی سی سی کے سابق نائب صدر ڈاکٹر یوسف ظفر نے بتایا کہ وفاقی حکومت کی رائٹ سائزنگ اور تنظیم نو سے متعلق کابینہ کی خصوصی کمیٹی نے جنوری 2025 میں پی سی سی سی کو پاکستان ایگریکلچر ریسرچ کونسل میں ضم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ دریں اثنا ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار کی سربراہی میں خصوصی فصلوں سے متعلق ایک اور کمیٹی نے زبانی ہدایات جاری کی تھیں کہ اس عمل کو صدارتی آرڈیننس کے ذریعے تیز کیا جائے اور قابلِ اجازت 3 ماہ کی مدت میں پارلیمنٹ سے انضمام کا عمل مکمل کیا جائے۔
اکتوبر 2025 میں کپاس کی فصل سے متعلق ہونے والے ایک بعد ازاں اجلاس میں ڈپٹی وزیراعظم نے آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) کو پی سی سی سی کا انتظام سنبھالنے کی پیشکش کی۔ اس کے جواب میں سابق نائب صدر نے وزیراعظم کے ماتحت ایک آزاد کاٹن بورڈ کے قیام کی تجویز پیش کی۔ وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی جانب سے اجلاس کی نظرثانی شدہ کارروائی بھی جاری کی گئی، تاہم وفاقی کابینہ نے ایسا کوئی بورڈ قائم کرنے کا اعلان نہیں کیا کیونکہ متعلقہ وزارت کی جانب سے سمری ہی پیش نہیں کی گئی تھی۔ یوسف ظفر کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے فیصلہ سازی میں تذبذب اور واضح پالیسی کا فقدان پی سی سی سی کے دیرینہ مسائل کے حل کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کی ناقص طرز حکمرانی اور واضح روڈ میپ کا فقدان ملک میں کپاس کی پیداوار میں مسلسل کمی کی دو بڑی وجوہات ہیں۔ ایکسپورٹ فسیلیٹیشن اسکیم کے تحت خام کپاس اور یارن کی ڈیوٹی فری درآمد کی اجازت دی گئی جس کے نتیجے میں چین سے بڑے پیمانے پر درآمدات ہوئیں اور مقامی کھڈیوں اور اسپننگ ملز کا کاروبار تباہ ہو گیا۔
انہوں نے کہا کہ مختصر مدتی فوائد پر توجہ رکھنے والے بعض ٹیکسٹائل گروپس فیصلہ سازوں پر کپاس کی آزادانہ درآمد کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں جو گزشتہ سال تقریباً 3 ارب ڈالر تک پہنچ گئی تھی۔ کپاس سے متعلق ہر اجلاس میں ہمارے حکمران طبقے کی جانب سے بیج کے معاملے کو جس طرح بار بار دہرایا جاتا ہے، وہ سراسر بے محل اور حد سے زیادہ اہمیت دینے کے مترادف ہے۔
انہوں نے کہا کہ مسئلہ صرف ایک معاملے تک محدود نہیں بلکہ فارم سے فیشن تک یعنی ایف ٹو ایف پوری کاٹن ویلیو چین میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔ بامعنی اور مؤثر اسٹریٹجک عملدرآمدی منصوبہ تیار کرنے کے لیے کسانوں، محققین، جنرز، تاجروں اور ٹیکسٹائل ہاؤسز کو شامل کرنا ہوگا تاکہ فوری طور پر کم از کم ڈیڑھ کروڑ گانٹھ معیاری کپاس کی پیداوار کا ہدف حاصل کیا جا سکے۔ ایسے پروگرام کی کامیابی کے لیے مضبوط سیاسی عزم ناگزیر ہے۔
تجربہ کار ترقی پسند کاشتکار چوہدری جاوید ریاض نے کہا کہ اس صورتحال کی بنیادی ذمہ دار بیوروکریسی ہے کیونکہ تحقیق کا ادارہ نظام کے انہدام کا شکار ہورہا ہے جہاں افسران اور عملہ تنخواہوں، پنشن اور دیگر سہولیات سے محروم ہیں۔
مسائل کے حل کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب تک واضح اور جامع کاٹن پالیسی تشکیل نہیں دی جاتی، ملک مقامی ٹیکسٹائل سیکٹر کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کپاس کی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ نہیں کرسکتا۔ انہوں نے کہا کہ کپاس کے شعبے کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کیے جانے چاہئیں، گندم کی کاشت کے فوراً بعد کپاس کی کاشت کو یقینی بنایا جائے اور موسمیاتی تبدیلیوں کے مطابق تحقیق کی جائے۔ انہوں نے فصلوں کی زوننگ پر بھی زور دیا تاکہ سفید سونا یعنی کپاس کو تحفظ دیا جا سکے کیونکہ جنوبی پنجاب کا کاٹن بیلٹ شوگر ملز کے قیام کے باعث گنے کے زون میں تبدیل ہوچکا ہے۔
انہوں نے مزید معیاری کپاس کے بیج کی فراہمی پر زور دیا تاکہ تحقیق کے ذریعے کپاس کی پیداوار میں اضافہ کیا جاسکے۔ انہوں نے کھادوں پر سبسڈی دیکر پیداواری لاگت کم کرنے اور کاشتکاروں کے مفاد میں معاونتی قیمت مقرر کرنے کا مطالبہ بھی کیا تاکہ کاشتکاروں کو اپنی پیداوار کی مناسب قیمت مل سکے، وہ آمدن حاصل کریں اور آئندہ فصلوں میں دوبارہ سرمایہ کاری کر سکیں۔