اداریہ

دہشت گردی کا چیلنج

  • جولائی 2026 سال کا سب سے خونریز مہینہ ثابت ہوا، جس میں 205 افراد جان سے گئے، جن میں 112 سیکیورٹی اہلکار بھی شامل تھے
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز (پی آئی سی ایس ایس) کی تازہ ترین سیکیورٹی جائزہ رپورٹ ملک کی سیکیورٹی صورتحال کی ایک انتہائی تشویشناک تصویر پیش کرتی ہے۔

جولائی 2026 سال کا سب سے خونریز مہینہ ثابت ہوا، جس میں 205 افراد جان سے گئے، جن میں 112 سیکیورٹی اہلکار بھی شامل تھے، جبکہ انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں میں 401 دہشت گرد مارے گئے۔

قوم ابھی ان افسوسناک اعداد و شمار کو سمجھنے کی کوشش ہی کر رہی تھی کہ 2 اگست کو سوات میں ایک اور ہولناک سانحہ پیش آیا، جہاں کبل پولیس اسٹیشن کے قریب ایک خودکش بمبار نے امن و امان کی خراب صورتحال کے خلاف ہونے والے ایک پُرامن احتجاجی اجتماع کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں کم از کم 24 افراد جاں بحق ہوگئے۔ یہ مسلسل پیش آنے والے سانحات ایک تلخ حقیقت کو اجاگر کرتے ہیں کہ دہشت گردی پاکستان کو درپیش سنگین ترین قومی سلامتی کے چیلنجز میں سے ایک ہے۔

خصوصاً بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں تشدد کے واقعات میں نمایاں اضافہ شدت پسند نیٹ ورکس کے دوبارہ فعال ہونے کی تشویشناک علامت ہے۔

خودکش حملوں، گاڑیوں کے ذریعے کیے جانے والے حملوں، آئی ای ڈی دھماکوں اور اغوا کی وارداتوں میں اضافہ ظاہر کرتا ہے کہ کئی برسوں کی مسلسل فوجی کارروائیوں کے باوجود دہشت گرد تنظیمیں اب بھی آپریشنل صلاحیت اور لاجسٹک معاونت رکھتی ہیں۔

اگرچہ ایک ہی ماہ میں 401 دہشت گردوں کا خاتمہ سیکیورٹی آپریشنز کی مؤثریت کو ظاہر کرتا ہے، لیکن یہ ریاست کو درپیش خطرے کی وسعت اور مستقل مزاجی کو بھی واضح کرتا ہے۔

اس وقت کامیابی کا اندازہ صرف ہلاک کیے گئے شدت پسندوں کی تعداد سے نہیں لگایا جا سکتا جب ملک بدستور فوجیوں اور شہریوں کی بھاری جانی قربانیاں برداشت کر رہا ہے۔

ایک ماہ میں 112 سیکیورٹی اہلکاروں کی قربانی محض رسمی خراج تحسین سے زیادہ کی مستحق ہے۔ یہ جوان انتہائی مشکل حالات میں ایسے دشمن کے خلاف ملک کا دفاع کر رہے ہیں جو بار بار اپنی حکمت عملی تبدیل کرتا رہا ہے۔ ان کی قربانیوں کا تقاضا ہے کہ ایک جامع قومی حکمت عملی اپنائی جائے جو انٹیلی جنس نظام کو مضبوط کرے، اداروں کے درمیان رابطہ کاری بہتر بنائے، قانون نافذ کرنے والے اداروں کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کرے اور بروقت کارروائیوں کو یقینی بنائے۔

شہریوں اور امن کمیٹی کے ارکان کی ہلاکتیں بھی اس تلخ حقیقت کی یاد دہانی ہیں کہ عام پاکستانی اب بھی انتہا پسند تشدد کا سب سے زیادہ شکار بن رہے ہیں۔

سیکیورٹی ماہرین نے درست نشاندہی کی ہے کہ اگرچہ شدت پسند گروہ افغانستان میں سرحد پار محفوظ پناہ گاہوں سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، تاہم ان کی کارروائیوں کی کامیابی پاکستان کے اندر موجود معاون نیٹ ورکس، سہولت کاروں اور بھرتی کے ذرائع پر بھی منحصر ہے۔

سرحد پار محفوظ ٹھکانے بلاشبہ مسئلے کا اہم حصہ ہیں، لیکن ایسے حملوں کو روکنے کے لیے اندرون ملک لاجسٹک نیٹ ورکس کو ختم کرنا اور انٹیلی جنس نظام کو مزید مضبوط بنانا بھی اتنا ہی ضروری ہے، تاکہ حملوں کے بعد ردعمل دینے کے بجائے انہیں پہلے ہی روکا جا سکے۔

پاکستان کی انسداد دہشت گردی حکمت عملی کو ردعمل دینے والی پالیسی کے بجائے زیادہ فعال اور پیشگی اقدامات پر مبنی ہونا چاہیے۔ انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیاں، خطرات کے جائزوں کا سخت تجزیہ، سرحدی نگرانی میں بہتری اور فوج، پولیس اور سویلین انٹیلی جنس اداروں کے درمیان قریبی رابطہ قومی سلامتی پالیسی کے بنیادی ستون ہونے چاہئیں۔

اسی طرح نیشنل ایکشن پلان پر مؤثر عمل درآمد اور انسداد دہشت گردی کے معاملات کو ان سیاسی اختلافات سے محفوظ رکھنا بھی ضروری ہے جو ادارہ جاتی ہم آہنگی کو متاثر کرتے ہیں۔

پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جدوجہد میں بارہا غیر معمولی عزم اور برداشت کا مظاہرہ کیا ہے، لیکن صرف برداشت ایسے دشمن کو شکست نہیں دے سکتی جو مسلسل اپنی حکمت عملی تبدیل کر رہا ہے۔

جولائی کے افسوسناک اعداد و شمار اور سوات کا سانحہ اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ایک مزید پیچیدہ مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔ ملک کی سیکیورٹی فورسز نے غیر معمولی عزم کا مظاہرہ کیا ہے۔ اب ضروری ہے کہ ریاست ان کی قربانیوں کو بہتر انٹیلی جنس، مضبوط ادارہ جاتی رابطہ کاری اور ایسی حکمت عملی کے ذریعے تقویت دے جو خوف اور عدم استحکام پھیلانے والوں سے ایک قدم آگے رہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026