ملتان میں گاہک کے تشدد کا شکار ملازم، سب وے پاکستان نے قانونی کارروائی شروع کر دی

  • ملازمین اور صارفین دونوں کے لیے محفوظ اور باوقار ماحول کی فراہمی کے عزم پر قائم ہیں، کمپنی کا باضابطہ بیان میں ردعمل کا اظہار
شائع اپ ڈیٹ

سب وے پاکستان نے ملتان میں اپنے ایک آؤٹ لیٹ پر ملازم پر گاہکوں کے ایک گروپ کے مبینہ تشدد کے واقعے کے بعد متعلقہ قانونی اداروں سے رجوع کرتے ہوئے ضروری قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔

اپنے سرکاری بیان میں کمپنی نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس کے ملازمین کی سلامتی، وقار اور عزت اس کی اولین ترجیح ہیں۔

کمپنی نے کہا کہ وہ اس واقعے پر گہری تشویش رکھتی ہے اور ملازمین اور صارفین دونوں کے لیے محفوظ اور باوقار ماحول کی فراہمی کے عزم پر قائم ہے۔

کمپنی نے ایک علیحدہ بیان میں کہا، ”سب وے ہر شکایت کو سنجیدگی سے لیتا ہے اور احتساب کو یقینی بنانے کے لیے تمام قانونی تقاضے پورے کرنے کا پابند ہے۔“

یہ واقعہ اس وقت سوشل میڈیا پر شدید تنقید کی زد میں آ گیا جب مبینہ تشدد کی سی سی ٹی وی فوٹیج آن لائن وائرل ہو گئی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق، فاضل نامی ملازم ملتان میں سب وے کے ایک آؤٹ لیٹ پر ڈیوٹی انجام دے رہا تھا کہ اس دوران چند گاہک باہر سے خریدے گئے سموسے لے کر ریسٹورنٹ میں داخل ہوئے۔

سب وے کے معیاری آپریٹنگ طریقہ کار (ایس او پیز) کے مطابق ریسٹورنٹس کے اندر باہر سے لایا گیا کھانا کھانے کی اجازت نہیں ہے۔ فاضل کے بیان کے مطابق انہوں نے ابتدا میں ایک ساتھی ملازم سے کہا کہ وہ گاہکوں کو اس پالیسی سے آگاہ کرے، تاہم مبینہ طور پر انہوں نے اس ہدایت کو نظرانداز کر دیا۔

فاضل کے مطابق اس کے بعد ایک شخص نے ان کی گردن پکڑ کر انہیں ریسٹورنٹ کے دوسرے حصے میں گھسیٹا، حالانکہ وہاں ایک خاتون ملازم بھی موجود تھیں۔

انہوں نے الزام لگایا کہ اس کے بعد تین افراد نے تقریباً پانچ سے سات منٹ تک انہیں تشدد کا نشانہ بنایا اور ان کے چہرے، کمر اور جسم کے دیگر حصوں پر مسلسل گھونسے اور تھپڑ مارتے رہے۔

یہ مبینہ تشدد سی سی ٹی وی کیمرے میں ریکارڈ ہو گیا، اور فوٹیج سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد ملوث افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ زور پکڑ گیا۔

رپورٹس کے مطابق واقعے میں ملوث افراد میں سے ایک بینک مینیجر تھا، تاہم بزنس ریکارڈر اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا۔

سب وے پاکستان نے کہا کہ وہ مناسب قانونی ذرائع سے اس معاملے کی پیروی جاری رکھے گا اور ذمہ داروں کے احتساب کو یقینی بنانے کے لیے ہر ضروری قدم اٹھائے گا۔