اینٹی ویپنائزیشن' فنڈ ختم ہونے کے ٹرمپ کے دعوے کے بعد بلانش کی توثیق پر ووٹنگ منگل کو ہوگی
- صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا، "یہ فنڈ ختم ہو چکا ہے، لیکن سچ پوچھیں تو میری خواہش ہے کہ ایسا نہ ہوتا۔ میرے خیال میں لوگوں کے ساتھ نہایت ناروا سلوک کیا گیا اور ان کا شدید استحصال ہوا"
امریکی سینیٹ کی جوڈیشری کمیٹی نے منگل کو اجلاس طلب کر لیا ہے، جس میں ٹوڈ بلانش کی اٹارنی جنرل کے عہدے کے لیے نامزدگی پر غور کیا جائے گا۔ یہ پیش رفت صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد سامنے آئی ہے کہ ان کا 1.8 ارب ڈالر کا مجوزہ ”اینٹی ویپنائزیشن“ فنڈ، جس کی وہ خود حمایت کرتے تھے، اب ختم ہو چکا ہے۔
بلانش کی نامزدگی پر پیش رفت اس وقت رک گئی تھی جب ریپبلکن پارٹی کے بعض ارکان نے یہ مطالبہ کرتے ہوئے اپنی حمایت روک لی تھی کہ محکمہ انصاف تحریری یقین دہانی کرائے کہ وہ اس فنڈ کو قائم نہیں کرے گا۔ ناقدین کا کہنا تھا کہ اس فنڈ سے ٹرمپ کے اتحادیوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
جمعہ کو کابینہ کے اجلاس کے دوران صدر ٹرمپ نے کہا، ”یہ فنڈ ختم ہو چکا ہے، لیکن سچ پوچھیں تو میری خواہش ہے کہ ایسا نہ ہوتا۔ میرے خیال میں لوگوں کے ساتھ نہایت ناروا سلوک کیا گیا اور ان کا شدید استحصال ہوا۔ میں چاہتا ہوں کہ انہیں اس اذیت کا معاوضہ دیا جائے۔“
ٹرمپ نے یہ بیان ایسے وقت میں دیا جب ایک روز قبل انہوں نے دھمکی دی تھی کہ اگر مخالفت کرنے والے دو اہم سینیٹرز اپنے عہدوں سے الگ نہیں ہوتے تو وہ آئندہ سال تک بلانش کی نامزدگی واپس لے سکتے ہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ریپبلکن سینیٹرز پر زور دیا کہ وہ ٹوڈ بلانش کی توثیق کریں، اور خبردار کیا کہ ”انہیں بلانش جیسا شخص دوبارہ کبھی نہیں ملے گا۔“ ٹرمپ نے ٹیکساس سے تعلق رکھنے والے ریپبلکن سینیٹر جان کارنن کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ وہ بلانش کی حمایت کر رہے تھے، لیکن جب ٹرمپ نے ان کے پرائمری انتخابی حریف کی حمایت کی تو انہوں نے نامزدگی کی مخالفت شروع کر دی۔
ٹرمپ نے کہا، ”اگر میں ان کی جگہ ہوتا تو شاید مجھے بھی برا لگتا۔ میں اس بات کو پوری طرح سمجھتا ہوں، لیکن انہیں ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا، اور نہ ہی مجھے ایسا کرنا چاہیے تھا۔“
ناقدین نے اس فنڈ کو ”سیاسی نوازشوں کا فنڈ“ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے ذریعے ٹیکس دہندگان کے پیسے سے ٹرمپ کے حامیوں کو فائدہ پہنچایا جا سکتا ہے۔
بلانش اس سے قبل سینیٹرز کو بتا چکے ہیں کہ یہ فنڈ ختم ہو چکا ہے، تاہم انہوں نے اب تک اس مؤقف کو تحریری صورت میں دینے پر رضامندی ظاہر نہیں کی۔
جمعہ کو اس سے قبل صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری ایک پوسٹ میں بلانش کا دفاع کرتے ہوئے ان کی توثیق کا مطالبہ کیا اور ”اینٹی ویپنائزیشن“ فنڈ کا ذکر ایسے انداز میں کیا، جیسے وہ اب بھی موجود ہو۔
سینیٹر تھام ٹِلس نے کہا کہ ٹرمپ کی پوسٹ سے یہی تاثر ملا کہ وہ اس فنڈ کو اب بھی فعال سمجھتے ہیں۔
ٹِلس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا، ”صدر نے آج واضح کر دیا کہ نام نہاد ’اینٹی ویپنائزیشن فنڈ‘ اب بھی موجود ہے، اور یہی وجہ ہے کہ ہم اسے باضابطہ طور پر ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔“
ٹرمپ کے اس بیان پر، جس میں انہوں نے فنڈ کے ختم ہونے کا دعویٰ کیا، ٹِلس کے دفتر نے فوری طور پر تبصرے کی درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا۔
سینیٹر تھام ٹِلس نے کہا کہ وہ تعطل ختم کرنے کی کوششیں جاری رکھیں گے، تاہم ان کا الزام تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ”نااہل ذاتی مشیر“ نے معاملے کے تصفیے کی راہ میں رکاوٹ کھڑی کر رکھی ہے۔
معاملے سے واقف ایک ذریعے نے، جس نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی، بتایا کہ جان کارنن اور تھام ٹِلس، جن کی سینیٹ کی مدتِ رکنیت آئندہ جنوری کے آغاز میں ختم ہو رہی ہے، جمعرات کی سہ پہر ٹوڈ بلانش سے ملاقات کے بعد کسی سمجھوتے کے نسبتاً قریب پہنچ گئے تھے۔
صدر ٹرمپ کے سابق ذاتی وکیل ٹوڈ بلانش، جنہیں اپریل میں قائم مقام اٹارنی جنرل مقرر کیا گیا تھا، نے ریپبلکن سینیٹر جان کرٹس سے بھی ملاقات کی ہے۔
اگرچہ اس معاملے پر تعطل برقرار ہے، تاہم بلانش کو ممکنہ طور پر صدر ٹرمپ کی مدتِ صدارت کے اختتام تک مؤثر انداز میں ذمہ داریاں نبھانے کے لیے سینیٹ کی توثیق درکار نہیں ہوگی، کیونکہ امریکی قانون کے تحت قائم مقام عہدیدار اس وقت تک اپنے عہدے پر برقرار رہ سکتے ہیں جب تک ان کی نامزدگی سینیٹ میں زیرِ غور ہو اور اسے باضابطہ طور پر مسترد یا واپس نہ لیا جائے۔
”اینٹی ویپنائزیشن“ فنڈ صدر ٹرمپ اور امریکی محکمہ انصاف کے درمیان قانونی تصفیے کے حصے کے طور پر تجویز کیا گیا تھا تاکہ انٹرنل ریونیو سروس (آئی آر ایس) کے خلاف ٹرمپ کے 10 ارب ڈالر کے ہرجانے کے مقدمے کو نمٹایا جا سکے۔ ٹرمپ کا مؤقف تھا کہ آئی آر ایس نے ان کے ٹیکس ریکارڈ کو غلط انداز میں سنبھالا تھا، تاہم کانگریس میں ریپبلکن ارکان کی مخالفت کے باعث اس فنڈ پر عمل درآمد روک دیا گیا۔
اس فنڈ سے ٹرمپ کے ان اتحادیوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے جن کا دعویٰ ہے کہ 6 جنوری 2021 کو ٹرمپ کی 2020 کے صدارتی انتخاب میں شکست کے بعد امریکی کیپیٹل پر حملے میں مبینہ کردار کے باعث وفاقی حکومت نے انہیں غیر منصفانہ طور پر نشانہ بنایا۔
سینیٹر جان کارنن اور تھام ٹِلس نے آئی آر ایس کے اس معاہدے پر بھی اعتراض کیا ہے، جس کے تحت صدر ٹرمپ اور ان کے قریبی ساتھیوں کے ٹیکس آڈٹ نہ کیے جانے کی شق شامل ہے۔
صدر ٹرمپ نے لکھا کہ ”اس فنڈ سے مجھے کوئی فائدہ نہیں ہوگا بلکہ ان عظیم امریکی محبِ وطن شہریوں کو فائدہ پہنچے گا جن کا کتوں کی طرح پیچھا کیا گیا اور جن کی زندگیاں غیر منصفانہ اور غیر قانونی طور پر تباہ کر دی گئیں۔“
اس کے جواب میں سینیٹر ٹِلس نے کہا کہ جن افراد نے قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں پر حملے کیے، انہیں اب بھی جیل میں ہونا چاہیے اور انہیں وفاقی حکومت سے کسی قسم کی مالی ادائیگی نہیں ملنی چاہیے۔