کھیل

فیفا نے ورلڈ کپ میں نجی سرمایہ کاری کا متنازع منصوبہ واپس لے لیا

  • تجویز پر علاقائی کنفیڈریشنز کی جانب سے شدید ردِعمل سامنے آیا تھا
شائع اپ ڈیٹ

فیفا کو ہفتے کو ایک بار پھر شفافیت کے مطالبات کا سامنا کرنا پڑا، جب اس نے اچانک ورلڈ کپ کے تجارتی حقوق میں حصص فروخت کرنے کے منصوبے کو موخر کر دیا۔ اس تجویز پر علاقائی کنفیڈریشنز کی جانب سے شدید ردِعمل سامنے آیا تھا جن کا کہنا تھا کہ انہیں اس منصوبے سے بالکل بے خبر رکھا گیا۔

اس تیز رفتار یوٹرن نے عالمی فٹبال میں فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو کے طرزِ قیادت پر بڑھتی ہوئی بے چینی کو نمایاں کردیا ہے جبکہ فٹبال حکام ایسے فیصلوں پر زیادہ نگرانی کا مطالبہ کررہے ہیں جو کھیل کے انتظامی ڈھانچے اور تجارتی مستقبل کو نئی شکل دے سکتے ہیں۔

اس شدید ردِعمل نے انفانٹینو کی سیاسی ساکھ اور اثر و رسوخ کے حوالے سے بھی سوالات اٹھا دیے ہیں کیونکہ وہ فیفا کی صدارت کے لیے ایک اور مدت حاصل کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

فیفا کا منصوبہ تھا کہ ایک نئے یونٹ میں تقریباً 20 فیصد حصص نجی سرمایہ کاروں کو فروخت کرکے 4.2 ارب ڈالر تک حاصل کیے جائیں۔ یہ یونٹ ورلڈ کپ سمیت فیفا کے دیگر ایونٹس کا انتظام کرتا۔

اعلان کیے گئے اس منصوبے کو علاقائی کنفیڈریشنز کی جانب سے فوری طور پر شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی فٹبال کے تجارتی ڈھانچے کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھنے والے اس اقدام پر ان سے مشاورت نہیں کی گئی۔

شدید ردِعمل کے بعد انفانٹینو نے کہا کہ عالمی فٹبال کی گورننگ باڈی نے تمام آرا کو غور سے سننے کے بعد یہ منصوبہ ترک کردیا ہے۔

ایشین فٹبال کنفیڈریشن کے صدر شیخ سلمان بن ابراہیم الخلیفہ نے ہفتے کو فیفا کی جانب سے منصوبہ واپس لینے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا۔