مارکٹس

آٹو پالیسی کو حتمی شکل دینے میں تاخیر، پاپام کا اظہارِ تشویش

  • غیر یقینی صورتحال ملک کے آٹوموٹو مینوفیکچرنگ کے ایکو سسٹم کو منفی طور پر متاثر کررہی ہے، عثمان اسلم ملک
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان ایسوسی ایشن آف آٹوموٹو پارٹس اینڈ ایکسیسریز مینوفیکچررز (پاپام) نے پاکستان کی نئی آٹو انڈسٹری ڈیولپمنٹ پالیسی کو حتمی شکل دینے میں طویل تاخیر پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور خبردار کیا کہ جاری غیر یقینی صورتحال ملک کے آٹوموٹو مینوفیکچرنگ کے ایکو سسٹم کو منفی طور پر متاثر کررہی ہے۔

پاپام کے چیئرمین عثمان اسلم ملک نے ایک بیان میں کہا کہ نئی آٹو پالیسی کو حتمی شکل دینے میں تاخیر نے ایسوسی ایشن کی رکن صنعتوں میں شدید غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے جن میں سے بہت سی پہلے ہی کافی مالی اور آپریشنل چیلنجز کا سامنا کررہی ہیں۔

پاپام چیئرمین نے کہا کہ نئی آٹو انڈسٹری ڈیولپمنٹ پالیسی کو پاکستان کے آٹو پارٹس اور اجزاء کی مینوفیکچرنگ بیس کی ترقی اور مضبوطی کو ترجیح دینی چاہیے جو کہ ملک کی آٹوموٹو ویلیو چین کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پچھلی دو آٹو پالیسیوں کا بنیادی فوکس نئے گاڑیوں کے اسمبلرز کو راغب کرنا تھا، اگرچہ اس نقطہ نظر نے مارکیٹ میں آٹوموٹو برانڈز کی تعداد میں اضافہ کیا لیکن اس نے لوکلائزیشن، ملکی انجینئرنگ کی صلاحیتوں یا گھریلو ٹیکنالوجی کی ترقی کو کافی فروغ نہیں دیا جس کے نتیجے میں مقامی آٹو پارٹس مینوفیکچرنگ کا ایکو سسٹم کمزور ہو گیا۔

پاپام چیئرمین نے حکومتِ پاکستان پر زور دیا کہ وہ ایسی پالیسی اختیار کرے جس کا محور لوکلائزیشن، ٹیکنالوجی کی اپ گریڈیشن، انجینئرنگ صلاحیتوں میں اضافہ اور روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہو۔ انہوں نے زور دیا کہ اگر یہ اسٹریٹجک تبدیلی نہ لائی گئی تو پاکستان کو اپنے صنعتی ڈھانچے کے کمزور ہونے کا خطرہ لاحق ہوگا اور ملک مقامی مینوفیکچرنگ کو مضبوط بنانے کے بجائے درآمدی گاڑیوں اور پرزہ جات پر مزید انحصار کرنے لگے گا۔

پاپام کے چیئرمین نے مزید مطالبہ کیا کہ 10 سالہ طویل المدتی آٹو انڈسٹری ڈویلپمنٹ پالیسی متعارف کرائی جائے جو پالیسیوں میں تسلسل کو یقینی بنائے، سرمایہ کاروں کے اعتماد کو فروغ دے اور صنعت کو قابلِ پیش گوئی منصوبہ بندی کا موقع فراہم کرے تاکہ پائیدار ترقی اور صنعتی مسابقت کو تقویت مل سکے۔