کاروبار اور معیشت

اسٹیٹ بینک کا محتاط رویہ برقرار رہنے کا امکان، ایس اینڈ پی گلوبل مارکیٹ انٹیلی جنس

  • مہنگائی اب بھی مرکزی بینک کے ہدف کی حد سے اوپر ہے، احمد مبین
شائع اپ ڈیٹ

ایس اینڈ پی گلوبل مارکیٹ انٹیلیجنس کا کہنا ہے کہ بہتر ہوتے ہوئے معاشی اشاریوں کے باوجود پاکستان کی مانیٹری پالیسی کے محتاط رہنے کا امکان ہے کیونکہ مہنگائی کے دباؤ اور بیرونی خطرات اب بھی ملک کے معاشی منظرنامے کو متاثر کر رہے ہیں۔

یہ ریمارکس اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کی طرف سے مشرق وسطیٰ میں تنازع کے دوبارہ ابھرنے کے بعد بیرونی خطرات میں اضافے کا حوالہ دیتے ہوئے پالیسی ریٹ کو 11.5 فیصد پر برقرار رکھنے کے ایک دن بعد سامنے آئے۔

مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسٹیٹ بینک کے گورنر جمیل احمد نے کہا کہ محتاط مانیٹری پالیسی اور مالیاتی نظم و ضبط پر مبنی پیشگی معاشی انتظام نے مشکل عالمی حالات کے باوجود جاری سپلائی شاک سے مؤثر انداز میں نمٹنے اور ملکی معاشی استحکام کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

اسٹیٹ بینک کے اس تازہ ترین مانیٹری پالیسی فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے ایس اینڈ پی گلوبل مارکیٹ انٹیلیجنس کے پرنسپل اکنامسٹ احمد مبین نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے پالیسی ریٹ کو برقرار رکھنے کا فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک کا معاشی منظرنامہ نسبتاً زیادہ مستحکم ہوچکا ہے جسے قلیل مدتی بیرونی دباؤ میں کمی، معاشی سرگرمیوں کے اشاریوں میں بہتری اور کاروباری رجحان کے جائزوں میں بہتری کی حمایت حاصل ہے۔

تاہم مستقبل میں پالیسی کے محتاط رہنے کا امکان ہے کیونکہ مہنگائی اب بھی مرکزی بینک کے ہدف کی حد سے اوپر ہے جب کہ مشرق وسطیٰ میں دوبارہ شروع ہونے والی کشیدگی، اجناس کی غیر مستحکم قیمتوں اور خاص طور پر شدید ایل نینو کے جھٹکے کے امکانات کے خدشات معاشی منظر نامے پر مسلسل اثر انداز ہو رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ بیرونی مالیاتی ذخائر میں بھی بہتری آرہی ہے تاہم قرضوں کی ادائیگی کے دباؤ، سرکاری مالی معاونت اور قرضوں کے رول اوور پر انحصار کے باعث معاشی نظم و ضبط برقرار رکھنا بدستور نہایت اہم رہے گا۔

ایس اینڈ پی گلوبل مارکیٹ انٹیلیجنس نے مالی سال 2027 میں پاکستان کی حقیقی جی ڈی پی کی شرح نمو 3.5 فیصد رہنے کا تخمینہ لگایا ہے جس کی بنیاد معاشی بنیادی اشاریوں میں بہتری ہے۔تاہم ادارے کے مطابق اشیائے خام کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور شدید ایل نینو کے ممکنہ موسمی اثرات کے باعث ملکی معیشت کو اب بھی منفی خطرات کا سامنا رہے گا۔

فرم کو یہ بھی توقع ہے کہ مضبوط ترسیلاتِ زر اور طے شدہ سرکاری فنانسنگ کی مدد سے پاکستان کی بیرونی پوزیشن مزید مضبوط ہوگی۔

دریں اثنا دسمبر 2026 کے اختتام تک زرمبادلہ ذخائر 19.5 ارب ڈالر تک پہنچنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے جبکہ کیلنڈر سال 2026 میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے 0.7 فیصد اور کیلنڈر سال 2027 میں جی ڈی پی کے 0.9 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔