پاکستان کا یورپی یونین کی جی ایس پی پلس اسکیم کے ساتھ تعلق ایک مانوس طرزِ عمل اختیار کرچکا ہے۔

ہر مانیٹرنگ سائیکل انسانی حقوق کے وعدوں پر عمل درآمد کے حوالے سے نئے انتباہات سامنے لاتی ہے، ہر جائزہ ملک کی مسلسل اہلیت کے بارے میں خدشات بڑھاتا ہے اور ہر بار پاکستان سفارتی رابطوں کے ایک بے چین دور کے بعد تجارتی مراعات برقرار رکھنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔

تازہ ترین رپورٹ بھی تقریباً اسی طرز کی عکاسی کرتی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ اب ایک ایسی معیشت کے لیے داؤ کہیں زیادہ بلند ہو چکے ہیں جس کے پاس ایک دہائی پہلے کے مقابلے میں متبادل راستے بہت کم رہ گئے ہیں۔

خطرے میں کیا ہے، اس بارے میں کوئی غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے

2014 میں جی ایس پی پلس انتظام میں شمولیت کے بعد سے پاکستان کو دنیا کی بڑی برآمدی منڈیوں میں سے ایک تک ترجیحی رسائی حاصل ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار اس کی اہمیت کو واضح کرتے ہیں۔ پاکستان نے 2024 میں یورپی یونین کو جی ایس پی پلس کے تحت آنے والی 7.5 ارب یورو مالیت کی اشیاء برآمد کیں جن پر ٹیرف کی ترجیحات کا تخمینہ 732 ملین یورو لگایا گیا۔ ایک ایسی معیشت کے لیے جو مناسب زرمبادلہ پیدا کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہی ہے، یہ معمولی فوائد نہیں ہیں۔ بلکہ یہ ان بنیادی ستونوں میں شامل ہیں جو ملک کے کمزور بیرونی شعبے کو سہارا دے رہے ہیں۔

یہ انحصار مزید بڑھ گیا

کئی برسوں سے مصنوعات میں تنوع، مسابقتی صلاحیت بہتر بنانے اور نئی منڈیوں تک رسائی کے وعدوں کے باوجود پاکستان کی برآمدی کارکردگی مسلسل مایوس کن رہی ہے۔ بیرونی کھاتے کی مالی ضروریات پوری کرنے کا غیر متناسب بوجھ اب بھی ترسیلاتِ زر اٹھارہی ہیں جبکہ برآمدات 24 کروڑ سے زائد آبادی والی معیشت کی ضروریات کے مطابق رفتار سے بڑھنے میں بار بار ناکام رہی ہیں۔ ایسے حالات میں یورپی منڈی تک ترجیحی رسائی کا خاتمہ پاکستان کے لیے ایک شدید معاشی دھچکا ثابت ہوگا جسے برداشت کرنے کے لیے ملک فی الحال مناسب طور پر تیار نہیں۔

یورپی یونین کے تحفظات پر سنجیدہ غور کی ضرورت

تازہ ترین مانیٹرنگ رپورٹ میں قانون کی حکمرانی، آزادی اظہار، جبری گمشدگیوں، عدالتی خودمختاری اور احتساب سے متعلق مسائل کی نشاندہی کی گئی ہے، تاہم اقلیتوں کے حقوق سے متعلق قانون سازی، انسدادِ تشدد ایکٹ کے نفاذ کے قواعد اور سزائے موت پر مسلسل پابندی جیسے شعبوں میں پیش رفت کو بھی تسلیم کیا گیا ہے۔ اسلام آباد ان تمام مشاہدات سے اتفاق کرتا ہے یا نہیں، یہ معاملہ ثانوی حیثیت رکھتا ہے۔ زیادہ اہم حقیقت یہ ہے کہ یہ جائزے 2027 کے بعد نظرثانی شدہ جی ایس پی پلس فریم ورک میں پاکستان کی مسلسل شمولیت سے متعلق مستقبل کے فیصلوں پر اثر انداز ہوں گے۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے جب پاکستان اس دوراہے پر کھڑا ہو

جی ایس پی پلس کے ہر جائزے میں اس انتظام کے تحت بین الاقوامی کنونشنز پر عمل درآمد سے متعلق مشکل مذاکرات ہوتے رہے ہیں۔ یہ اسکیم کی اپنی ساخت کا لازمی حصہ ہے۔ ترجیحی منڈی تک رسائی بلاشرط فراہم نہیں کی جاتی۔ یہ ان وعدوں کی بنیاد پر دی جاتی ہے جو شامل ہونے والے ممالک رکنیت اختیار کرتے وقت رضاکارانہ طور پر قبول کرتے ہیں۔ ایک بار جب یہ وعدے تسلیم کر لیے جائیں تو ان پر عمل درآمد قانونی اور معاشی دونوں حوالوں سے ذمہ داری بن جاتا ہے۔

ایک وسیع تر سبق بھی ہے

پاکستان ہمیشہ کیلئے ترجیحی تجارتی انتظامات پر انحصار جاری نہیں رکھ سکتا جبکہ وہ ان ساختی اصلاحات کو مؤخر کرتا رہے جو اس کے برآمدی شعبے کو اپنی صلاحیتوں کی بنیاد پر عالمی سطح پر مسابقتی بنانے کے لیے ضروری ہیں۔ جی ایس پی پلس نے بلاشبہ برآمد کنندگان، خصوصاً ٹیکسٹائل صنعت کو قیمتی سہارا فراہم کیا ہے، تاہم ترجیحی رسائی کا مقصد ہمیشہ ایک موقع فراہم کرنا تھا، نہ کہ مسابقتی صلاحیت کا مستقل متبادل بننا۔ پاکستان کو اب بھی اپنی برآمدی بنیاد کو وسیع کرنے، پیداواری صلاحیت بہتر بنانے اور چند مخصوص شعبوں اور منڈیوں پر حد سے زیادہ انحصار کم کرنے کی ضرورت ہے۔

طویل مدتی چیلنج اپنی جگہ، فوری خطرے کی اہمیت برقرار

حکومت کو یورپی یونین کے تازہ ترین مشاہدات کو سنجیدگی اور مسلسل رابطے کے ساتھ لینا چاہیے۔ جہاں واقعی خامیاں موجود ہیں وہاں اصلاحی اقدامات کیے جانے چاہئیں۔ جہاں پاکستان کو یقین ہے کہ اس کی پیش رفت کو نظر انداز کیا گیا ہے، وہاں اسے قابلِ اعتماد شواہد کے ساتھ تعمیری سفارت کاری کے ذریعے اپنا مؤقف پیش کرنا چاہیے۔ نہ تصادم اور نہ ہی خود اطمینانی قومی مفاد میں ہے۔

پاکستان نے ماضی کے جی ایس پی پلس جائزوں کو کامیابی سے عبور کیا ہے جو اکثر کافی غیر یقینی صورتحال کے دور کے بعد ہوئے۔ اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ مستقبل کے جائزے بھی اتنے ہی لچکدار ثابت ہوں گے۔ 2027 سے نافذ ہونے والا نظرثانی شدہ فریم ورک تعمیل اور قابلِ پیمائش نتائج پر اس سے بھی زیادہ زور دینے کی توقع رکھتا ہے۔

ملک کے معاشی حالات غیر ضروری خطرے کی گنجائش بہت کم چھوڑتے ہیں۔ ایسے وقت میں جب برآمدات کمزور ہیں، غیر ملکی سرمایہ کاری ماند پڑی ہے اور ترسیلاتِ زر بیرونی بوجھ کا ایک بڑا حصہ اٹھا رہی ہیں، یورپی منڈی تک ترجیحی رسائی کا تحفظ حکومت کی اعلیٰ ترین معاشی ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026