اپنا گھر اسکیم، جون 2027 تک ڈیڑھ لاکھ گھروں کی فنانسنگ کا ہدف
- اپنا گھر اسکیم کے لیے 71 ارب روپے کی سبسڈی مختص کی ہے
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں وزیراعظم کے اپنا گھر اسکیم کے لیے 71 ارب روپے کی سبسڈی مختص کی ہے، جبکہ جون 2027 تک ڈیڑھ لاکھ گھروں کی فنانسنگ کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
ہاؤسنگ فنانس سے متعلق میڈیا بریفنگ کے دوران اسٹیٹ بینک کے اسلامی فنانس گروپ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر غلام محمد عباسی نے کہا کہ وزیراعظم کا اپنا گھر اسکیم پاکستان میں رہائشی یونٹس کی بڑھتی ہوئی کمی کو پورا کرنے کے لیے کم اور متوسط آمدنی والے خاندانوں کو سستی مالی سہولت فراہم کرنے کا منصوبہ ہے۔
اس موقع پر اسٹیٹ بینک کے ڈائریکٹر نور احمد، ایڈیشنل ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد سلیم، خبیب عثمانی اور میڈیا اینڈ پبلک ریلیشنز ڈویژن کے سیف اللہ خان بھی موجود تھے۔
غلام محمد عباسی نے کہا کہ اگرچہ اسکیم کی پیش رفت توقع سے سست ہے، تاہم اسٹیٹ بینک اور شریک بینک قرضوں کی فراہمی کا عمل تیز کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں تاکہ مالی سال 2026-27 کے اختتام تک ڈیڑھ لاکھ گھروں کی فنانسنگ کا ہدف حاصل کیا جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ اسکیم کے آغاز سے اب تک بینک 27 ارب روپے کے ہاؤسنگ قرضے جاری کر چکے ہیں۔ 30 جون 2026 تک مجموعی ہاؤسنگ فنانسنگ 293 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے، جس سے 65,414 قرض لینے والے مستفید ہوئے۔ اس میں کمرشل بینکوں نے 262 ارب روپے جبکہ مائیکرو فنانس بینکوں نے 36.1 ارب روپے کے قرضے فراہم کیے۔
انہوں نے بتایا کہ اسکیم کے آغاز سے اب تک تقریباً 107,000 درخواستیں موصول ہوئیں، جن میں سے 27,000 منظور، 13,000 مسترد جبکہ باقی درخواستیں زیرِ کارروائی ہیں۔ درخواستیں مسترد ہونے کی بڑی وجوہات میں قرض نادہندگی، کمزور کریڈٹ ہسٹری اور درخواست گزاروں کی جانب سے درخواست واپس لینا شامل ہیں۔
غلام محمد عباسی نے کہا کہ بجٹ میں 71 ارب روپے کی سبسڈی حکومت کے سستے گھروں کے فروغ کے عزم کی عکاس ہے اور امید ظاہر کی کہ اضافی سبسڈی اور بینکاری شعبے کے تعاون سے ہدف حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اس وقت تقریباً ایک کروڑ رہائشی یونٹس کی کمی کا سامنا ہے، جبکہ ہر سال مزید تقریباً 3 لاکھ 50 ہزار گھروں کی ضرورت بڑھ رہی ہے، جس سے کم لاگت ہاؤسنگ فنانس کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ ، اوورسیز پاکستانی شناختی کارڈ اور پاکستان اوریجن کارڈ رکھنے والے افراد اسکیم کے لیے درخواست دینے کے اہل ہیں۔
اسکیم کے تحت درخواست گزار تعمیر شدہ مکان، اپارٹمنٹ یا پلاٹ خریدنے، یا اپنے ذاتی پلاٹ پر گھر تعمیر کرنے کے لیے ایک کروڑ روپے تک کی فنانسنگ حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ سہولت 250 مربع گز تک کے گھروں اور 1,500 مربع فٹ تک کے اپارٹمنٹس کے لیے دستیاب ہوگی۔
شریک بینک 20 سالہ مدت کے لیے قرض فراہم کریں گے، جبکہ پہلے 10 برس تک قرض لینے والوں سے صرف 5 فیصد مقررہ مارک اپ وصول کیا جائے گا تاکہ گھر کی خریداری مزید آسان بنائی جا سکے۔
غلام محمد عباسی نے کہا کہ درخواست دہندگان کی سہولت کے لیے آن لائن پورٹل متعارف کرا دیا گیا ہے، جبکہ ہاؤسنگ فنانس سے متعلق مسائل کے حل کے لیے جلد ہی ہیلپ لائن بھی شروع کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک نے بینکوں کو ہدایت کی ہے کہ اسکیم کے تحت کوئی پروسیسنگ فیس وصول نہ کی جائے اور ہر درخواست پر 15 دن کے اندر فیصلہ کیا جائے۔
انہوں نے بتایا کہ تنخواہ دار افراد صرف اپنی تنخواہ کی سلپ جمع کرا کے درخواست دے سکتے ہیں، جبکہ دکان دار، فری لانسرز اور غیر رسمی شعبے سے وابستہ افراد بینک اسٹیٹمنٹ، بجلی کے بل، موبائل ٹاپ اپ ریکارڈ اور دیگر متبادل مالی دستاویزات کی بنیاد پر بھی درخواست دے سکیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسکیم کی ایک اہم خصوصیت یہ بھی ہے کہ قرض لینے والے مقررہ مدت سے پہلے بغیر کسی اضافی جرمانے کے اپنا قرض مکمل طور پر واپس ادا کر سکتے ہیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026