کاروبار اور معیشت

ماہرین کا موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے انشورنس کے فروغ پر زور

  • ممکنہ نقصانات کا حجم ملکی انشورنس صنعت کی تنہا برداشت سے کہیں زیادہ ہے
شائع اپ ڈیٹ

انشورنس شعبے کے ماہرین نے موسمیاتی تبدیلی اور قدرتی آفات سے پیدا ہونے والے بڑھتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لیے حکومت اور انشورنس صنعت کے درمیان مضبوط تعاون پر زور دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ممکنہ نقصانات کا حجم اتنا زیادہ ہے کہ ملکی انشورنس صنعت تنہا اس کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتی۔

کراچی میں منعقدہ پہلی بین الاقوامی انشورنس کانفرنس کے دوران ”موسمیاتی اور قدرتی آفات کی انشورنس“ کے موضوع پر ہونے والے پینل مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے انشورنس اور ری انشورنس شعبے کے نمائندوں نے کہا کہ پاکستان موسمیاتی آفات کے حوالے سے انتہائی غیر محفوظ ممالک میں شامل ہے، اس لیے حکومت، انشورنس کمپنیوں اور بین الاقوامی ری انشورنس اداروں پر مشتمل جامع خطرہ بانٹنے کا نظام ناگزیر ہے۔

جوبلی لائف انشورنس کے منیجنگ ڈائریکٹر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر جاوید احمد نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث گزشتہ ایک دہائی کے دوران پاکستان کو اوسطاً ہر سال تقریباً 1.3 ارب ڈالر کی زرعی نقصان اٹھانا پڑا۔ تاہم ان نقصانات کا حجم اتنا بڑا ہے کہ حکومت کی فعال معاونت کے بغیر مقامی انشورنس صنعت کے لیے اس کی انڈر رائٹنگ ممکن نہیں۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال تباہ کن سیلاب کے باعث ملک کو 3 ارب ڈالر سے زائد کے زرعی نقصانات برداشت کرنا پڑے، جو پاکستان کی انشورنس صنعت کی سالانہ مجموعی پریمیم آمدن سے تقریباً تین گنا زیادہ تھے۔ ان کے مطابق یہ صورتحال قومی سطح پر خطرات کی تقسیم کے مؤثر نظام کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہے۔

جاوید احمد نے کہا کہ عوام میں انشورنس سے متعلق آگاہی کا فقدان اس شعبے کو درپیش سب سے بڑے مسائل میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ سال انشورنس کمپنیوں نے 300 ارب روپے سے زائد کے کلیمز ادا کیے۔

انہوں نے کہا، ”انشورنس کو صرف ایک اضافی خرچ نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ یہ خطرات کے انتظام، مستقبل کے اہداف کے تحفظ اور مالی سلامتی یقینی بنانے کا ایک مؤثر مالیاتی آلہ ہے۔“

ای ایف یو جنرل انشورنس کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور منیجنگ ڈائریکٹر کامران ارشد انعام نے کہا کہ موسمیاتی خطرات سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے پاکستان کو حکومت، نجی انشورنس کمپنیوں اور بین الاقوامی ری انشورنس اداروں پر مشتمل قومی انشورنس پول قائم کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ برسوں میں اس نوعیت کے اشتراکی ماڈل کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے سندھ میں تیسرے فریق کی لازمی موٹر گاڑی انشورنس اسکیم کو سرکاری اور نجی شعبے کے کامیاب تعاون کی مثال قرار دیا۔

گائے کارپنٹر کے سینئر نائب صدر جوہان تھورپ نے کہا کہ حکومت کو ملک میں انشورنس کے فروغ کے لیے اپنا کردار مزید مضبوط بنانا چاہیے، جبکہ ریگولیٹری ادارے کو بھی زیادہ بااختیار بنایا جائے تاکہ پالیسی ہولڈرز کے مفادات کا تحفظ، شفافیت، اعتماد اور انشورنس نظام پر عوامی بھروسہ مزید مستحکم ہو۔

انہوں نے کہا کہ موسمیاتی خطرات کے ساتھ ساتھ سائبر خطرات بھی عالمی سطح پر ایک بڑا چیلنج بن چکے ہیں کیونکہ سائبر حملوں اور آن لائن فراڈ کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کو سائبر انشورنس اور سائبر خطرات کے انتظام کے مؤثر نظام بھی وضع کرنے ہوں گے۔

جوہان تھورپ نے انشورنس کمپنیوں پر زور دیا کہ وہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے استفادہ کرتے ہوئے اپنی مصنوعات اور کلیمز کے عمل کو مزید آسان بنائیں تاکہ کارکردگی، شفافیت اور صارفین کے تجربے میں بہتری لائی جا سکے۔

بدرہ مینجمنٹ کنسلٹنسی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر حاتم مسکاوالا نے کہا کہ پاکستان کی انشورنس صنعت کو اب بھی کئی ساختی مسائل کا سامنا ہے، جن میں عوام کا کمزور اعتماد، مذہبی تحفظات، اور دستاویزی نظام و ریکارڈ رکھنے کی خامیاں شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ انشورنس کمپنیاں تیزی سے ڈیجیٹل ذرائع اپنا رہی ہیں، تاہم کاروباری اثاثوں سے متعلق قابلِ اعتماد دستاویزات کے فقدان کے باعث تجارتی انشورنس کی انڈر رائٹنگ میں مشکلات پیش آتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عوام کا اعتماد بحال کرنے کے لیے روایتی انشورنس کمپنیوں اور تکافل اداروں، دونوں کو کلیمز کی بروقت ادائیگی یقینی بنانا ہوگی اور پالیسی ہولڈرز سے کیے گئے اپنے وعدوں کی ہر حال میں پاسداری کرنا ہوگی۔