کاروبار اور معیشت

ایس اینڈ پی نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ بہتر کردی

  • حکومت کی جانب سے ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کی کوششوں سے محصولات کی وصولی میں بہتری آئی ہے، ایجنسی
شائع اپ ڈیٹ

عالمی ریٹنگ ایجنسی ایس اینڈ پی گلوبل نے بدھ کو پاکستان کی طویل مدتی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ کو مائنس بی سے بڑھا کر بی کردیا۔ ایجنسی نے اس بہتری کی وجہ ادارہ جاتی استحکام اور آئی ایم ایف پروگرام کے تحت اصلاحات پر مؤثر عملدرآمد کو قرار دیا۔

ایس اینڈ پی نے کہا کہ مستحکم آؤٹ لک پاکستان کے بہتر سیاسی اور ادارہ جاتی ماحول کے بارے میں ہمارے نظریے کی عکاسی کرتا ہے۔ پائیدار معاشی اصلاحات مستحکم ترقی اور مالیاتی استحکام کے ایک طویل دور کا باعث بنیں گی۔

ایس اینڈ پی نے کہا کہ ہمیں توقع ہے کہ سرکاری ذرائع سے مسلسل مالی معاونت پاکستان کو اپنی بیرونی مالی ذمہ داریاں پوری کرنے میں مدد فراہم کرے گی جبکہ آئندہ 12 ماہ کے دوران ملک اپنی کمرشل کریڈٹ لائنز کی تجدید بھی جاری رکھنے میں کامیاب رہے گا۔

ایجنسی نے کہا کہ حکومت کی جانب سے ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کی کوششوں سے محصولات کی وصولی میں بہتری آئی اور مالیاتی استحکام کا عمل تیز ہوا جس کے نتیجے میں قرضوں کے بوجھ میں بتدریج کمی کی راہ ہموار ہوئی ہے۔

ایس اینڈ پی کے مطابق آئی ایم ایف کی حمایت سے نافذ کی جانے والی اصلاحات نے پاکستان میں معاشی استحکام کی بحالی، زرمبادلہ ذخائر میں اضافے اور مالیاتی و بیرونی شعبوں پر موجود دباؤ کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

جی ڈی پی کی شرح نمو 3.5 فیصد

عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی ایس اینڈ پی (ایس اینڈ پی) نے مالی سال 2027 کے لیے پاکستان کی جی ڈی پی (مجموعی قومی پیداوار) کی شرح نمو 3.5 فیصد رہنے کا تخمینہ ظاہر کیا ہے۔ ایجنسی کے مطابق اس نمو کو آئی ایم ایف پروگرام کی اصلاحات اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کے باعث توانائی کے بحران سے پیدا ہونے والے معمولی قیمتوں کے دباؤ کی مدد حاصل ہوگی۔ایس اینڈ پی نے نوٹ کیا کہ پاکستان میں سیاسی غیر یقینی صورتحال میں کچھ حد تک کمی آئی ہے۔ ایجنسی کا کہنا تھا کہ فروری 2024 کے عام انتخابات کے بعد سے مخلوط حکومت اصلاحات کو آگے بڑھانے اور بغیر کسی بڑے عوامی دباؤ کے آئی ایم ایف پروگرام کے اہداف کو پورا کرنے میں کامیاب رہی ہے۔ اصلاحات پر پیشرفت سے اخراجات پر قابو رکھنے اور ٹیکس آمدنی کا دائرہ کار بڑھانے کی بہتر صلاحیت کا پتہ چلتا ہے۔ تاہم ایجنسی نے خبردار کیا کہ پاکستان کو اب بھی اندرونی و بیرونی سیکیورٹی کے خطرات کا سامنا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ 2010 کی دہائی کے اوائل سے ملک کی سیکیورٹی صورتحال میں بہتری آئی ہے، لیکن حالات خراب ہونے کے امکانات موجود ہیں۔ بھارت اور افغانستان کے ساتھ سرحدی کشیدگی، جیسا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران نظر آیا، غلط فہمیوں اور ناگہانی جھڑپوں کا سبب بن سکتی ہے جو کریڈٹ کے خطرات کو بڑھا سکتی ہیں۔

ریٹنگ میں بہتری ”اعتماد کا ووٹ“ ہے

مشیرِ خزانہ خرم شہزاد نے ریٹنگ میں اس بہتری کو پاکستان کی معاشی بحالی پر ایک اور بڑا اعتماد کا ووٹ قرار دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان آخری بار 2016-17 کے دوران ”بی“ سوورن ریٹنگ پر تھا۔

سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر اپنے ایک پیغام میں انہوں نے کہا کہ ایس اینڈ پی نے پاکستان کی مضبوط ہوتی ہوئی ادارہ جاتی صلاحیت، اہم معاشی اصلاحات پر کامیاب عملدرآمد، تیز تر مالیاتی استحکام، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور مستحکم میکرو اکنامک صورتحال کو ریٹنگ میں بہتری کی بنیادی وجوہات قرار دیا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا: یہ مستحکم نقطہ نظر اس اعتماد کی عکاسی کرتا ہے کہ مسلسل اصلاحات سے پائیدار معاشی نمو اور مالیاتی نظم و ضبط برقرار رہے گا۔