اسٹاک ایکسچینج میں اتار چڑھاؤ، 100 انڈیکس معمولی اضافے پر بند
- کے ایس ای 100 انڈیکس 175,927.73 کی سطح پر بند
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں پیر کو کاروبار کے دوران شدید اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا جہاں 100 انڈیکس تیزی اور مندی کے درمیان جھولتا رہا، تاہم کاروبار کے اختتام پر معمولی اضافے کے ساتھ بند ہوا۔
تفصیلات کے مطابق اسٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز مندی سے ہوا، فروخت کا دباؤ غالب آنے سے ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر 100 انڈیکس 174,000 کی سطح سے گر کر 173,636.45 کی کم ترین سطح پر آگیا۔
بعد ازاں خریداری کا رجحان بتدریج بحال ہوا جس سے مارکیٹ نے کاروباری سیشن کے دوسرے نصف میں سنبھلنا شروع کردیا۔ دوپہر کے بعد بحالی کی رفتار تیز ہوئی اور 100 انڈیکس 176,000 پوائنٹس کی سطح عبور کرتے ہوئے دن کی بلند ترین سطح 176,129.35 پوائنٹس پر جاپہنچا، بعد ازاں منافع کے حصول کے لیے فروخت بڑھنے سے انڈیکس کی کچھ تیزی محدود ہوگئی۔
کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک انڈیکس 124.95 پوائنٹس یا 0.07 فیصد کے اضافے سے 175,927.73 پر بند ہوا۔
بروکریج ہاؤس ”ٹاپ لائن سیکورٹیز“ نے مارکیٹ کے اختتام پر جاری اپنی رپورٹ میں بتایا کہ سیشن کے دوران مارکیٹ میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھا گیا، جو کہ برقرار علاقائی و جغرافیائی سیاسی تناؤ اور عالمی توانائی کی مارکیٹوں میں غیر یقینی صورتحال کے باعث سرمایہ کاروں کے محتاط رویے کی عکاسی کرتا ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ شعبہ جاتی لحاظ سے بینکنگ اور ریفائنری کے شیئرز نے مارکیٹ کو سنبھالنے میں کلیدی کردار ادا کیا، جبکہ انڈیکس کے دیگر بڑے اور بھاری شیئرز میں منتخب خریداری نے بینچ مارک انڈیکس کو اضافی مدد فراہم کی، اس کے باوجود مارکیٹ کے مجموعی رجحانات محتاط رہے کیونکہ سرمایہ کار جغرافیائی سیاسی صورتحال اور خام تیل کی قیمتوں سمیت غیر ملکی سرمایہ کاری کی آمد پر اس کے ممکنہ اثرات کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں۔ ٹاپ لائن سیکورٹیز کے مطابق انڈیکس میں مثبت شراکت داری کے لحاظ سے یو بی ایل، اٹک ریفائنری، سائنرجی، اینگرو ہائیڈرو کاربن اور حب پاور کمپنی سرِفہرست رہے، جنہوں نے مجموعی طور پر بینچ مارک انڈیکس میں تقریباً 338 پوائنٹس کا اضافہ کیا۔
گزشتہ ہفتے اسٹاک ایکسچینج شدید فروخت کے دباؤ کی زد میں رہی کیونکہ خطے میں بڑھتی جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تیز اضافے نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کیا جس کے باعث مارکیٹ مسلسل دوسرے ہفتے بھی مندی کا شکار رہی۔
ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق بینچ مارک 100 انڈیکس 3.5 فیصد یا 6,438.97 پوائنٹس کی کمی سے 175,802.80 پوائنٹس پر بند ہوا۔
عالمی سطح پر پیر کو ایشیائی شیئر بازاروں میں مندی دیکھی گئی کیونکہ خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا جس سے مہنگائی کے خدشات بڑھ گئے۔ دوسری جانب بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے مالی نتائج کے مصروف ہفتے کے آغاز نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے متعلق سرمایہ کاروں کے اعتماد کا بھی امتحان شروع کردیا۔
عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک ماہ سے زائد عرصے میں پہلی بار 90 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی کیونکہ امریکی فوج نے ایران کے خلاف مسلسل نویں روز بھی حملے جاری رکھے جبکہ ایران نے بھی جواباً خطے میں مختلف اہداف کو نشانہ بنایا۔
اتوار کو آبنائے ہرمز سے صرف چند بحری جہاز گزرے جن میں سے ایک جہاز میں آگ لگنے کی بھی اطلاع ملی۔
اس صورتحال کے باعث برینٹ خام تیل کی قیمت 2.6 فیصد اضافے کے ساتھ 90.40 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی جبکہ امریکی خام تیل (ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ) کی قیمت 2.3 فیصد بڑھ کر 84.39 ڈالر فی بیرل ہو گئی۔
ایندھن کی قیمتوں میں اس اضافے نے مہنگائی کے خدشات کو ایک بار پھر بڑھا دیا حالانکہ گزشتہ ہفتے امریکہ کے صارفین کی مہنگائی (سی پی آئی) کے اعدادوشمار توقعات سے کم رہے تھے۔ اس کے باوجود فیوچر مارکیٹس اب سال کے اختتام تک امریکی مرکزی بینک (فیڈرل ریزرو) کی جانب سے مجموعی طور پر 29 بیسس پوائنٹس تک شرح سود میں اضافے کا امکان ظاہر کر رہی ہیں۔
فیوچر مارکیٹس کے مطابق ستمبر ہی میں شرحِ سود میں اضافے کا امکان 60 فیصد تک پہنچ گیا جس کے باعث 30 سالہ امریکی ٹریژری بانڈز کی ییلڈ دوبارہ نفسیاتی حد 5 فیصد سے تجاوز کر گئی ہے۔ ییلڈ کی یہ سطح عموماً سرمایہ کاروں کو حصص بازار سے سرمایہ نکال کر مقررہ آمدنی والے اثاثوں (فکسڈ اِنکم) کی جانب راغب کرتی ہے جبکہ مستقبل میں کمپنیوں کی متوقع آمدنی کی قدر (ویلیوایشن) کے لیے بھی معیار مزید سخت ہو جاتا ہے۔
یہ رجحان ایسے وقت میں سامنے آیا جب سرمایہ کار چِپ ساز اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے وابستہ کمپنیوں کے غیر معمولی بلند ویلیوایشن پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔ گزشتہ ہفتے فلاڈیلفیا سیمی کنڈکٹر انڈیکس میں 10 فیصد کمی ہوئی جس کے بعد یہ جون میں ریکارڈ بلند سطح سے مجموعی طور پر 20 فیصد نیچے آ گیا۔
جاپان کا نکئی انڈیکس تعطیل کے باعث بند رہا جبکہ گزشتہ ہفتے ٹیکنالوجی شیئرز کی قیادت میں ہونے والی شدید فروخت کے نتیجے میں اس میں 6.4 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔ دوسری جانب جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک خطے کے حصص پر مشتمل ایم ایس سی آئی کا وسیع ترین انڈیکس 0.3 فیصد گر گیا جبکہ چین کے بلیو چِپ شیئرز میں 1.4 فیصد اضافہ ہوا۔
ادھر جنوبی کوریا کی چِپ ساز کمپنیوں پر مشتمل مارکیٹ میں مزید 4.2 فیصد کمی دیکھی گئی جبکہ گزشتہ ہفتے شدید اتار چڑھاؤ کے دوران لیوریجڈ پوزیشنز رکھنے والے ریٹیل سرمایہ کاروں کے مارکیٹ سے نکلنے کے باعث یہ مارکیٹ تقریباً 9 فیصد گرگئی تھی۔
دوسری جانب پیر کو امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں بہتری کا سلسلہ جاری رہا۔ مقامی کرنسی ڈالر کے مقابلے میں 1 پیسہ (0.01 روپے) کی معمولی برتری کے ساتھ 277.95 روپے پر بند ہوئی۔پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آل شیئرز انڈیکس کے کاروباری حجم (والیم) میں اضافہ دیکھا گیا اور یہ گزشتہ سیشن کے 62 کروڑ 10 لاکھ (621.02 ملین) شیئرز سے بڑھ کر 67 کروڑ 59 لاکھ (675.92 ملین) شیئرز تک پہنچ گیا۔ اسی طرح شیئرز کی مجموعی مالیت بھی گزشتہ سیشن کے 29 ارب 88 کروڑ (29.88 ارب) روپے سے بڑھ کر 30 ارب 27 کروڑ (30.27 ارب) روپے ریکارڈ کی گئی۔
کاروباری حجم کے لحاظ سے سائنرجی پی کے 16 کروڑ 60 لاکھ (166.06 ملین) شیئرز کے ساتھ سرِفہرست رہی، جس کے بعد پاک ریفائنری 4 کروڑ 91 لاکھ (49.16 ملین) شیئرز اور ٹی پی ایل پراپرٹیز 3 کروڑ 84 لاکھ (38.44 ملین) شیئرز کے ساتھ دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہیں۔
پیر کو مارکیٹ میں مجموعی طور پر 492 کمپنیوں کے شیئرز کا کاروبار ہوا، جن میں سے 165 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتوں میں اضافہ اور 277 کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ 50 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتیں مستحکم رہیں۔