کمزور انٹرنیٹ اور کیش لیس معیشت
- ڈیجیٹل لین دین کے لیے مستحکم انٹرنیٹ ضروری ہے۔ آن لائن بینکنگ کے لیے بلا تعطل کنیکٹیویٹی درکار ہوتی ہے
غیر معتبر انٹرنیٹ پر کیش لیس معیشت تعمیر نہیں کی جا سکتی۔ یہی تلخ حقیقت دو ایسی پیش رفتوں کے مرکز میں موجود ہے جو ایک ہی دن سامنے آئیں۔
ایک جانب وزیراعظم نے حال ہی میں اور بڑے فخر کے ساتھ ادائیگیوں کو ڈیجیٹل بنانے کے حوالے سے پاکستان کی پیش رفت کو اجاگر کیا اور متعلقہ حکام پر زور دیا کہ وہ ملک کی کیش لیس معیشت کی جانب منتقلی کے عمل کو تیز کریں۔ دوسری جانب ایک پارلیمانی کمیٹی کو بتایا گیا کہ ناقص انٹرنیٹ معیار نہ صرف دور دراز علاقوں بلکہ بڑے شہروں میں بھی ایک مستقل مسئلہ بنا ہوا ہے، جہاں طویل بجلی بندش، کمزور انفراسٹرکچر اور سست کنیکٹیویٹی ٹیلی کام خدمات کو متاثر کر رہی ہے۔ یہ دونوں پیش رفتیں مل کر خواہشات اور عملی نفاذ کے درمیان موجود فرق کو بے نقاب کرتی ہیں۔
حکومت کے عزائم قابل حمایت ہیں۔ ڈیجیٹل ادائیگیوں کا فروغ شفافیت میں اضافہ کرتا ہے، مالی شمولیت کو وسعت دیتا ہے، غیر رسمی معیشت کو محدود کرتا ہے اور تجارتی لین دین کو زیادہ تیز اور مؤثر بناتا ہے۔ کیو آر کوڈ استعمال کرنے والے تاجروں کی تعداد میں اضافہ، موبائل بینکنگ صارفین کی بڑھتی ہوئی تعداد، ڈیجیٹل ترسیلاتِ زر میں اضافہ اور راست ادائیگی نظام کی توسیع حقیقی پیش رفت کی عکاسی کرتے ہیں۔ پاکستان اس بات کا متحمل نہیں ہو سکتا کہ دنیا تیزی سے ڈیجیٹل مالیاتی نظام کی طرف بڑھتی رہے اور وہ بدستور نقدی پر مبنی معیشت بنا رہے۔
تاہم، پیش رفت کا انحصار صرف پالیسی پر نہیں بلکہ انفراسٹرکچر پر بھی اتنا ہی ہے۔
ڈیجیٹل لین دین کے لیے مستحکم انٹرنیٹ ضروری ہے۔ آن لائن بینکنگ کے لیے بلا تعطل کنیکٹیویٹی درکار ہوتی ہے۔ ای کامرس کا انحصار قابلِ اعتماد براڈبینڈ پر ہے۔ ڈیجیٹل والٹس، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، ریموٹ ورک، مصنوعی ذہانت اور سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ سب اس مفروضے پر قائم ہیں کہ صارفین بار بار تعطل کے بغیر مسلسل منسلک رہ سکیں گے۔ جب انٹرنیٹ کی رفتار غیر متوقع انداز میں کم یا زیادہ ہونے لگے یا معمول کی بجلی بندش کے دوران موبائل نیٹ ورکس متاثر ہوں تو پورا ڈیجیٹل نظام مشکلات کا شکار ہو جاتا ہے۔
پارلیمانی کمیٹی نے بھی بالکل اسی مسئلے کی نشاندہی کی۔ ارکان نے تشویش ظاہر کی کہ کراچی جیسے بڑے شہر میں بھی ناقص انٹرنیٹ معیار ایک مستقل مسئلہ بن چکا ہے، جبکہ ٹیلی کام آپریٹرز نے اعتراف کیا کہ فائیو جی سروسز کے آغاز کے باوجود اس کے مطابق کوئی نیا انفراسٹرکچر تعمیر نہیں کیا گیا۔ موجودہ موبائل ٹاورز پر بڑھتا ہوا بوجھ برقرار ہے اور طویل بجلی بندش موبائل سروسز کو مسلسل متاثر کرتی ہے۔ جب تک ان بنیادی کمزوریوں کو دور نہیں کیا جاتا، ڈیجیٹلائزیشن لازماً اسی انفراسٹرکچر کی حدود میں مقید رہے گی جس پر اس کی بنیاد قائم ہے۔
اس کے نتائج صرف صارفین کی سہولت تک محدود نہیں رہتے۔
پاکستان کئی برسوں سے فری لانسنگ، سافٹ ویئر برآمدات اور وسیع تر ڈیجیٹل معیشت کو فروغ دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ ہزاروں نوجوان پیشہ ور افراد ملک کے اندر رہتے ہوئے بین الاقوامی کلائنٹس کو خدمات فراہم کر کے روزگار کما رہے ہیں۔ سافٹ ویئر ڈویلپرز، مصنوعی ذہانت کے انجینئرز، ڈیجیٹل ڈیزائنرز اور ٹیکنالوجی کنسلٹنٹس عالمی منڈی میں مقابلہ کر رہے ہیں، جہاں تکنیکی مہارت کے ساتھ ساتھ قابلِ اعتماد ہونا بھی اتنا ہی اہم ہے۔ انٹرنیٹ کی خرابی کے باعث ڈیڈ لائنز کا ضائع ہونا، ویڈیو کانفرنسز میں تعطل اور کلاؤڈ سروسز تک غیر مستحکم رسائی ایسی ساکھ کو نقصان پہنچاتی ہے جسے بنانے میں برسوں لگتے ہیں۔ بین الاقوامی کلائنٹس عموماً تکنیکی خرابی اور پیشہ ورانہ ناکامی میں فرق نہیں کرتے، وہ صرف اپنا کاروبار کسی اور ملک منتقل کر دیتے ہیں۔
یہی صورتحال پاکستان کے تیزی سے ترقی کرتے مصنوعی ذہانت کے شعبے پر بھی لاگو ہوتی ہے۔ مصنوعی ذہانت کی ترقی کے لیے تیز رفتار اور بلا تعطل انٹرنیٹ ناگزیر ہے تاکہ کلاؤڈ پلیٹ فارمز تک رسائی، ماڈلز کی تربیت، سرحدوں سے پار تعاون اور ایپلی کیشنز کی تعیناتی ممکن ہو سکے۔ جو ممالک ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کے لیے ایک دوسرے سے مقابلہ کر رہے ہیں، وہ سڑکوں اور بجلی گھروں کی طرح ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو بھی تیزی سے وسعت دے رہے ہیں۔ پاکستان بنیادی انٹرنیٹ کی غیر یقینی صورتحال کے ساتھ حقیقت پسندانہ طور پر اس عالمی تبدیلی کا حصہ نہیں بن سکتا۔
اس صورتحال کا تضاد نظر انداز کرنا مشکل ہے۔ حکومت شہریوں اور کاروباری اداروں سے ڈیجیٹل مستقبل اپنانے کی اپیل کر رہی ہے، جبکہ بہت سے لوگ اب بھی غیر معتبر بجلی اور غیر مستقل ٹیلی کمیونی کیشن انفراسٹرکچر جیسے روایتی مسائل سے نبرد آزما ہیں۔ جہاں انٹرنیٹ تک رسائی غیر یقینی ہو وہاں ڈیجیٹل ادائیگیاں فروغ نہیں پا سکتیں، بالکل اسی طرح جیسے بار بار منقطع ہونے والی کنیکٹیویٹی کے ساتھ آن لائن تجارت ترقی نہیں کر سکتی۔
خوش آئند بات یہ ہے کہ جن مسائل کی نشاندہی کی گئی ہے وہ ناقابلِ حل نہیں۔ ٹیلی کام انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانے، موبائل ٹاورز کے لیے بجلی کی فراہمی بہتر بنانے اور قابلِ تجدید توانائی کے استعمال کو وسعت دینے سے متعلق پارلیمانی کمیٹی کی سفارشات عملی نقطۂ آغاز فراہم کرتی ہیں۔ انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کو شاید وہ شہ سرخیاں نہ ملیں جو پالیسی اعلانات کو ملتی ہیں، مگر آخرکار یہی انفراسٹرکچر طے کرتا ہے کہ بلند بانگ پالیسی اہداف کامیاب ہوں گے یا ناکام۔
پاکستان کی ڈیجیٹل تبدیلی نہ صرف ضروری ہے بلکہ ناگزیر بھی۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا عملی نفاذ حکومتی عزائم کے ساتھ قدم ملا سکے گا؟ ایک کیش لیس معیشت غیر مستحکم نیٹ ورکس، وقفے وقفے سے بند ہونے والی بجلی اور حد سے زیادہ بوجھ اٹھانے والے ٹیلی کام انفراسٹرکچر پر قائم نہیں ہو سکتی۔ اگر وزیراعظم کی خواہش کے مطابق ڈیجیٹلائزیشن کو پائیدار معاشی ترقی کا بنیادی ستون بنانا ہے تو پھر تیز رفتار، قابلِ اعتماد اور مضبوط ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی تعمیر کو بھی اتنی ہی فوری قومی ترجیح بنانا ہوگا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026