پاکستان میں سگریٹ کے ہر پیکٹ پر صحت سے متعلق واضح اور خوفناک انتباہی تصاویر اور تحریریں موجود ہوتی ہیں۔ لاکھوں سگریٹ نوش روزانہ انہیں دیکھتے ہیں، مگر ان میں سے بہت سے لوگ ان انتباہات کو نظرانداز کرتے ہوئے پیکٹ دوبارہ جیب میں رکھتے ہیں اور ایک اور سگریٹ سلگا لیتے ہیں۔

دنیا بھر میں مختلف ممالک نے تمباکو پر ٹیکس بڑھائے، قوانین مزید سخت کیے، سگریٹ کے پیکٹوں پر خوفناک تصویری انتباہات شائع کیے اور تمباکو نوشی کے خلاف آگاہی مہمات پر سرمایہ کاری کی۔

پاکستان نے بھی یہ تمام اقدامات اختیار کیے، لیکن اس کے باوجود لاکھوں افراد آج بھی تمباکو نوشی کرتے ہیں، جبکہ تمباکو ملک میں قابلِ تدارک اموات کی بڑی وجوہات میں بدستور شامل ہے۔ کئی دہائیوں کی کوششوں کے باوجود اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے صحتِ عامہ کی حکمتِ عملی میں کوئی نمایاں تبدیلی نہیں آئی۔

تمباکو کے نقصانات میں کمی (ٹوبیکو ہارم ریڈکشن) کا تصور سگریٹ نوشوں سے فوری طور پر تمباکو نوشی ترک کرنے کا مطالبہ نہیں کرتا، بلکہ انہیں زیادہ حقیقت پسندانہ رویہ اپنانے اور کم از کم نسبتاً کم نقصان دہ متبادل اختیار کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔

یہ تمباکو پر قابو پانے کی پالیسیوں کے خلاف دلیل نہیں۔ تمباکو پر ٹیکس، اشتہارات پر پابندیاں اور انتباہی لیبل آج بھی اہم ہیں اور انہیں برقرار رہنا چاہیے۔ تاہم، یہ اقدامات اکیلے کبھی کافی نہیں تھے، اور شواہد کئی برسوں سے یہی بتا رہے ہیں۔ تمباکو کے نقصانات میں کمی (ٹوبیکو ہارم ریڈکشن) وہ گمشدہ کڑی ہے جس پر پاکستان اب بھی کھل کر بات کرنے سے گریزاں ہے۔

زیادہ تر لوگ سمجھتے ہیں کہ نکوٹین ہی سگریٹ نوشی کو جان لیوا بناتی ہے، مگر سائنسی شواہد اس کی تائید نہیں کرتے۔ نکوٹین یقیناً نشہ آور ہے، لیکن پھیپھڑوں کے سرطان، دل کی بیماریوں اور دیگر سنگین امراض کی اصل وجہ وہ دھواں اور ہزاروں زہریلے کیمیائی مادے ہیں جو تمباکو جلنے سے پیدا ہوتے ہیں۔ یہی نکتہ ٹوبیکو ہارم ریڈکشن کی بنیاد ہے، کیونکہ اگر نکوٹین تمباکو جلائے بغیر جسم تک پہنچائی جائے تو ایسے متبادل کی خطرے کی نوعیت روایتی سگریٹ سے نمایاں طور پر مختلف ہو جاتی ہے۔

ٹوبیکو ہارم ریڈکشن سگریٹ نوشوں سے فوری طور پر تمباکو نوشی ترک کرنے کا مطالبہ نہیں کرتی، بلکہ انہیں زیادہ حقیقت پسندانہ رویہ اپنانے اور کم از کم نقصان کو کم کرنے والا متبادل اختیار کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔ لاکھوں ایسے افراد کے لیے جو کئی بار سگریٹ چھوڑنے کی کوشش کر کے ناکام ہو چکے ہیں یا جنہیں تمباکو نوشی ترک کرنے میں پیشہ ورانہ مدد میسر نہیں، یہ کوئی سمجھوتہ نہیں بلکہ واحد قابلِ عمل راستہ ہے۔

نشے کی لت صرف آگاہی کی کمی کا مسئلہ نہیں۔ پاکستان میں سگریٹ نوش بخوبی جانتے ہیں کہ سگریٹ صحت کے لیے مضر ہیں، لیکن وہ اس عادت میں جکڑے ہوئے ہیں کیونکہ سگریٹ چھوڑنا واقعی آسان نہیں۔ ایسے میں لوگوں سے صرف یہ کہنا کہ وہ سگریٹ نوشی ترک کر دیں، مگر انہیں کوئی متبادل فراہم نہ کرنا، صحتِ عامہ کی مؤثر حکمتِ عملی نہیں بلکہ ایسا مشورہ ہے جس کے ساتھ کوئی عملی حل موجود نہیں۔

متبادل مصنوعات سے متعلق بین الاقوامی شواہد اب محدود نہیں رہے۔ نیوزی لینڈ میں، جہاں ویپنگ عام ہو چکی ہے، حکومت نے ای سگریٹ کو روایتی سگریٹ کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم نقصان دہ متبادل تسلیم کیا ہے اور اس سوچ کو اپنی قومی ٹوبیکو ہارم ریڈکشن حکمتِ عملی کا حصہ بنایا ہے۔

دوسری جانب سویڈن نے مختلف راستہ اختیار کیا۔ وہاں اسنس (Snus) — ایک زبانی طور پر استعمال ہونے والی تمباکو مصنوعات، جس کے خطرات روایتی سگریٹ کے مقابلے میں کہیں کم سمجھے جاتے ہیں — کے وسیع استعمال کے باعث دنیا میں تمباکو نوشی کی شرح سب سے کم سطح پر آ گئی۔ یہ مختلف تجربات ظاہر کرتے ہیں کہ ہر ملک کے لیے ایک ہی پالیسی مؤثر ثابت نہیں ہو سکتی، کیونکہ مختلف معاشروں میں مختلف مصنوعات اور حکمتِ عملیاں بہتر نتائج دیتی ہیں۔ اسی لیے تمباکو سے ہونے والے نقصانات میں کمی کے اقدامات بھی ہر ملک کے حالات کے مطابق ترتیب دیے جانے چاہییں۔

موجودہ سگریٹ نوشوں کو باقاعدہ ضابطوں کے تحت متبادل مصنوعات تک رسائی دی جائے، ان کے استعمال کے لیے عمر کی واضح حد مقرر کی جائے اور ان سے وابستہ خطرات پر کھلے اور حقیقت پسندانہ انداز میں گفتگو کی جائے۔

پاکستان نے اب تک اس سمت میں کوئی مؤثر پیش رفت نہیں کی۔ ملک میں ہر سال ایک لاکھ 63 ہزار 500 سے زائد افراد تمباکو نوشی سے منسلک بیماریوں کے باعث جان کی بازی ہار جاتے ہیں، جبکہ لاکھوں افراد ہر صوبے، ہر آمدنی والے طبقے اور ہر عمر کے گروہ میں سگریٹ نوشی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ مسئلے کی سنگینی اس بات کی متقاضی ہے کہ صحتِ عامہ کے حوالے سے زیادہ جامع حکمتِ عملی اختیار کی جائے۔

ملک میں تمباکو نوشی ترک کرانے کی سہولتیں اب بھی محدود ہیں، جبکہ ان افراد کے لیے متبادل ذرائع پر عوامی سطح پر بہت کم بحث ہوتی ہے جو سگریٹ چھوڑنے سے قاصر ہیں یا ایسا کرنے پر آمادہ نہیں۔ صحتِ عامہ کی ایسی حکمتِ عملی، جو صرف ایک ہی راستہ یعنی مکمل طور پر تمباکو نوشی ترک کرنے پر زور دے، ہر سگریٹ نوش تک نہیں پہنچ سکتی۔ اگر اس بحث میں تمباکو کے نقصانات میں کمی (ٹوبیکو ہارم ریڈکشن) کے تصور کو بھی شامل کیا جائے تو ان افراد کے لیے صحت کے خطرات کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے جو بصورتِ دیگر سگریٹ نوشی جاری رکھتے ہیں۔

ٹوبیکو ہارم ریڈکشن سے متعلق خدشات کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے، کیونکہ وہ واقعی توجہ کے مستحق ہیں۔ یہ خدشہ بجا ہے کہ نکوٹین پر مبنی متبادل مصنوعات ایسے نوجوانوں کو بھی اپنی طرف راغب کر سکتی ہیں جنہوں نے کبھی سگریٹ نوشی نہیں کی۔ تاہم ان خدشات کو خاموش رہنے کا جواز بنانے کے بجائے مؤثر ضابطہ سازی کی بنیاد بنایا جانا چاہیے۔ موجودہ سگریٹ نوشوں کو باقاعدہ ضابطوں کے تحت متبادل مصنوعات تک رسائی دی جائے، ان کے استعمال کے لیے عمر کی واضح حد مقرر کی جائے اور ان سے وابستہ خطرات کے بارے میں دیانت داری اور کھلے انداز میں آگاہی فراہم کی جائے۔

لیکن اگر یہ سب نہ کیا جائے تو کیا ہوگا؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ متبادل مصنوعات پہلے ہی مارکیٹ میں موجود ہیں، لوگ انہیں خرید بھی رہے ہیں اور استعمال بھی کر رہے ہیں۔ بلاشبہ تمباکو نوشی مکمل طور پر ترک کرنا ہی اصل ہدف ہونا چاہیے، مگر جو افراد فی الحال اس ہدف تک نہیں پہنچ سکتے، ان کے لیے مناسب ضابطوں اور واضح حفاظتی اقدامات کے ساتھ متبادل ذرائع فراہم کیے جانے چاہییں۔

پاکستان کے پاس سیکھنے کے لیے شواہد موجود ہیں۔ بین الاقوامی تجربات قیمتی اسباق فراہم کرتے ہیں، جبکہ ملک کے اندر سے سامنے آنے والے ابتدائی اعداد و شمار بھی ظاہر کرتے ہیں کہ بہت سے سگریٹ نوش کسی سرکاری پالیسی یا رہنمائی کے بغیر ہی خود سے متبادل مصنوعات کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔ اب بھی جس چیز کی کمی ہے، وہ صحتِ عامہ کے اداروں کی جانب سے ٹوبیکو ہارم ریڈکشن پر سنجیدگی سے غور کرنے کی آمادگی ہے۔ اس رویے میں تبدیلی ناگزیر ہے، کیونکہ عملی اقدام نہ کرنے کی قیمت ہر سال ان اموات کی صورت میں ادا کی جا رہی ہے، جن کی تعداد بدستور ناقابلِ قبول حد تک بلند ہے۔

نوٹ: اس مضمون میں پیش کیے گئے خیالات ضروری نہیں کہ بزنس ریکارڈر یا اس کے مالکان کے مؤقف کی عکاسی کرتے ہوں۔