ایئر انڈیا طیارہ حادثے کی تحقیقات آخری مرحلے میں داخل، کاک پٹ ریکارڈر اور پائلٹوں کے نفسیاتی جائزے مکمل
- دستاویز میں نفسیاتی جائزے کی شناخت یا بوئنگ 787 حادثے سے متعلق کسی نتیجے کا انکشاف نہیں کیا گیا
عدالتی دستاویز کے مطابق بھارت کے ایئرکرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹی گیشن بیورو (اے اے آئی بی) نے گزشتہ سال ایئر انڈیا کے مہلک طیارہ حادثے کی تحقیقات کے دوران کاک پٹ وائس ریکارڈر کی نقل (ٹرانسکرپٹ) تیار کر لی ہے، نفسیاتی تجزیہ (سائیکولوجیکل آٹوپسی) مکمل کر لیا ہے اور اب تحقیقات اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں۔
دستاویز میں یہ نہیں بتایا گیا کہ نفسیاتی تجزیہ کس شخصیت کا کیا گیا، نہ ہی احمد آباد سے اڑان بھرنے کے فوراً بعد پیش آنے والے بوئنگ 787 طیارہ حادثے سے متعلق کسی نتیجے کا انکشاف کیا گیا۔ اس حادثے میں 260 افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔
اے اے آئی بی کے مطابق مئی کے آخر میں انجن مانیٹرنگ یونٹ سے حاصل کیے گئے ڈیٹا کا تجزیہ ابھی باقی ہے، جبکہ ادارہ بعض تنظیمی عوامل (آرگنائزیشنل فیکٹرز) کا جائزہ بھی لے رہا ہے۔ تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
اے اے آئی بی کے مطابق تحقیقاتی ٹیم نے ایئر انڈیا کے بوئنگ 787 طیاروں کے پائلٹوں، حادثے کا شکار ہونے والے طیارے کے پائلٹوں کے ساتھ ماضی میں پرواز کرنے والے عملے، طیارے کی تیاری میں شامل تکنیکی عملے، ایئر ٹریفک کنٹرولرز، محکمہ موسمیات کے حکام اور ہیومن فیکٹرز کے ماہرین سے بھی پوچھ گچھ کی۔
اے اے آئی بی نے بتایا کہ تحقیقات کے ابتدائی مرحلے میں پروازی عملے کے اہلِ خانہ سے بھی ان کی رہائش گاہوں پر جا کر ملاقاتیں کی گئیں۔
گزشتہ سال اے اے آئی بی کے ایک ایسے ہی دورے پر کپتان کے والد پشکر راج سبرہوال نے اعتراض کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ تفتیشی حکام نے یہ تاثر دیا کہ ان کے بیٹے نے ٹیک آف کے فوراً بعد طیارے کے انجنوں کو ایندھن کی فراہمی بند کر دی تھی۔ بعد ازاں انہوں نے عدالت سے رجوع کیا، جس کے نتیجے میں اے اے آئی بی نے یہ معلومات عدالتی دستاویز میں پیش کیں۔
اے اے آئی بی نے کہا کہ میڈیا میں گردش کرنے والی قیاس آرائیوں اور پائلٹوں کو قصوروار ٹھہرانے والی خبروں کے باعث بعض گواہ ”محتاط اور عدم تعاون پر مبنی“ رویہ اختیار کرنے لگے۔
ادارے کے مطابق تحقیقات اس وقت تجزیاتی مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں، جہاں آپریشنل، تکنیکی، انسانی عوامل اور تنظیمی امور سے متعلق شواہد کی بنیاد پر نتائج اور حتمی مشاہدات مرتب کیے جا رہے ہیں۔
اے اے آئی بی نے کہا کہ اسے توقع ہے کہ تحقیقات سے متعلق باقی سرگرمیاں تقریباً چھ ہفتوں میں مکمل کر لی جائیں گی، تاہم یہ عمل بعض زیرِ التوا ”بیرونی عوامل“ پر منحصر ہوگا۔
عدالتی دستاویز کے مطابق، تحقیقات کی مسودہ حتمی رپورٹ اکتوبر کے آس پاس تیار ہونے کی توقع ہے، جس کے بعد اسے متعلقہ شریک ممالک کو تبصروں کے لیے بھیجا جائے گا۔ ان آرا و تجاویز کی روشنی میں رپورٹ کو حتمی شکل دے کر جاری کیا جائے گا۔
امریکی نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ (این ٹی ایس بی) ان اداروں میں شامل ہے جنہیں رپورٹ کا مسودہ فراہم کیا جائے گا۔
گزشتہ سال رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق، امریکی حکام کے ابتدائی جائزے میں کہا گیا تھا کہ کاک پٹ میں دونوں پائلٹوں کے درمیان ہونے والی گفتگو کی ریکارڈنگ سے یہ تاثر ملتا ہے کہ کپتان نے طیارے کے انجنوں کو ایندھن کی فراہمی روک دی تھی۔
تاہم اے اے آئی بی نے اس وقت کہا تھا کہ ”کسی حتمی نتیجے پر پہنچنا ابھی قبل از وقت ہے۔“