سالانہ پلان اور شکست خوردہ سوچ

  • جب ناکامیوں سے سبق نہ سیکھا جائے تو منصوبہ بندی محض کاغذی مشق بن کر رہ جاتی ہے
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان ہر سال سالانہ منصوبہ جاری کرتا ہے، جس میں شرحِ نمو، مختلف شعبوں کی کارکردگی، سرمایہ کاری، برآمدات اور پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے اہداف مقرر کیے جاتے ہیں۔ گزشتہ چار سالانہ منصوبوں میں تقریباً 4 فیصد شرحِ نمو اور برآمدات کو جی ڈی پی کے 8 فیصد تک پہنچانے کا ہدف رکھا گیا، جو زیادہ سے زیادہ ایک سست رفتار معیشت کی عکاسی کرتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ اعدادوشمار آخر آتے کہاں سے ہیں؟ اور کیا انہیں واقعی سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے؟

اہداف کا تعین کیسے ہوتا ہے؟

حقیقت یہ ہے کہ ان اہداف کو زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی، سوائے اس کے کہ منصوبے کے اجرا کے روز اخبارات میں ان پر خبریں شائع ہو جائیں یا چند روایتی ماہرینِ معاشیات ان پر تبصرہ کر دیں۔

یہ اہداف کسی جامع زیریں سطح (باٹم اپ) تجزیے کا نتیجہ نہیں ہوتے، جس میں کمپنیوں کے سرمایہ کاری منصوبے، پیداواری صلاحیت کا استعمال، پیداواری رجحانات، برآمدی آرڈرز، فصلوں کی صورتِ حال یا مختلف شعبوں کی سنجیدہ ماڈلنگ شامل ہو۔ درحقیقت یہ ایسے اعدادوشمار ہوتے ہیں جن کے پیچھے نہ ٹھوس تحقیق ہوتی ہے اور نہ ہی گہری جانچ پڑتال۔عام طور پر پہلے مجموعی شرحِ نمو کا ایک ہدف، زیادہ تر سیاسی یا نمائشی مقاصد کے تحت، طے کر لیا جاتا ہے، پھر بعد میں مختلف شعبوں کے ایسے اعدادوشمار ترتیب دیے جاتے ہیں جو حسابی اعتبار سے اس مجموعی ہدف سے مطابقت رکھتے ہوں۔

مثال کے طور پر زراعت کے لیے 3.6 فیصد شرحِ نمو اس لیے مقرر نہیں کی جاتی کہ کسی نے پانی کی دستیابی، بیجوں کے معیار، کھاد کے استعمال، موسمیاتی خطرات یا کسانوں کو ملنے والی ترغیبات کا سائنسی تجزیہ کیا ہو، بلکہ یہ ہدف صرف اس لیے رکھا جاتا ہے کہ مجموعی حساب کتاب کو اس عدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ صنعت اور خدمات کے شعبوں کے ساتھ بھی یہی طرزِ عمل اختیار کیا جاتا ہے۔ پہلے اعدادوشمار طے کیے جاتے ہیں، پھر ان کے مطابق جواز یا کہانی تراشی جاتی ہے۔

صرف جدول کا حساب پورا کرنے کے لیے منتخب کیا گیا کوئی عدد پیش گوئی نہیں ہوتا۔ ایسی پیش گوئی کو جانچا بھی نہیں جا سکتا، کیونکہ وہ کسی قابلِ آزمائش طریقۂ کار کی بنیاد پر مرتب ہی نہیں کی گئی ہوتی۔

یہ اہداف کن پالیسیوں یا ذرائع پر مبنی ہیں؟

یہی وہ پہلو ہے جہاں سالانہ منصوبہ سب سے زیادہ کمزور دکھائی دیتا ہے۔

ایک معتبر معاشی پیش گوئی میں واضح ہونا چاہیے کہ مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کے لیے کون سے پالیسی اقدامات اختیار کیے جائیں گے؛ کون سی اصلاحات نافذ ہوں گی، کن قیمتوں میں تبدیلی آئے گی، کن ادارہ جاتی اصلاحات پر عمل ہوگا، کون سی منڈیاں کھولی جائیں گی، کون سی مراعات دی جائیں گی اور کون سی رکاوٹیں دور کی جائیں گی۔

لیکن سالانہ منصوبہ نتائج تو بیان کرتا ہے، مگر ان کے حصول کے ذرائع یا طریقۂ کار کی وضاحت نہیں کرتا۔

مثلاً سرمایہ کاری کو جی ڈی پی کے 15 فیصد تک پہنچانے کا ہدف رکھا گیا ہے، مگر یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ کیسے ممکن ہوگا؟ کیا ٹیکس پالیسی کے ذریعے، حالانکہ موجودہ ٹیکس اقدامات کا رخ اس کے برعکس دکھائی دیتا ہے؟ یا پھر کسی شعبے میں ضابطوں میں نرمی (ڈی ریگولیشن) کی جائے گی؟ کیا پالیسیوں کے بارے میں غیر یقینی صورتحال کم ہوگی؟ کون سی منڈی میں اصلاحات متعارف کرائی جائیں گی؟ یا روایتی سیاسی منصوبوں سے ہٹ کر کوئی سنجیدہ سرکاری سرمایہ کاری کی جائے گی؟ منصوبہ ان سوالات کا کوئی جواب نہیں دیتا۔

اسی طرح برآمدات میں نمایاں اضافے کا ہدف تو مقرر کر دیا گیا ہے، مگر کس بنیاد پر؟ زرِ مبادلہ کی شرح کے بارے میں کیا مفروضہ اختیار کیا گیا ہے؟ تجارتی پالیسی میں کون سی تبدیلی آئے گی؟ توانائی کی قیمتوں میں کون سی اصلاحات ہوں گی؟ برآمدکنندگان کے ریفنڈز کی ادائیگی میں تاخیر کا مسئلہ کیسے حل ہوگا؟ لاجسٹکس میں کیا بہتری آئے گی؟ اور جب گزشتہ برسوں میں سرمایہ کاری ہی کم رہی ہے تو برآمدات بڑھانے کے لیے اضافی پیداواری صلاحیت کہاں سے آئے گی؟

سالانہ منصوبہ ان سوالات کے جواب دینے کے بجائے صرف بلند اہداف پیش کرتا ہے، ان کے حصول کا طریقۂ کار نہیں۔

جب اہداف کے حصول کے لیے عملی ذرائع ہی موجود نہ ہوں تو یہ اہداف محض اعشاری نقطوں کے ساتھ لکھی گئی خواہشات بن کر رہ جاتے ہیں۔

پھر اگر شرحِ نمو ہدف سے کم رہ جائے تو یہ معلوم ہی نہیں ہو سکتا کہ کس پالیسی کی ناکامی اس کی ذمہ دار تھی۔ اس کے بجائے ہمیشہ کی طرح بیرونی جھٹکوں، عالمی غیر یقینی صورتحال، موسم، تیل کی قیمتوں یا سیاسی عدم استحکام کو موردِ الزام ٹھہرا دیا جاتا ہے۔

حالانکہ ایک سنجیدہ منصوبہ بندی میں ان تمام خطرات کو ابتدا ہی سے مختلف ممکنہ منظرناموں کا حصہ بنایا جاتا ہے۔ صرف خطرات کی فہرست بیان کر دینا کسی بھی صورت پیش گوئی کا متبادل نہیں ہو سکتا۔

کیا موجودہ تحقیق کی کسوٹی پر یہ اہداف درست ثابت ہوتے ہیں؟

پاکستان میں علمی اور پالیسی تحقیق میں شاذونادر ہی سالانہ منصوبے کے اہداف کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جاتا ہے۔ کبھی کبھار معمولی نوعیت کی تنقید ضرور سامنے آتی ہے، مگر وہ بھی اکثر اس مشق کو بلاجواز ساکھ فراہم کرنے کا باعث بن جاتی ہے۔

اسی لیے سالانہ منصوبہ ہر سال واضح عددی اہداف تو جاری کر دیتا ہے، مگر ان کے ساتھ نہ گزشتہ پیش گوئیوں کی غلطیوں کا ریکارڈ پیش کیا جاتا ہے، نہ غیر یقینی صورتحال کو ظاہر کرنے والے فین چارٹس شامل ہوتے ہیں اور نہ ہی یہ بتایا جاتا ہے کہ نتائج میں فرق کن عوامل، مفروضوں یا عمل درآمد کی ناکامیوں کی وجہ سے پیدا ہوا۔

حقیقت یہ ہے کہ اخبارات میں شائع ہونے والے دن کے بعد شاید ہی کوئی ان اعدادوشمار کو سنجیدگی سے لیتا ہو۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس حوالے سے ضروری علمی رہنمائی پہلے ہی موجود ہے۔ معاشی پیش گوئی سے متعلق تحقیق بتاتی ہے کہ پیش گوئیوں کی غلطیوں کی باقاعدہ پیمائش کی جائے، غیر یقینی صورتحال کو واضح کیا جائے اور اندازوں کا حقیقی نتائج سے تقابل کیا جائے۔

اسی طرح سرکاری سرمایہ کاری سے متعلق تحقیق یہ بھی واضح کرتی ہے کہ ترقیاتی منصوبے اکثر تاخیر کا شکار ہوتے ہیں، ان پر ضرورت سے زیادہ وعدے کیے جاتے ہیں، مطلوبہ مالی وسائل فراہم نہیں کیے جاتے اور ان کا پیداواری صلاحیت میں اضافے سے تعلق بھی کمزور ہوتا ہے۔

اس کے باوجود سالانہ منصوبہ ان دونوں علمی روایات سے کوئی سبق حاصل کرتا دکھائی نہیں دیتا۔

ایک سنجیدہ سالانہ منصوبہ یہ سوال اٹھاتا کہ گزشتہ سال کے اہداف کیوں حاصل نہ ہو سکے؟ کتنی غلطیاں بیرونی جھٹکوں کا نتیجہ تھیں، کتنی غلط مفروضوں کی وجہ سے ہوئیں اور کتنی عمل درآمد کی ناکامیوں کا نتیجہ تھیں؟ ان غلطیوں نے محصولات، درآمدات، سرکاری اخراجات اور قرضوں پر کیا اثر ڈالا؟ اور پی ایس ڈی پی کے کون سے منصوبوں نے واقعی معیشت کی بنیادی رکاوٹیں دور کیں اور شرحِ نمو میں کتنا کردار ادا کیا؟

سالانہ منصوبہ ان میں سے کسی سوال کا جواب نہیں دیتا۔

ہر سال ایک نئی کہانی شروع کر دی جاتی ہے۔ مسئلہ صرف یہ نہیں کہ اہداف حاصل نہیں ہوتے، بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ جن اداروں نے یہ اہداف مقرر کیے ہوتے ہیں، وہ خود ان کی ناکامی کا تجزیہ بھی نہیں کرتے۔

جب سیکھنے کا عمل ہی نہ ہو تو منصوبہ بندی محض جدولوں میں سجی ہوئی اجتماعی فراموشی بن کر رہ جاتی ہے۔

پی ایس ڈی پی، زیرِ تکمیل منصوبوں اور تکمیل کے موجودہ طریقۂ کار کو دیکھتے ہوئے، کیا سرمایہ کاری کا منصوبہ حقیقت پسندانہ ہے؟

مختصر جواب ہے: نہیں۔ بلکہ یہی سالانہ منصوبے کا سب سے بڑا تضاد بھی ہے۔

پاکستان میں سرکاری سرمایہ کاری کی ناکامیوں پر پہلے ہی کافی تحقیق ہو چکی ہے۔ ”ڈوئنگ ڈیولپمنٹ بیٹر“ نامی تحقیق نے واضح کیا تھا کہ عوامی شعبے کی قیادت میں ترقی کو فروغ دینے والا منصوبہ بندی کا نظام وقت کے ساتھ اپنی مؤثر حیثیت کھو چکا ہے۔ دیگر مطالعات میں بھی ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر، لاگت میں اضافے اور تھرو فارورڈ (زیرِ تکمیل منصوبوں پر مستقبل کے مالی بوجھ) جیسے مسائل کی نشاندہی کی گئی ہے۔

اس کے باوجود ان حقائق کا سالانہ منصوبے میں شرحِ نمو کے حساب کتاب پر کوئی اثر دکھائی نہیں دیتا۔ منصوبہ اب بھی اس انداز میں پیش کیا جاتا ہے جیسے پی ایس ڈی پی کے منصوبے ایک ہی سال میں معاشی نمو کو تیز کرنے کا ذریعہ بن سکتے ہوں، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ ترقیاتی پروگرام ایک دہائی یا اس سے بھی زیادہ عرصے پر پھیلے ہوئے ادھورے منصوبوں کا مجموعہ بن چکا ہے۔

آئی ایم ایف کی پبلک انویسٹمنٹ مینجمنٹ اسیسمنٹ کے مطابق، مالی سال 23-2022 میں پی ایس ڈی پی کے جاری منصوبوں کی تکمیل کے لیے تقریباً 10.7 کھرب روپے درکار تھے، جبکہ اس سال پی ایس ڈی پی کا حجم صرف 727 ارب روپے تھا۔ اس رفتار سے، اگر کوئی نیا منصوبہ شروع نہ بھی کیا جائے تو صرف موجودہ منصوبوں کی تکمیل میں تقریباً 14 سال لگ جائیں گے۔

اسی طرح منصوبہ بندی کمیشن کی پی ایس ڈی پی 26-2025 دستاویز کے مطابق، زیرِ تکمیل منصوبوں کا مالی بوجھ 10 کھرب روپے سے تجاوز کر چکا تھا، جبکہ سالانہ ترقیاتی پروگرام کا حجم تقریباً ایک کھرب روپے تھا۔ بعد ازاں 2026 میں وزارتِ منصوبہ بندی نے بھی تصدیق کی کہ تھرو فارورڈ کی مالیت 10 ہزار ارب روپے سے زیادہ ہے، جبکہ ترقیاتی اخراجات کی حد تقریباً 1.126 کھرب روپے مقرر کی گئی۔

یوں ایک طرف سالانہ منصوبہ صرف ایک سال کی شرحِ نمو کا ہدف مقرر کرتا ہے، جبکہ دوسری جانب اس کا بنیادی ترقیاتی ذریعہ، یعنی پی ایس ڈی پی، آئندہ ایک دہائی یا اس سے بھی زیادہ عرصے کے مالی بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔

نتیجتاً رواں سال کے ترقیاتی بجٹ کا بڑا حصہ ایسے پرانے اور نامکمل منصوبوں پر خرچ ہوگا جو برسوں سے زیرِ تکمیل ہیں۔ ان میں سے کئی منصوبوں کو محض علامتی فنڈز ملتے ہیں، کئی کی لاگت دورانِ تکمیل بڑھا دی جاتی ہے، جبکہ متعدد منصوبے معاشی پیداوار کے بجائے سیاسی ترجیحات کی بنیاد پر منتخب کیے جاتے ہیں۔

اس کے باوجود کہیں بھی یہ تخمینہ موجود نہیں کہ اس ترقیاتی اخراجات سے اضافی پیداواری صلاحیت (مارجینل پروڈکٹیویٹی) کتنی حاصل ہوگی۔ نہ ہی یہ دکھایا گیا ہے کہ اگر یہی وسائل ضابطہ جاتی اصلاحات، ٹیکس اصلاحات، شہری نظم و نسق یا توانائی کی منڈی میں اصلاحات پر خرچ کیے جاتے تو اس کے کیا نتائج برآمد ہوتے۔

اسی طرح یہ بھی ثابت نہیں کیا گیا کہ رواں سال کی پی ایس ڈی پی مختص رقم اور 4 فیصد شرحِ نمو کے ہدف کے درمیان کوئی حقیقی تعلق موجود ہے۔ اس تعلق کا صرف دعویٰ کیا گیا ہے، اسے شواہد سے ثابت نہیں کیا گیا۔

یہ معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کہ پی ایس ڈی پی کا بڑا حصہ اب بھی اینٹ، سیمنٹ اور تعمیراتی منصوبوں تک محدود ہے۔ محدود تعریف کے مطابق بھی وفاقی پی ایس ڈی پی کا تقریباً آدھا بجٹ شاہراہوں، آبی منصوبوں، بجلی، ریلوے، رہائش اور مواصلاتی ڈھانچے پر خرچ ہوتا ہے۔ جبکہ اگر خصوصی علاقوں اور کابینہ ڈویژن کے منصوبوں کو بھی شامل کر لیا جائے تو یہ تناسب تقریباً تین چوتھائی تک پہنچ جاتا ہے۔

یعنی اب بھی ترقی کو تعمیرات سے جوڑا جا رہا ہے، نہ کہ پیداواری صلاحیت، مسابقت، منڈیوں میں اصلاحات یا نجی شعبے کی ترقی سے۔

شرحِ نمو کے لیے کون سا معاشی ماڈل استعمال کیا جا رہا ہے؟ — حق/ہیرڈ-ڈومر یا درون زا (اینڈورجینس) شرحِ نمو کا ماڈل؟

یہی دراصل بنیادی مسئلہ ہے۔

پاکستان کا منصوبہ بندی کا نظام آج بھی محبوب الحق کے دور سے ورثے میں ملنے والے ہیرڈ-ڈومر ماڈل پر چل رہا ہے۔ اس ماڈل کے مطابق معاشی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ سرمایہ کاری کی کمی ہوتی ہے، سرکاری سرمایہ کاری اس خلا کو پُر کرتی ہے، سرمایہ جاتی اثاثوں میں اضافہ پیداوار بڑھاتا ہے، اور یوں پی ایس ڈی پی تقریباً خودبخود معاشی ترقی کا بنیادی محرک بن جاتا ہے۔

ابتدائی ترقی کے مرحلے میں، جب معیشت بنیادی انفراسٹرکچر سے محروم ہو، یہ نظریہ کسی حد تک موزوں تھا۔ لیکن آج کی معیشت کی حقیقت اس سے مختلف ہے، جہاں بنیادی رکاوٹیں سرمایہ نہیں بلکہ ادارہ جاتی کمزوریاں ہیں، جیسے معاہدوں پر مؤثر عمل درآمد کا فقدان، پیچیدہ ضابطہ جاتی نظام، ٹیکس مراعات میں بگاڑ، غیر مسابقتی منڈیاں، پالیسیوں میں غیر یقینی، کاروباری اداروں کی کم پیداواری صلاحیت، غیر ترقی یافتہ سرمایہ مارکیٹیں اور ایسا سرکاری ترقیاتی نظام جو شروع کیے گئے منصوبے بھی مکمل نہیں کر پاتا۔

جدید معاشی نظریات اور مختلف ممالک کے تجربات کے مطابق پائیدار معاشی ترقی کی اصل بنیاد پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہے، جسے کاروباری مسابقت، نئی ٹیکنالوجی کا استعمال، انسانی سرمایہ، آزاد تجارت، شہری ترقی، مالیاتی منڈیوں کی گہرائی، علم اور مضبوط ادارے فروغ دیتے ہیں۔

سرمایہ کاری اسی وقت مؤثر ثابت ہوتی ہے جب وہ نجی شعبے کی سرگرمیوں میں حائل کسی حقیقی رکاوٹ کو دور کرے۔ مثال کے طور پر بندرگاہوں کو منڈیوں سے ملانے والی شاہراہ پیداواری صلاحیت بڑھا سکتی ہے، لیکن اگر صرف سیاسی مقاصد کے لیے پہلے سے موجود سڑک کے متوازی ایک اور سڑک تعمیر کر دی جائے تو وہ محض پی ایس ڈی پی میں شامل ہونے سے معاشی ترقی کا ذریعہ نہیں بن جاتی۔

سالانہ منصوبہ اس بنیادی فرق پر کوئی توجہ نہیں دیتا۔ اس میں پی ایس ڈی پی کی رقوم کو ازخود ترقی کا ضامن تصور کیا جاتا ہے، یہ جاننے کی کوشش کیے بغیر کہ ہر منصوبہ کس رکاوٹ کو دور کرے گا، آیا وہ رکاوٹ واقعی معاشی ترقی میں حائل ہے بھی یا نہیں، اور کیا یہی نتائج کم لاگت پر اصلاحات کے ذریعے حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

اسی لیے سالانہ منصوبہ صرف کمزور نہیں، بلکہ ایک ایسے جامد معاشی نظریے پر استوار ہے، جبکہ پاکستان کی معیشت کو درپیش اصل مسائل متحرک اور ادارہ جاتی نوعیت کے ہیں۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026