پاکستان

پنجاب میں سرکاری گندم کا اجراء، نرخ 3800 روپے من مقرر

  • سال کے آخر میں ممکنہ قلت سے بچنے کے لیے گندم درآمد کرنے کا بروقت فیصلہ کیا جائے، فلور ملز ایسوسی ایشن
شائع اپ ڈیٹ

حکومت پنجاب نے صوبے بھر میں گندم، آٹے اور روٹی کی قیمتوں کو مستحکم کرنے کے لیے اپنے سرکاری ذخائر سے 3,800 روپے فی 40 کلوگرام کے حساب سے گندم کے اجراء کا اعلان کیا ہے جبکہ پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن (پی ایف ایم اے) نے اس اقدام کا خیرمقدم کیا ہے، تاہم حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اس سال کے آخر میں ممکنہ قلت سے بچنے کے لیے گندم درآمد کرنے کا بروقت فیصلہ بھی کرے۔

ڈائریکٹر جنرل فوڈ پنجاب امجد حفیظ نے کہا ہے کہ پنجاب حکومت کی ہدایت پر گندم کا سرکاری اجراء شروع کر دیا گیا ہے اور قیمت 3,800 روپے فی 40 کلوگرام مقرر کی گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وقت گزرنے کے ساتھ اس قیمت میں مزید کمی کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ صوبے بھر میں گندم کی وافر دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے پاکستان ایگریکلچرل سٹوریج اینڈ سروسز کارپوریشن (پاسکو) سے دس لاکھ میٹرک ٹن گندم پنجاب محکمہ خوراک کو منتقل کی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز نے ہدایت کی ہے کہ کسی بھی صورت میں گندم، آٹے اور روٹی کی قیمتوں میں اضافہ نہ ہونے دیا جائے اور ان بنیادی غذائی اشیاء کو عام لوگوں، خاص طور پر کم آمدنی والے گھرانوں کی قوت خرید کے اندر رہنا چاہیے۔

ڈی جی فوڈ نے کہا کہ گندم کے سرکاری ذخائر کا اجراء ایک جامع حکمت عملی کے تحت جاری رہے گا جبکہ مارکیٹ میں قیمتوں کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ذخیرہ اندوزوں اور مصنوعی قلت پیدا کرنے والے عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

دریں اثنا پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عاصم رضا نے پنجاب حکومت کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے مارکیٹ میں گندم کی قیمتوں کو مستحکم کرنے میں مدد ملے گی۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت پورے پنجاب میں گندم 4,300 سے 4,500 روپے فی من فروخت ہو رہی ہے جس کی وجہ سے آٹے کی پیداواری لاگت بڑھ رہی ہے اور آٹے و روٹی کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔

عاصم رضا نے مزید کہا کہ سرکاری گندم کے ذخائر کے اجراء اور مصنوعی قلت کے خاتمے سے آٹے اور روٹی کی قیمتوں کو نیچے لانے میں مدد ملے گی جس سے صارفین کو ریلیف ملے گا۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026