پاکستان کو مزید اسکول نہیں، بہتر تعلیمی نظام کی ضرورت ہے
- اس وقت 2 کروڑ 51 لاکھ سے 2 کروڑ 60 لاکھ تک اسکول جانے کی عمر کے بچے تعلیمی نظام سے باہر ہیں
ہر انتخابی مہم میں تعلیمی انقلاب کا وعدہ کیا جاتا ہے، لیکن پاکستان کے کلاس رومز ایک بالکل مختلف کہانی بیان کرتے ہیں۔ اس ماہ جاری ہونے والے سول سروسز اکیڈمی (سی ایس اے) کے نئے جائزہ رپورٹ نے اس حقیقت کی تصدیق کر دی ہے جس کا والدین اور اساتذہ کو طویل عرصے سے احساس تھا؛ مئی 2024 میں اعلان کردہ پاکستان کی تعلیمی ہنگامی حالت نے روڈ میپس تو فراہم کیے، مگر عملی نتائج نہ ہونے کے برابر رہے۔
اس وقت 2 کروڑ 51 لاکھ سے 2 کروڑ 60 لاکھ تک اسکول جانے کی عمر کے بچے تعلیمی نظام سے باہر ہیں، جو دنیا میں دوسری سب سے بڑی تعداد ہے۔ تعلیم پر سرکاری اخراجات کم ہو کر مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے تقریباً 0.8 فیصد رہ گئے ہیں، جو اقوام متحدہ کے ادارہ برائے تعلیم، سائنس و ثقافت (یونیسکو) کی تجویز کردہ 4 سے 6 فیصد شرح سے کہیں کم ہیں۔ یہ شرح 2018 میں تقریباً 2 فیصد تھی۔ سندھ میں تعلیمی بجٹ کا تقریباً 90 فیصد حصہ تنخواہوں اور انتظامی اخراجات پر خرچ ہو جاتا ہے، جبکہ بلوچستان میں یہ تناسب 81 فیصد ہے۔ اس کے بعد اساتذہ کی تربیت، تدریسی مواد اور بنیادی ڈھانچے کے لیے بہت کم وسائل بچتے ہیں۔
اصل مسئلہ صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ ان کے پیچھے چھپی حقیقت ہے، جو خود ان اعداد سے بھی زیادہ تشویشناک ہے۔ بلوچستان میں اسکول سے باہر بچوں میں 78 فیصد لڑکیاں ہیں، جبکہ بعض اضلاع میں بچوں کو سیکنڈری اسکول پہنچنے کے لیے طویل فاصلے طے کرنا پڑتے ہیں۔ جنوبی پنجاب میں راجن پور کے 48 فیصد بچے اسکول سے باہر ہیں۔ یہ ایسے خلا نہیں جنہیں صرف مزید اسکول تعمیر کر کے پُر کیا جا سکے، بلکہ یہ اس نظام کی علامات ہیں جسے کبھی ان بچوں تک پہنچنے کے لیے ڈیزائن ہی نہیں کیا گیا جنہیں آج وہ تعلیم فراہم کرنے میں ناکام ہے۔
ایسے حالات میں اکثر لوگ کسی جادوئی حل کی تلاش کرتے ہیں، لیکن دنیا کے کامیاب تعلیمی نظام ایک مشترک اصول پر قائم ہیں: وہ تعداد بڑھانے سے پہلے معیار بہتر بناتے ہیں۔
ہر وہ بچہ جو بنیادی مہارتیں حاصل کیے بغیر اسکول چھوڑ دیتا ہے، وہ مستقبل میں کم پیداواری صلاحیت، کمزور معاشی ترقی اور قومی صلاحیت کے ضیاع کی علامت ہوتا ہے۔
فن لینڈ اس حوالے سے شاید سب سے زیادہ مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ وہاں بچے سات سال کی عمر میں باقاعدہ تعلیم شروع کرتے ہیں، ابتدائی برسوں میں انہیں بہت کم ہوم ورک دیا جاتا ہے، وہ کئی دوسرے ممالک کے طلبہ کے مقابلے میں کم وقت کلاس روم میں گزارتے ہیں، لیکن اس کے باوجود پڑھنے، ریاضی اور سائنس میں مسلسل دنیا کے بہترین ممالک میں شمار ہوتے ہیں۔ فن لینڈ کی کامیابی صرف مختصر تدریسی اوقات کی وجہ سے نہیں بلکہ اس لیے ہے کہ وہاں اعلیٰ تربیت یافتہ اساتذہ میں سرمایہ کاری کی جاتی ہے، بنیادی تعلیم کو ترجیح دی جاتی ہے، غیر ضروری امتحانات کم رکھے جاتے ہیں اور اسکولوں کو یہ آزادی دی جاتی ہے کہ وہ طلبہ کو صرف امتحان کی تیاری کے بجائے حقیقی تعلیم دیں اور رٹّا سسٹم سے گریز کریں۔
سنگاپور نے ایک مختلف راستہ اختیار کیا۔ اس نے اپنی معیشت کی ضروریات کے مطابق نصاب کو مسلسل تجزیاتی سوچ اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیتوں کی طرف منتقل کیا، صرف داخلوں کی تعداد بڑھانے پر توجہ نہیں دی۔
ہمارے خطے میں ویتنام اس بات کی مثال ہے کہ تعلیمی کامیابی کے لیے دولت لازمی شرط نہیں۔ اگرچہ اس کی آمدنی کئی ترقی یافتہ ممالک سے کہیں کم ہے، لیکن اس نے مسلسل اساتذہ کے معیار، بنیادی خواندگی، جوابدہی اور نصاب میں اصلاحات پر توجہ مرکوز رکھی۔ اس سے ایک واضح سبق ملتا ہے کہ مؤثر طرزِ حکمرانی محض اخراجات بڑھانے سے کہیں زیادہ اہم ہوتی ہے۔
تمام کامیاب مثالوں میں ایک چیز مشترک ہے: کامیابی کی بنیاد جی ڈی پی نہیں بلکہ اچھی گورننس ہے۔
پاکستان فن لینڈ یا سنگاپور کا ماڈل من و عن اختیار نہیں کر سکتا۔ ملک کے مالی وسائل محدود ہیں، صوبائی حکومتوں کی صلاحیتیں مختلف ہیں اور لاکھوں بچے اب بھی تعلیمی نظام سے باہر ہیں۔ اس لیے اصلاحات ایسی ہونی چاہئیں جو عملی بھی ہوں اور کم لاگت بھی۔
مندرجہ ذیل چار اصلاحات نسبتاً کم لاگت میں نمایاں نتائج دے سکتی ہیں:
- اول، بنیادی تعلیم کو ہر چیز پر ترجیح دی جائے۔ ہر بچے کو تیسری جماعت تک پڑھنے، لکھنے اور ریاضی کی بنیادی مہارتیں ضرور حاصل ہونی چاہئیں۔ بین الاقوامی شواہد سے ثابت ہے کہ اگر یہ خلا ابتدائی مرحلے پر پُر نہ کیا جائے تو بعد میں اسے ختم کرنا کہیں زیادہ مشکل اور مہنگا ہو جاتا ہے۔
- دوم، اساتذہ کی بھرتی مکمل طور پر میرٹ پر کی جائے اور وقتی تربیتی ورکشاپس کے بجائے مسلسل پیشہ ورانہ تربیت کا نظام متعارف کرایا جائے۔ بہتر تدریس نصاب میں بار بار تبدیلی سے کہیں زیادہ مؤثر نتائج دیتی ہے۔
- سوم، ثانوی تعلیم کو بورڈ امتحانات پر مبنی رٹّا سسٹم سے نکال کر پروجیکٹ پر مبنی جانچ، ڈیجیٹل اور مالیاتی خواندگی، اور فنی و تکنیکی تعلیم کی طرف منتقل کیا جائے، اور جرمنی کے اپرنٹس شپ ماڈل کی طرح اسے الگ نظام کے بجائے مرکزی تعلیمی دھارے میں شامل کیا جائے، نہ کہ صرف نسبتاً کمزور طلبہ تک محدود رکھا جائے۔
- چہارم، بہتر اعداد و شمار کا نظام قائم کیا جائے۔ سول سروسز اکیڈمی کی رپورٹ میں تجویز کردہ قومی طلبہ رجسٹری کو نادرا کے بے فارم نظام سے منسلک کیا جائے تاکہ وسائل ان اضلاع اور بچوں تک پہنچ سکیں جنہیں ان کی سب سے زیادہ ضرورت ہے، بجائے اس کے کہ وسائل سب جگہ یکساں مگر ناکافی مقدار میں تقسیم کر دیے جائیں۔
ٹیکنالوجی بھی حقیقت پسندانہ مواقع فراہم کرتی ہے۔ ملک بھر میں مہنگی لیپ ٹاپ اسکیمیں شروع کرنے کی کوشش کرنے کے بجائے، پاکستان کم لاگت والے ڈیجیٹل تعلیمی پلیٹ فارمز، اساتذہ کی معاونت کے لیے ایپلی کیشنز، اور پسماندہ اضلاع کے لیے آف لائن تعلیمی مواد کو فروغ دے سکتا ہے۔
صوبے اُن موجودہ سرکاری و نجی شراکت داریوں کو مزید وسعت دے سکتے ہیں جن کے تحت کام کرنے والی تنظیمیں پہلے ہی، خصوصاً کم آمدنی والے طبقات میں، تعلیمی نتائج بہتر بنانے میں کامیابی دکھا چکی ہیں۔
بہتر ڈیٹا سسٹمز اس بات کی نشاندہی کریں کہ اسکول سے باہر بچے کہاں رہتے ہیں، تاکہ وسائل کو یکساں طور پر تمام اضلاع میں تقسیم کرنے کے بجائے اُن علاقوں اور بچوں تک مؤثر انداز میں پہنچایا جا سکے جہاں ان کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
تعلیمی اصلاحات کو سیاست سے بالاتر ہونا چاہیے۔ پاکستان میں بارہا ایسا ہوا ہے کہ ہر نئی حکومت نے آتے ہی تعلیمی پالیسیاں تبدیل کر دیں، جس کے نتیجے میں طویل المدتی پیش رفت ممکن نہ ہو سکی۔
پارلیمنٹ کو چاہیے کہ تمام سیاسی جماعتوں کے اتفاقِ رائے سے ایک قومی تعلیمی فریم ورک تشکیل دے، جس میں خواندگی، اساتذہ کے معیار، اسکولوں میں حاضری اور روزگار کے قابل بنانے کی صلاحیت سے متعلق دس سالہ قابلِ پیمائش اہداف مقرر کیے جائیں۔ اس فریم ورک کے تحت صوبوں کو عمل درآمد میں لچک دی جا سکتی ہے، لیکن اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ سیاسی تبدیلیوں سے قطع نظر پالیسی کا تسلسل برقرار رہے۔
اب بحث اس بات پر نہیں ہونی چاہیے کہ کیا پاکستان تعلیم میں اصلاحات کا خرچ برداشت کر سکتا ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان تعلیم میں اصلاحات نہ کرنے کا بوجھ برداشت کر سکتا ہے؟
ہر وہ بچہ جو بنیادی مہارتیں حاصل کیے بغیر اسکول چھوڑ دیتا ہے، اس کا مطلب کم پیداواری صلاحیت، سست معاشی ترقی، سماجی امداد پر زیادہ انحصار، اور قومی صلاحیت کا ضیاع ہے۔
فن لینڈ یہ ثابت کرتا ہے کہ زیادہ تدریسی اوقات لازماً بہتر تعلیم کا مطلب نہیں ہوتے۔ سنگاپور یہ سبق دیتا ہے کہ تعلیم کو معیشت کی ضروریات کے ساتھ مسلسل ترقی کرنا چاہیے۔ ویتنام یہ دکھاتا ہے کہ اچھی گورننس دولت سے بھی بہتر نتائج دے سکتی ہے۔
پاکستان کا مقصد ان ممالک کی اندھی تقلید کرنا نہیں، بلکہ ان عوامل کو اپنانا ہے جنہوں نے انہیں کامیاب بنایا۔ اساتذہ میں سرمایہ کاری کی جائے، بنیادی تعلیم کو اولین ترجیح دی جائے، نصاب کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے، اور تعلیم کو قلیل المدتی سیاسی مفادات کی پہنچ سے باہر رکھا جائے۔