امریکی مہنگائی میں غیرمتوقع کمی سے ڈالر دباؤ کا شکار
- ڈالر انڈیکس 0.35 فیصد کمی کے بعد 100.81 پر آ گیا
امریکی ڈالر بدھ کو بھی دباؤ میں رہا کیونکہ توقعات سے کم مہنگائی کے اعدادوشمار سامنے آنے کے بعد سرمایہ کاروں نے فیڈرل ریزرو کی جانب سے قریبی مدت میں شرح سود بڑھانے کے امکانات کم تصور کرنا شروع کر دیے، اگرچہ خام تیل کی بڑھتی قیمتوں نے مستقبل میں مہنگائی سے متعلق خدشات برقرار رکھے ہیں۔
ڈالر جاپانی ین کے مقابلے میں 0.1 فیصد کمی کے ساتھ 162.08 ین پر آ گیا، جبکہ یورو اور برطانوی پاؤنڈ دونوں 0.1 فیصد اضافے کے ساتھ بالترتیب 1.1433 ڈالر اور 1.3401 ڈالر پر ٹریڈ ہوئے۔ آسٹریلوی ڈالر 0.6983 ڈالر پر مستحکم رہا جبکہ نیوزی لینڈ ڈالر ایک ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب 0.5819 ڈالر پر پہنچ گیا۔
چھ بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی کارکردگی جانچنے والا ڈالر انڈیکس 0.35 فیصد کمی کے بعد 100.81 پر آ گیا، جو تقریباً دو ہفتوں کی سب سے بڑی یومیہ گراوٹ ہے۔
اعدادوشمار کے مطابق جون میں امریکا میں سالانہ مہنگائی کی شرح کم ہو کر 3.5 فیصد رہی، جبکہ ماہانہ بنیاد پر کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) میں 0.4 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جو اپریل 2020 کے بعد پہلی ماہانہ کمی ہے۔ توانائی کی قیمتوں میں کمی اس کی بڑی وجہ قرار دی جا رہی ہے۔
مہنگائی کے نرم اعدادوشمار کے بعد امریکی بانڈز کی ییلڈ بھی کم ہوئی، جس سے فیڈرل ریزرو کی جانب سے جولائی میں شرح سود بڑھانے کے امکانات نمایاں طور پر گھٹ گئے۔
تاہم مشرق وسطیٰ میں ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی کشیدگی اور خام تیل کی قیمتوں میں اضافے نے مہنگائی کے دوبارہ بڑھنے کے خدشات کو زندہ رکھا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر تیل کی قیمتیں بلند رہیں تو فیڈرل ریزرو مستقبل میں دوبارہ سخت مانیٹری پالیسی اختیار کر سکتا ہے۔
سرمایہ کار اب امریکی پروڈیوسر پرائس انڈیکس (پی پی آئی) کے اعدادوشمار کے منتظر ہیں، جن سے مہنگائی کی آئندہ سمت اور شرح سود کے فیصلوں کے بارے میں مزید اشارے ملنے کی توقع ہے۔