وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کے زیرِ اہتمام منعقدہ ایک سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں (ایس ایم ایز) کو مالی سہولیات کی فراہمی بڑھانے کے لیے ایک خصوصی فنانس ٹاسک فورس کے قیام کا اعلان کیا۔ یہ امر حوصلہ افزا ہے کہ وزیرِ خزانہ، جنہوں نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا تقریباً بیشتر حصہ بینکاری کے شعبے میں گزارا ہے، ایس ایم ایز کو مالی معاونت فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں، کیونکہ اس شعبے کو معیشت کی ریڑھ کی ہڈی تصور کیا جاتا ہے۔

مسئلہ یہ ہے کہ ایس ایم ایز کی ترقی میں رکاوٹیں صرف مالی وسائل تک محدود نہیں بلکہ قرضوں تک رسائی ان متعدد مسائل میں سے صرف ایک ہے، تاہم ان دیگر بنیادی رکاوٹوں کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا، حالانکہ گزشتہ تین برسوں کے دوران زیادہ ٹیکسوں اور دیگر ضابطہ جاتی (ریگولیٹری) پیچیدگیوں نے صورتحال کو مزید خراب کردیا ہے۔جب تک ان بنیادی مسائل کا مؤثر حل نہیں نکالا جاتا، صرف مالی سہولتوں یا قرضوں میں معمولی اضافہ ایس ایم ای شعبے کی رفتار بدلنے کے لیے کافی ثابت نہیں ہوگا۔

سب سے بڑا اور بنیادی مسئلہ ٹیکس نظام ہے۔ نہ صرف ٹیکسوں کی شرح زیادہ ہے بلکہ ان کی تعمیل (کمپلائنس) کا عمل بھی انتہائی پیچیدہ اور دشوار ہو چکا ہے۔ اس کے نتیجے میں بہت سے کاروبار ترقی کرنے یا اپنے دائرۂ کار کو وسعت دینے کے بجائے محدود پیمانے پر کام کرنا ہی بہتر سمجھتے ہیں کیونکہ انہیں خدشہ ہوتا ہے کہ کاروبار بڑھانے سے فائدے کے بجائے مزید مسائل اور بوجھ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اسی وجہ سے بہت سے کاروباری ادارے ایسوسی ایشن آف پرسنز کی حیثیت سے کام جاری رکھنے کو ترجیح دیتے ہیں اور ٹیکس اور ریگولیٹری تقاضوں کی پیچیدگیوں کے باعث پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی کی صورت اختیار کرنے سے گریزاں رہتے ہیں۔

اس صورتحال کے باعث یہ کاروبار بڑے پیمانے پر وسعت اختیار کرنے اور طویل المدتی ترقی کے بارے میں سوچنے سے بھی محروم رہتے ہیں۔ غیر منصفانہ ٹیکس نظام کی وجہ سے بہت سے کاروباری افراد غیر رسمی انداز میں کاروبار جاری رکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر سروس سیکٹر جس میں ٹول مینوفیکچرنگ بھی شامل ہے، پر کاروباری ٹرن اوور پر 15 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس عائد ہے جو کم از کم ٹیکس بھی شمار ہوتا ہے حالانکہ اس شعبے میں منافع کی شرح پہلے ہی بہت کم ہوتی ہے۔ چونکہ بیشتر ایس ایم ایز خدمات کے شعبے سے وابستہ ہیں اور محدود منافع پر کام کرتے ہیں اس لیے یہ ٹیکس ان کے لیے ایک بڑا مالی بوجھ بن جاتا ہے۔

جب حکومت زیادہ ٹیکس عائد کرتی ہے تو بہت سے کاروبار اپنی آمدن یا کاروباری حجم کم ظاہر کرنے کا راستہ اختیار کرتے ہیں جس کے باعث ان کی دستاویزی حیثیت محدود رہ جاتی ہے اور وہ بڑے پیمانے پر ترقی کرنے سے محروم رہتے ہیں۔اسی طرح وہ اپنے تمام ملازمین کو بھی باضابطہ طور پر رجسٹر نہیں کرتے کیونکہ کاروبار کا حجم بڑھنے کی صورت میں انہیں انڈسٹریل ریلیشنز آرڈیننس، سوشل سیکیورٹی، ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹس انسٹی ٹیوشن اور متعدد دیگر قانونی تقاضوں پر عمل کرنا پڑتا ہے جس سے ان کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوجاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ حکومت میں موجود ہر شخص اس بات سے اتفاق کرتا ہے کہ یہ پیچیدگیاں سرے سے ہونی ہی نہیں چاہئیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ رکاوٹیں اپنی جگہ مضبوطی سے جمی ہوئی ہیں۔

اصل نکتہ یہ ہے کہ رعایتی مالیاتی اسکیموں یا بینکوں کو ایس ایم ایز کو زیادہ قرضے دینے پر آمادہ کرنے جیسے اقدامات، اکیلے اس شعبے کو معاشی ترقی کا حقیقی انجن بنانے کے لیے کافی نہیں ہوں گے۔ویسے بھی نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی پہلے ہی محدود ہے کیونکہ حکومت کے بڑھتے ہوئے داخلی قرضوں نے بینکوں کی توجہ نجی شعبے کے بجائے سرکاری قرضہ جات کی طرف منتقل کردی ہے جس سے نجی کاروبار کے لیے قرضوں کی گنجائش کم ہوگئی ہے۔ مزید یہ کہ جو قرضے دستیاب بھی ہوتے ہیں بینک انہیں چند معروف اور قابلِ اعتماد کاروباری خاندانوں کو دینا زیادہ محفوظ سمجھتے ہیں کیونکہ ہمارے ہاں جائیداد ضبطی اور دیوالیہ پن کے قوانین کمزور ہیں اور ان کا نفاذ اس سے بھی زیادہ غیر مؤثر ہے۔

مرکزی بینک اور وزارتِ خزانہ بینکوں پر ایس ایم ایز کو قرض دینے کے لیے دباؤ ڈالتے ہیں جس کے نتیجے میں بینک ایس ایم ایز کے لبادے میں درمیانے درجے کے یا بڑے کاروباروں کو زیادہ قرض دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر کوئی رعایتی اسکیمیں متعارف کرائی بھی جاتی ہیں تو بینک ان میں حصہ لینے کے لیے تیار تو ہوتے ہیں، مگر ایسی ضمانتوں کی شرط پر جہاں سارا مالی خطرہ حکومت پر منتقل ہو جاتا ہے۔ ایسی اسکیمیں بظاہر شہ سرخیوں اور پاور پوائنٹ پریزنٹیشنز میں تو بہت پرکشش لگتی ہیں لیکن مجموعی معیشت پر ان کا اثر نہایت محدود رہتا ہے۔

اگر وزیر خزانہ واقعی ایس ایم ایز کی ترقی کی بھول بھلیوں کو سلجھانے میں سنجیدہ ہیں تو انہیں اسلام آباد میں اپنے اندرونی نظام کا جائزہ لینا ہوگا تاکہ کاروباری اداروں کو باضابطہ اور دستاویزی بننے کی ترغیب دی جا سکے۔ یہ وزارتِ خزانہ، ریونیو، کامرس، صنعت، لیبر اور قانون سمیت مختلف وزارتوں کی مشترکہ کوشش ہونی چاہیے تاکہ قانونی اور تعمیلی مسائل کو دور کیا جا سکے۔ اس کے لیے صوبائی ریگولیٹری باڈیز کو بھی ساتھ لانا ہوگا تاکہ تعمیلی اخراجات میں کمی لائی جا سکے جس کے لیے صوبائی حدود کے اندر قوانین کے اطلاق کی حدوں میں ترمیمی ترامیم کی ضرورت ہوگی۔

جب یہ معاملات طے پا جائیں اور ٹیکس حکام اور ٹیکس دہندگان کے درمیان پایا جانے والا عدم اعتماد کم ہوجائے تب ہی بینکنگ سسٹم کی جانب سے فنانسنگ کو بڑھانے کی کوششیں بار آور ثابت ہو سکتی ہیں۔ بصورت دیگر ایس ایم ایز کی فنانسنگ اور ان کا معیشت میں باضابطہ کردار بدستور کم ہی رہے گا۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026