کاروبار اور معیشت

مشرقِ وسطیٰ کشیدگی سے تیل مہنگا، سونا دباؤ کا شکار

*اسپاٹ گولڈ 1.5 فیصد گر کر 4,059.11 ڈالر فی اونس پر آ گیا
شائع اپ ڈیٹ

سونے کی قیمتوں میں پیر کو 1 فیصد سے زائد کی گراوٹ دیکھی گئی، اس کی وجہ آبنائے ہرمز کی بندش کے خدشات کے باعث تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہے جس نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی سے پیدا ہونے والے افراطِ زر کے دباؤ سے نمٹنے کے لیے شرحِ سود میں اضافے کی توقعات کو دوبارہ زندہ کردیا ہے۔

اسپاٹ گولڈ 03:56 جی ایم ٹی تک 1.5 فیصد گر کر 4,059.11 ڈالر فی اونس پر آ گیا۔ اگست میں ڈلیوری کے لیے امریکی گولڈ فیوچرز میں 1.1 فیصد کمی ہوئی اور یہ 4,067.10 ڈالر پر ٹریڈ کررہے تھے۔

امریکی اور ایرانی افواج نے ایک دوسرے پر میزائلوں اور ڈرونز سے شدید حملے کیے جب کہ اتوار کو تہران نے خلیجی ممالک میں واقع امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا اور اعلان کیا کہ اس نے ایک بار پھر عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم آبنائے ہرمز کو بند کر دیا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بڑھنے کے بعد تیل کی قیمتوں میں تقریباً 4 فیصد اضافہ ہوا جب کہ ڈالر اور امریکی ٹریژری ییلڈز بھی بلند ہو گئیں۔ دوسری جانب ایشیائی شیئر بازاروں میں مندی دیکھی گئی۔

اے بی سی ریفائنری میں ادارہ جاتی منڈیوں کے عالمی سربراہ نکولس فریپل نے کہا کہ خلیجی خطے میں جب بھی تشدد یا جنگی کشیدگی بڑھتی ہے سونے کی قیمتوں پر دباؤ آ جاتا ہے۔

بعد ازاں دن کے دوران فیڈرل ریزرو کی نائب چیئر مشل باؤمن اور گورنر کرسٹوفر والر سمیت دیگر پالیسی سازوں کے بیانات بھی سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز رہیں گے کیونکہ ان سے یہ اندازہ لگانے میں مدد مل سکتی ہے کہ بڑھتے ہوئے مہنگائی کے دباؤ نے شرحِ سود میں اضافے سے متعلق مرکزی بینک کے مؤقف کو کس حد تک متاثر کیا ہے۔

سی ایم ای فیڈ واچ ٹول کے مطابق اس وقت تاجروں کی جانب سے ستمبر میں امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرحِ سود میں اضافے کے 72 فیصد امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں جو گزشتہ ہفتے تقریباً 63 فیصد تھے۔

دوسری جانب قیمتی دھاتوں کی مارکیٹ میں اسپاٹ چاندی 2.9 فیصد کمی کے ساتھ 58.14 ڈالر فی اونس پر آ گئی جبکہ پلاٹینم 1.8 فیصد گر کر 1,598.48 ڈالر اور پیلیڈیم 2.3 فیصد کمی کے بعد 1,247.27 ڈالر فی اونس پر آ گیا۔