مارکٹس

پورٹ قاسم نے قومی بجلی بحران ٹالنے کے لیے مون سون کے دوران تاریخی آپریشن مکمل کر لیا

  • 49 کلومیٹر طویل نیویگیشن چینل میں ایس کے ریزولیوٹ کو بحفاظت منزل تک پہنچایا گیا
شائع اپ ڈیٹ

پورٹ قاسم اتھارٹی (پی کیو اے) نے مون سون کی شدید موسمی صورتحال کے باوجود مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کے ایک بہت بڑے کارگو جہاز کو کامیابی سے راستہ دکھا کر لنگرانداز کر دیا، جس سے ملک میں پیدا ہونے والا توانائی کا شدید بحران ٹل گیا ہے۔

اس انتہائی پرخطر اور ہنگامی آپریشن کے دوران ہفتے کے روز شدید خراب موسم میں ایس کے ریزولیوشن نامی جہاز کو 49 کلومیٹر طویل بحری راستے (نیوی گیشنل چینل) سے گزار کر منزل تک پہنچایا گیا۔

یہ بحران اس وقت پیدا ہوا جب علاقائی کشیدگی میں اضافے کے باعث قطر انرجی کے دو طے شدہ جہازوں کو ناگزیر وجوہات کے تحت اپنی سپلائی منسوخ کرنی پڑی۔ پی کیو اے کے پبلک ریلیشنز آفیسراسد الطاف حسین وارثی نے ایک بیان میں بتایا کہ گرمی کے عروج کے سیزن میں ایندھن کی شدید قلت کا سامنا کرتے ہوئے پاکستان ایل این جی لمیٹڈ (پی ایل ایل) راستے میں موجود ایک ہنگامی اسپاٹ کارگو حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔

پورٹ قاسم کی بحری صلاحیت کی آخری حدود میں کام کرتے ہوئے پی کیو اے کی آپریشنز ٹیم نے جہاز کو باحفاظت لنگرانداز کرنے کے لیے انتہائی مہارت کا مظاہرہ کیا۔ ایس کے ریزولیوشن 171,951 کیوبک میٹر ایل این جی لے کر پہنچا، جو پی جی پی سی ایل ٹرمینل پر ہینڈل کیا جانے والا اب تک کا سب سے بڑا واحد ایل این جی کارگو ہے۔ 47.8 میٹر چوڑائی (بیم وڈتھ) کے ساتھ یہ مون سون کے سیزن کے دوران پورٹ قاسم پر ہینڈل کیا جانے والا اب تک کا سب سے چوڑا ایل این جی بردار جہاز بھی ہے۔

پی کیو اے کا کہنا ہے کہ بحری شعبے کی اس تاریخی کامیابی نے قومی ٹرانسمیشن سسٹم کو اہم گیس کی بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنا دیا ہے۔ اس کامیاب آپریشن نے ملک کے پاور گرڈ کو استحکام بخشا ہے، جس سے پاکستان بھر کے لاکھوں گھرانوں اور صنعتی یونٹوں کو بجلی کی مسلسل فراہمی یقینی ہو گئی ہے۔

بلومبرگ نے 9 جولائی کو رپورٹ کیا تھا کہ آبنائے ہرمز میں نئی ​​دشمنی اور کشیدگی کی وجہ سے قطر سے سپلائی متاثر ہونے کے بعد پاکستان فوری طور پر ایل این جی کارگو حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جس نے ملک کو دوبارہ مہنگی اسپاٹ مارکیٹ کا رخ کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔

کمپنی کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے ایک نوٹس کے مطابق سرکاری ملکیتی کمپنی پاکستان ایل این جی لمیٹڈ (پی ایل ایل) نے 15-16 جولائی کو ڈیلیوری کے لیے ایل این جی کارگو خریدنے کا ٹینڈر جاری کیا تھا، جس کی بولیاں جمع کرانے کی آخری تاریخ جمعہ تھی۔

معاملے سے واقف تاجروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بلومبرگ کو بتایا تھا کہ اس ماہ کے لیے طے شدہ قطری ایل این جی کی کھیپ منسوخ ہونے کے بعد حکومت نے بدھ کو اس ٹینڈر کی منظوری دی تھی۔