اداریہ

راوی کے سیلابی میدان پر تجاوزات، خطرے کی گھنٹی

  • سپارکو کی جانب سے جاری کردہ تازہ سیٹلائٹ تصاویر اس غلط فہمی کو دور کر دینی چاہییں کہ لاہور کا مسلسل راوی کے سیلابی میدان میں پھیلاؤ ترقی کی علامت ہے
شائع اپ ڈیٹ

راوی کے بارے میں پائی جانے والی سب سے بڑی غلط فہمیوں میں سے ایک یہ ہے کہ چونکہ یہ دریا سال کے بیشتر حصے میں تقریباً خشک رہتا ہے، اس لیے اس سے کوئی خاص خطرہ نہیں۔ سندھ طاس معاہدے کے تحت راوی کے بیشتر پانی کا حق بھارت کو دیا گیا، جس کے نتیجے میں پاکستان میں اس کے زیریں حصے تک صرف محدود مقدار میں پانی پہنچتا ہے، سوائے مون سون کے موسم یا سیلابی پانی چھوڑے جانے کے اوقات کے۔ تاہم یہ ظاہری خشکی ایک بڑے خطرے پر پردہ ڈال دیتی ہے۔ شدید مون سون بارشیں، اور ان کے ساتھ ایسے مواقع پر جب بھارت زیادہ بارشوں کے دوران اضافی پانی چھوڑتا ہے، اچانک آنے والے سیلابی ریلے چند ہی گھنٹوں میں راوی کو ایک طغیانی مچاتے دریا میں تبدیل کر سکتے ہیں۔ مزید یہ کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت معلومات کے تبادلے کے نظام کی معطلی نے اس خطرے میں مزید اضافہ کر دیا ہے، کیونکہ اب پاکستان کو دریا کے بہاؤ میں تبدیلی کے بارے میں پیشگی اطلاع نہیں ملتی۔

اسی لیے سپارکو کی جانب سے جاری کردہ تازہ سیٹلائٹ تصاویر اس غلط فہمی کو دور کر دینی چاہییں کہ لاہور کا مسلسل راوی کے سیلابی میدان میں پھیلاؤ ترقی کی علامت ہے۔ گزشتہ 35 برسوں کے دوران شہر بتدریج اس زمین پر قابض ہوتا گیا ہے جسے قدرت نے شدید بارشوں اور سیلاب کے دوران پانی کے گزرنے اور جذب ہونے کے لیے مخصوص کر رکھا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کے باعث شدید بارشوں کی شدت اور تعداد میں اضافے کے ساتھ اس سیلابی میدان کو محدود کرنا محض غیر دانشمندانہ نہیں بلکہ انتہائی خطرناک بھی ہے۔ گزشتہ سال آنے والے سیلاب، جس میں سیلابی میدان میں قائم ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کے کم از کم 80 گھر زیرِ آب آ گئے تھے، اس حقیقت کی واضح یاد دہانی تھے کہ دریا بالآخر اپنی گزرگاہ اور جگہ واپس حاصل کر لیتے ہیں۔

سپارکو کے نتائج ان خدشات کی توثیق کرتے ہیں جن کی ماحولیاتی ماہرین برسوں سے نشاندہی کرتے آ رہے ہیں کہ پاکستان کی شہری منصوبہ بندی ماحولیاتی حقائق سے ہم آہنگ نہیں ہو سکی۔ شہر نکاسیٔ آب کے نظام، آبی گزرگاہوں، دلدلی علاقوں، دریا کے قدرتی راستوں اور سبزہ زاروں کو نظر انداز کرتے ہوئے مسلسل نہیں پھیل سکتے۔ راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور آزاد ماہرین کے متضاد دعوے اس بات کی بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ اس معاملے میں زیادہ شفافیت کی ضرورت ہے۔ اگر منظور شدہ منصوبے واقعی جامع ہائیڈرولوجیکل مطالعات کی بنیاد پر تیار کیے گئے ہیں اور فعال سیلابی میدان سے باہر واقع ہیں تو ان مطالعات کو آزاد سائنسی جانچ کے لیے عوام کے سامنے پیش کیا جانا چاہیے۔ اس نوعیت کے بڑے منصوبوں پر عوامی اعتماد صرف سرکاری یقین دہانیوں سے نہیں بلکہ شفافیت اور قابلِ تصدیق شواہد سے قائم کیا جا سکتا ہے۔

ترقی اور ماحولیاتی تحفظ ایک دوسرے کی ضد نہیں ہیں۔ دنیا کے متعدد شہروں نے سخت سیلابی میدان کے قوانین نافذ کرکے، گرین بیلٹس محفوظ رکھ کر، جدید فلڈ کنٹرول انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کرکے اور شہری منصوبہ بندی میں سائنسی بنیادوں پر خطرات کا جائزہ شامل کرکے دریاؤں کے ساتھ کامیابی سے ہم آہنگی پیدا کی ہے۔ پاکستان کو کوئی نیا راستہ ایجاد کرنے کی ضرورت نہیں، بلکہ صرف ان آزمودہ اصولوں کو اپنانے اور ان پر مؤثر عمل درآمد کے لیے سیاسی عزم درکار ہے۔ اسی طرح ماحولیاتی قوانین کا یکساں نفاذ بھی نہایت ضروری ہے۔ کوئی بھی ترقیاتی ادارہ، خواہ اس کا مینڈیٹ کتنا ہی اہم کیوں نہ ہو، ایسے قوانین سے مستثنیٰ نہیں ہونا چاہیے جو انسانی جانوں، املاک اور ماحول کے تحفظ کے لیے وضع کیے گئے ہیں۔

سپارکو کی جانب سے جاری کیا گیا یہ انتباہ محض ایک اور تکنیکی رپورٹ سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ اسے راوی کے کنارے شہری منصوبہ بندی پر فوری نظرثانی کا باعث بننا چاہیے۔ سیلابی میدان پر ہر قسم کی تجاوزات روکی جائیں، زوننگ قوانین پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے، ماحولیاتی اثرات کے جائزوں کو پوری سختی سے نافذ کیا جائے اور جہاں ممکن ہو دریا کے قدرتی راستوں کو بحال کیا جائے۔ راوی کا سیلابی میدان کوئی اضافی اراضی نہیں جسے تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے، بلکہ یہ سیلاب سے بچاؤ کی ایک نہایت اہم قدرتی حفاظتی ڈھال ہے۔ ذمہ دار طرزِ حکمرانی کا تقاضا ہے کہ دریا کا احترام کیا جائے، ورنہ قدرت اپنی طاقت کا کہیں زیادہ مہنگا اور تکلیف دہ احساس دلا سکتی ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026