اڑان پاکستان 2035 تک ایک ٹریلین ڈالر معیشت کا روڈ میپ ہے، احسن اقبال
- پائیدار ترقی کے لیے مسلسل اصلاحات اور طویل المدتی قومی حکمت عملی ناگزیر ہے، وفاقی وزیر
وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان نے معاشی بحالی، قومی استحکام اور سفارتی کامیابیوں کی بدولت مواقع کے ایک نئے دور میں داخل ہو چکا ہے، تاہم پائیدار ترقی کے لیے مسلسل اصلاحات اور طویل المدتی قومی حکمت عملی ناگزیر ہے۔
رائس یونیورسٹی میں طلبہ، اساتذہ، محققین اور پاکستانی کمیونٹی سے خطاب کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ آپریشن بنیان المرصوص کی کامیاب تکمیل نے پاکستان کی اسٹرٹیجک صلاحیت، قومی یکجہتی اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کا مظاہرہ کیا، جس سے ملک کے استحکام پر اعتماد مزید مضبوط ہوا اور سرمایہ کاری و پائیدار معاشی ترقی کے لیے سازگار ماحول پیدا ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اس آپریشن نے عالمی برادری کے سامنے بھارت کی جارحیت کو بے نقاب کیا، جبکہ پاکستان نے خطے میں امن و سلامتی کے لیے ذمہ دارانہ اور متوازن طرزِ عمل اپنایا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان ایک ذمہ دار اور قابلِ اعتماد عالمی شراکت دار کے طور پر دوبارہ ابھرا ہے، جو تصادم کے بجائے مذاکرات اور تعاون کو ترجیح دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بڑی عالمی طاقتوں اور خطے کے ممالک کے ساتھ متوازن سفارت کاری نے پاکستان کے بین الاقوامی تشخص کو مضبوط کیا اور نئے اقتصادی شراکت داری کے مواقع پیدا کیے ہیں۔
احسن اقبال نے کہا کہ اڑان پاکستان محض ایک اقتصادی پروگرام نہیں بلکہ قومی تبدیلی کا مشن ہے، جس کا مقصد پاکستان کو کھپت پر مبنی معیشت سے پیداواری اور اختراع پر مبنی معیشت میں تبدیل کرنا، کم قدر برآمدات سے زیادہ قدر والی صنعتوں کی طرف منتقل کرنا اور بیرونی امداد پر انحصار کے بجائے سرمایہ کاری اور مسابقت کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے 2035 تک پاکستان کو ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت بنانے کے حکومتی ہدف کا اعادہ کرتے ہوئے سمندر پار پاکستانیوں، جامعات اور نوجوان پیشہ ور افراد پر زور دیا کہ وہ ملک کی پائیدار اور جامع ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔
بعد ازاں احسن اقبال نے ہیوسٹن کی جناح لائبریری میں پاکستانی نژاد امریکی کمیونٹی کے ساتھ قائداعظم محمد علی جناح اور علامہ محمد اقبال کی 150ویں سالگرہ کی تقریبات میں شرکت کی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے 2026 کو قائداعظم کا سال قرار دیا ہے تاکہ بانیانِ پاکستان کی قیادت، نظریات اور قومی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا جا سکے اور ان کے اصولوں کو نئی نسل تک منتقل کیا جا سکے۔