بی آر ریسرچ

ڈیجیٹل ترقی کے باوجود ڈیجیٹل رسائی بدستور چیلنج

  • ملک کا آئی ڈی آئی اسکور 2025 میں 56.4 سے بڑھ کر 2026 میں 67.7 ہو گیا، جو سالانہ بنیاد پر 20 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے
شائع اپ ڈیٹ

آئی سی ٹی ڈویلپمنٹ انڈیکس 2026 میں پاکستان کی تازہ درجہ بندی حوصلہ افزا ضرور ہے، لیکن اسے مکمل کامیابی کی کہانی نہیں کہا جا سکتا۔ بہتر یہ ہوگا کہ اسے ایک کمزور ابتدائی بنیاد سے ہونے والی بہتری کے طور پر دیکھا جائے۔

ملک کا آئی ڈی آئی اسکور 2025 میں 56.4 سے بڑھ کر 2026 میں 67.7 ہو گیا، جو سالانہ بنیاد پر 20 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔ جبکہ 2023 سے اب تک یہ اسکور 48.7 سے بڑھ کر 67.7 تک پہنچ چکا ہے، جو یقیناً ایک نمایاں پیش رفت ہے۔

تاہم پاکستان اب بھی کم آمدنی والے درمیانی درجے کے ممالک کے اوسط 68.9 سے قدرے نیچے، ایشیا پیسیفک کے اوسط سے خاصا پیچھے، اور عالمی اوسط سے بھی کم ہے۔

بین الاقوامی ٹیلی کمیونیکیشن یونین اس انڈیکس میں ممالک کی درجہ بندی جاری نہیں کرتی بلکہ صرف اسکور جاری کرتی ہے تاکہ جامع اور بامعنی رابطہ کاری کی جانب پیش رفت کا جائزہ لیا جا سکے۔ اس پیمانے پر پاکستان کی پیش رفت مثبت ضرور ہے، لیکن اسکور کی تفصیلات یہ ظاہر کرتی ہیں کہ ملک کا ڈیجیٹل چیلنج صرف نیٹ ورک تک محدود نہیں بلکہ اس کا تعلق اپنانے ، ملکیت اور استعمال سے بھی ہے۔

انڈیکس کے دو بنیادی ستون، یعنی یونیورسل کنیکٹیویٹی اور میننگ فل کنیکٹیویٹی ، اصل تصویر پیش کرتے ہیں۔ پاکستان کا میننگ فل کنیکٹیویٹی اسکور 78.5 ہے، جبکہ یونیورسل کنیکٹیویٹی کا اسکور صرف 56.8 ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو افراد پہلے ہی انٹرنیٹ سے منسلک ہیں، وہ ڈیجیٹل خدمات کو نسبتاً مؤثر انداز میں استعمال کر رہے ہیں، لیکن آبادی کا ایک بڑا حصہ اب بھی ڈیجیٹل معیشت سے باہر ہے۔ یہی پاکستان کی ڈیجیٹل کہانی کی سب سے بڑی خرابی ہے۔

ملک میں ڈیٹا نسبتاً سستا ہے اور منسلک صارفین کے استعمال میں بھی اضافہ ہو رہا ہے، مگر رسائی اب بھی ہمہ گیر نہیں بن سکی۔

پاکستان کی سب سے نمایاں طاقت سستی خدمات ہے۔ موبائل ڈیٹا اور وائس پیکج کی لاگت فی کس مجموعی قومی آمدنی کا صرف 1.4 فیصد ہے۔ اگرچہ یہ آئی ٹی یو کے مقررہ 1 فیصد ہدف سے ابھی زیادہ ہے، لیکن پھر بھی یہ کم آمدنی والے درمیانی درجے کے ممالک اور ایشیا پیسیفک کے اوسط سے کہیں کم ہے۔ یہ پاکستان کی ایک پائیدار ڈیجیٹل برتری کی عکاسی کرتا ہے، یعنی ایک انتہائی مسابقتی اور کم قیمت موبائل مارکیٹ۔

تاہم صرف سستی خدمات ڈیجیٹل خلیج کو ختم کرنے کے لیے کافی نہیں۔ درحقیقت یہ ایک تضاد بھی ہے۔ اگر موبائل انٹرنیٹ اتنا سستا ہے تو پھر ہر 100 افراد میں صرف 55 فعال موبائل براڈبینڈ صارفین کیوں ہیں؟ یہ پاکستان کی ایک بڑی کمزوری ہے، جو ظاہر کرتی ہے کہ صرف قیمت ہی رکاوٹ نہیں۔

انڈیکس کے مطابق موبائل فون کی قیمت، آلات کی کم ملکیت، ڈیجیٹل خواندگی کی کمی، مقامی اور مفید آن لائن مواد کی محدود دستیابی، اور خواتین کی رسائی میں صنفی فرق وہ اہم عوامل ہیں جو ڈیجیٹل خدمات کو اپنانے کی رفتار کو سست کر رہے ہیں۔

خاص طور پر ڈیوائس کی ملکیت ایک سنگین مسئلہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق صرف 49.8 فیصد افراد کے پاس ذاتی موبائل فون موجود ہے۔ اگر لوگوں کے پاس مناسب ڈیوائس ہی نہ ہو تو سستا ڈیٹا بھی ان کے لیے فائدہ مند ثابت نہیں ہو سکتا۔ یہ صورتحال ای کامرس، مالیاتی شمولیت، آن لائن تعلیم، ڈیجیٹل سرکاری خدمات اور ٹیکنالوجی پر مبنی برآمدی معیشت کے قیام جیسے اہداف کے لیے بھی رکاوٹ بنتی ہے۔

کوریج بھی ایک تشویشناک پہلو ہے۔ پاکستان میں تھری جی اور فور جی دونوں کی آبادی کے لحاظ سے کوریج 81 فیصد بتائی گئی ہے، جس کا مطلب ہے کہ تقریباً 20 فیصد آبادی اب بھی موبائل براڈبینڈ کی رسائی سے باہر ہے۔ غالب امکان ہے کہ یہ خلا دیہی اور دور دراز علاقوں میں زیادہ نمایاں ہے، جو پاکستان جیسے ملک کے لیے ایک بڑا مسئلہ ہے۔

اس کے علاوہ پیمائش سے متعلق ایک اہم احتیاط بھی موجود ہے۔ آئی سی ٹی ڈویلپمنٹ انڈیکس ہر اس عنصر کا احاطہ نہیں کرتا جو ڈیجیٹل ترقی کے لیے اہم ہے۔ اس میں فکسڈ براڈبینڈ کی رسائی، انٹرنیٹ کی رفتار، ڈیجیٹل مہارتیں، آن لائن تحفظ اور سائبر سکیورٹی شامل نہیں ہیں۔ رپورٹ یہ بھی خبردار کرتی ہے کہ قومی سطح کے اوسط اعداد و شمار مختلف علاقوں اور آبادی کے مختلف طبقات کے درمیان موجود نمایاں فرق کو چھپا سکتے ہیں۔

لہٰذا ممکن ہے کہ پاکستان میں حقیقی ڈیجیٹل خلیج اس سرخی میں نظر آنے والے اسکور سے بھی زیادہ وسیع ہو۔

پالیسی کے اعتبار سے نتیجہ بالکل واضح ہے۔ پاکستان نے پیش رفت ضرور کی ہے اور سستی موبائل خدمات اس کی حقیقی طاقت ہیں۔ ڈیٹا سستا ہے، مقامی سطح پر موبائل فون کی اسمبلنگ میں بھی اضافہ ہوا ہے، لیکن ڈیجیٹل خدمات کے وسیع استعمال کی راہ میں کوریج کی کمی، موبائل فون کی استطاعت، کمزور ڈیجیٹل خواندگی، خواتین کی محدود رسائی، اور روزمرہ زندگی میں ڈیجیٹل خدمات کے محدود استعمال جیسے مسائل اب بھی بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔