دنیا

فرانسیسی صدر میکرون کے دورۂ دمشق کے دوران دارالحکومت میں دھماکے

  • دھماکوں کے بعد علاقے کی سڑکیں بند کر دی گئیں اور سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے
شائع اپ ڈیٹ

شام کے دارالحکومت دمشق میں منگل کو اس ہوٹل کے قریب دھماکے ہوئے جہاں فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون قیام پذیر تھے، تاہم فرانسیسی ایوانِ صدر (ایلیزے) کے مطابق میکرون نہ صرف محفوظ رہے بلکہ انہیں دھماکوں کی آواز بھی سنائی نہیں دی۔ بعد ازاں انہوں نے شامی صدر احمد الشرع سے ملاقات بھی کی۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دھماکوں کے بعد علاقے کی سڑکیں بند کر دی گئیں اور سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے۔ عینی شاہدین نے دھماکوں کی آوازیں سننے اور علاقے سے دھواں اٹھتے ہوئے دیکھنے کی تصدیق کی۔

ایلیزے کے مطابق صدارتی قافلے کو دھماکوں سے کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوا، جبکہ میکرون کے ہمراہ موجود رائٹرز کے صحافی نے بھی صبح کی مصروفیات کے دوران نہ کوئی دھماکہ سنا اور نہ ہی غیر معمولی صورتحال دیکھی۔

بعد ازاں شامی سرکاری ٹیلی ویژن نے اطلاع دی کہ صدر میکرون اور صدر احمد الشرع کے درمیان صدارتی محل میں ملاقات ہوئی۔

صدر میکرون، احمد الشرع کی قیادت میں شام میں سیاسی تبدیلی کے بعد یورپی یونین کے کسی بھی رکن ملک کے پہلے سربراہ ہیں جنہوں نے شام کا دورہ کیا ہے۔ احمد الشرع، جو ماضی میں القاعدہ سے وابستہ رہ چکے ہیں، 2024 میں بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد اقتدار میں آئے اور اب مغربی و مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے اور طویل جنگ سے تباہ حال ملک کی تعمیرِ نو کی کوششوں میں مصروف ہیں۔