آبادی میں بے قابو اضافہ، ریاستی پالیسیوں میں بڑا تضاد
- پاکستان خاموشی سے دنیا کا پانچواں سب سے زیادہ آبادی والا ملک بن چکا ہے
پاکستان کے آبادی بحران کے بارے میں اب شاید ہی کوئی ایسی بات باقی رہ گئی ہو جو گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران کہی نہ جا چکی ہو۔ وزرائے اعظم، صدور، بین الاقوامی تنظیمیں، ماہرینِ اقتصادیات اور ترقیاتی ماہرین سب بارہا خبردار کرتے رہے ہیں کہ اگر آبادی میں بے قابو اضافہ جاری رہا تو بالآخر یہ ملک کے وسائل پر اس قدر بوجھ ڈال دے گا کہ پائیدار ترقی کو نقصان پہنچے گا۔
لیکن جہاں ایک طرف انتباہات میں اضافہ ہوتا گیا، وہیں دوسری جانب آبادی بھی بڑھتی رہی، یہاں تک کہ پاکستان خاموشی سے دنیا کا پانچواں سب سے زیادہ آبادی والا ملک بن گیا۔
اسی لیے وزیراعظم شہباز شریف کا یہ انتباہ بالکل درست ہے کہ آبادی میں تیز رفتار اضافہ قومی وسائل پر بڑھتا ہوا دباؤ ڈال رہا ہے اور طویل المدتی معاشی استحکام کے لیے خطرہ بنتا جا رہا ہے۔ ان کی جانب سے نیشنل پاپولیشن کونسل کا اجلاس بلانا بھی اس بات کا ایک تاخیر سے سہی مگر اہم اعتراف ہے کہ آبادی سے متعلق دباؤ اب ایک اسٹریٹجک قومی چیلنج بن چکا ہے۔ تاہم اصل مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان اس مقام پر کئی دہائیوں تک سرکاری سطح پر مسئلے کو تسلیم کرنے کے باوجود نہایت محدود اور غیر مؤثر عملی اقدامات کے بعد پہنچا ہے۔
اس کے نتائج تقریباً ہر بڑے شعبے میں واضح نظر آتے ہیں۔ فی کس پانی کی دستیابی میں نمایاں کمی آ چکی ہے۔ فی کس زرعی زمین مسلسل سکڑ رہی ہے۔ شہری انفراسٹرکچر بڑھتی ہوئی آبادی کا بوجھ اٹھانے میں مشکلات کا شکار ہے۔ اسکول، اسپتال، ٹرانسپورٹ کا نظام اور رہائش کی سہولیات مسلسل دباؤ میں ہیں۔ ہر سال لیبر فورس میں شامل ہونے والے نوجوانوں کی تعداد کے مقابلے میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی رفتار مسلسل ناکافی رہتی ہے۔ معاشی ترقی، خواہ کتنی ہی اہم کیوں نہ ہو، آبادی میں مسلسل اضافے کے باعث بار بار اپنی مؤثریت کھو دیتی ہے۔
تاہم شاید اس بحث کا سب سے زیادہ حیران کن پہلو یہ ہے کہ خود ریاست اب بھی اسی رجحان کی حوصلہ افزائی کرتی دکھائی دیتی ہے، جسے وہ آج قومی خطرہ قرار دے رہی ہے۔
نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ اس کی سب سے واضح مثال ہے۔ اگرچہ وسائل کی تقسیم کے فارمولے میں کئی اشاریوں کو شامل کیا گیا ہے، لیکن صوبوں کے درمیان وسائل کی افقی تقسیم میں آبادی اب بھی 82 فیصد وزن رکھتی ہے، جیسا کہ ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے تحت اختیار کیے گئے فارمولے میں طے کیا گیا تھا اور بعد ازاں بھی اسے برقرار رکھا گیا۔ مسلسل آنے والی حکومتیں ایک طرف تو یہ کہتی رہی ہیں کہ آبادی میں بے قابو اضافہ ناقابلِ پائیداری ہے، مگر دوسری طرف وہ ایسا مالیاتی ڈھانچہ برقرار رکھے ہوئے ہیں جس میں زیادہ آبادی کو وسائل کی تقسیم میں بدستور سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہے۔
یہ تضاد صرف یہیں ختم نہیں ہوتا۔ سرکاری ملازمتوں کے کوٹے اور مختلف انتظامی نظام بھی بڑی حد تک آبادی پر مبنی معیار پر انحصار کرتے ہیں۔ اگرچہ ان پالیسیوں کی تاریخی اور آئینی بنیادیں موجود ہو سکتی ہیں، لیکن یہ بار بار آبادی کو مستحکم کرنے کی سرکاری اپیلوں کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتیں۔ کوئی بھی عوامی پالیسی ایک ایسے نتیجے کی حوصلہ شکنی قابلِ اعتبار انداز میں نہیں کر سکتی، جبکہ ریاستی اداروں کے اندر موجود ترغیبات اسی نتیجے کی حوصلہ افزائی کرتی رہیں۔ اس تضاد پر اس وقت ہونے والی عوامی بحث سے کہیں زیادہ سنجیدہ غور و فکر کی ضرورت ہے۔
آبادی سے متعلق پالیسی صرف آگاہی مہمات، سرکاری اجلاسوں اور وقتاً فوقتاً تشویش کے اظہار سے کامیاب نہیں ہو سکتی۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ حکومت کا ہر ادارہ ہم آہنگ اور یکساں مقاصد کے تحت کام کرے۔ مالیاتی انتظامات، ترقیاتی منصوبہ بندی، تعلیم، صحت، لیبر پالیسی اور سماجی بہبود کی پالیسیاں ایک دوسرے کو مضبوط کریں، نہ کہ ایک دوسرے کی راہ میں رکاوٹ بنیں۔
اسی لیے وزیراعظم کی جانب سے آبادی کی منصوبہ بندی کو معاشی ترقی، انسانی ترقی اور وسائل کے انتظام کے ساتھ جوڑنے پر دیا گیا زور بالکل مناسب ہے۔ اصل چیلنج یہ ہے کہ آیا اس ادراک کو ایسے عملی اصلاحات میں تبدیل کیا جا سکتا ہے جو برسوں سے چلے آ رہے ادارہ جاتی رویوں کو بدل سکیں۔ پاکستان میں آبادی کے مسئلے پر حکمتِ عملیوں، کمیٹیوں اور پالیسی دستاویزات کی کبھی کمی نہیں رہی، لیکن ان سب کی مشترکہ کمزوری ان پر عمل درآمد کا فقدان رہا ہے۔
اب یہ مسئلہ محض سماجی پالیسی تک محدود نہیں رہا۔ آبادی سے متعلق بڑھتے ہوئے دباؤ کا اثر مالیاتی پائیداری، غذائی تحفظ، پانی کے انتظام، ماحولیاتی دباؤ، روزگار کی فراہمی اور حتیٰ کہ قومی سلامتی پر بھی پڑ رہا ہے۔ حالیہ اجلاس میں ملک کی اعلیٰ عسکری قیادت کی شرکت بھی اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ آبادی میں اضافہ اب صرف ترقیاتی مسئلہ نہیں سمجھا جاتا، بلکہ یہ ایک اسٹریٹجک چیلنج بن چکا ہے جو ملک کے مستقبل کی سمت کا تعین کرے گا۔
پاکستان اب بھی دنیا کی نوجوان ترین آبادی رکھنے والے ممالک میں شامل ہے، جو ایک ڈیموگرافک ڈویڈنڈ حاصل کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے، بشرطیکہ اس انسانی سرمایہ کو مناسب تعلیم، مہارت اور پیداواری روزگار فراہم کیا جائے۔ لیکن اگر یہ شرائط پوری نہ کی گئیں تو آبادی میں مسلسل اضافہ پہلے ہی دباؤ کا شکار وسائل اور اداروں پر ایک بڑھتا ہوا بوجھ بنتا جائے گا۔
انتباہات بارہا دیے جا چکے ہیں۔ اعداد و شمار متعدد مرتبہ ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔ اس مسئلے کو برسوں سے سمجھا جا چکا ہے۔ اب جس چیز کی کمی ہے، وہ ان پالیسی تضادات کا سامنا کرنے کے لیے ریاست کی سنجیدگی اور آمادگی ہے، جنہوں نے اس بحران کو جنم دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ پاکستان کا آبادی بحران اب تشخیص کا مسئلہ نہیں رہا، بلکہ یہ اس بات کا امتحان ہے کہ آیا ریاست آخرکار ان حقائق پر عمل کرنے کے لیے تیار ہے جن سے وہ طویل عرصے سے واقف ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026