مارکٹس

جاپانی ین 40 سال کی کم ترین سطح کے قریب، حکومت کی اچانک مداخلت کا خدشہ

  • ایشیائی کاروباری اوقات میں ین امریکی ڈالر کے مقابلے میں 162 کی سطح سے کمزور رہا
شائع اپ ڈیٹ

جاپانی کرنسی ین منگل کو ایک بار پھر دباؤ کا شکار رہی، کیونکہ جاپانی حکام کی جانب سے مارکیٹ میں مداخلت کے کوئی آثار سامنے نہ آنے پر سرمایہ کاروں نے ین کی فروخت جاری رکھی۔ تاہم ٹوکیو کی جانب سے اچانک مداخلت کے خدشے نے اس کی مزید گراوٹ کو محدود رکھا۔

ایشیائی کاروباری اوقات میں ین امریکی ڈالر کے مقابلے میں 162 کی سطح سے کمزور رہا، جبکہ برطانوی پاؤنڈ کے مقابلے میں بھی تقریباً 2007 کے بعد کی کم ترین سطح 217.09 ین کے قریب ٹریڈ کرتا رہا۔ دوسری جانب یورو 185.47 ین پر پہنچ گیا، جو گزشتہ سیشن کے مقابلے میں 0.5 فیصد اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔

ایم یو ایف جی کے سینئر کرنسی تجزیہ کار لی ہارڈمین کے مطابق گزشتہ ہفتے امریکی تعطیل کے دوران جاپانی حکومت کی ممکنہ مداخلت کی قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں، لیکن کوئی کارروائی نہ ہونے کے باعث ین نے اپنی حالیہ مضبوطی کا بڑا حصہ کھو دیا۔

ادھر عالمی کرنسی مارکیٹ میں امریکی ڈالر بھی دباؤ میں رہا، کیونکہ توقع سے کمزور امریکی روزگار کے اعداد و شمار کے بعد رواں سال فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کی توقعات مزید کم ہو گئی ہیں۔

یورو معمولی اضافے کے ساتھ 1.1442 ڈالر تک پہنچ گیا، جبکہ برطانوی پاؤنڈ دو ہفتوں سے زائد کی بلند ترین سطح 1.34005 ڈالر پر ٹریڈ کرتا رہا۔ ڈالر انڈیکس مختلف بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں 100.86 پر رہا۔

مارکیٹ میں اب دسمبر تک فیڈرل ریزرو کی جانب سے مجموعی طور پر تقریباً 29 بیسس پوائنٹس شرح سود بڑھانے کی توقع کی جا رہی ہے، جو ایک ہفتہ قبل تقریباً 38 بیسس پوائنٹس تھی۔

سرمایہ کاروں کی توجہ اب بدھ کو جاری ہونے والے فیڈرل اوپن مارکیٹ کمیٹی کے جون کے اجلاس کے منٹس پر مرکوز ہے، جن سے آئندہ مانیٹری پالیسی اور شرح سود کے ممکنہ رخ سے متعلق اہم اشارے ملنے کی توقع کی جا رہی ہے۔

دوسری جانب آسٹریلوی ڈالر 0.6955 امریکی ڈالر پر مستحکم رہا، جبکہ نیوزی لینڈ ڈالر معمولی اضافے کے ساتھ 0.5702 امریکی ڈالر تک پہنچ گیا۔