کاروبار اور معیشت

ٹیلی نار یوفون انضمام کے بعد سینکڑوں ملازمین کی برطرفی کا امکان

  • کمپنی مختلف شعبوں میں ایک جیسے عہدوں کے خاتمے کے لیے بڑے پیمانے پر تنظیمِ نو (ری اسٹرکچرنگ) کر رہی ہے
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے ٹیلی کام انضمام، ٹیلی نار پاکستان اور یوفون کے یکجا ہونے کے بعد قائم ہونے والی نئی کمپنی ای اینڈ ایک نئے اور مشکل مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا ہے کہ کمپنی مختلف شعبوں میں ایک جیسے عہدوں کے خاتمے کے لیے بڑے پیمانے پر تنظیمِ نو (ری اسٹرکچرنگ) کر رہی ہے، جس کے نتیجے میں سیکڑوں ملازمین کو ملازمت سے فارغ کیے جانے کا امکان ہے۔

باخبر ذرائع کے مطابق افرادی قوت کو کم کرنے کا عمل شروع ہو چکا ہے اور ٹیلی نار پاکستان اور یوفون کے انضمام کی قانونی تکمیل کے بعد آئندہ چند ہفتوں میں مکمل ہونے کی توقع ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ملازمین کی تعداد میں کمی کی بنیادی وجہ دونوں کمپنیوں کے انضمام کے بعد مختلف شعبوں میں ایک جیسے عہدوں کا پیدا ہونا ہے۔ سیلز، مارکیٹنگ، فنانس، ہیومن ریسورسز، ٹیکنالوجی، کسٹمر سروسز اور انتظامی شعبوں میں نمایاں تنظیمِ نو متوقع ہے۔

ذرائع کے مطابق ماضی کے ٹیلی کام انضمامات کے برعکس، متاثرہ ملازمین کو پرکشش رضاکارانہ علیحدگی اسکیم کے تحت بڑے مالی پیکجز ملنے کا امکان نہیں۔ زیر غور معاوضہ صرف چند ماہ کی تنخواہ تک محدود ہے، جبکہ اس سے قبل وارد اور موبی لنک کے انضمام کے بعد بننے والی جاز میں ملازمین کو کہیں زیادہ مراعات دی گئی تھیں۔

انضمام سے قبل ٹیلی نار پاکستان میں تقریباً 800 ملازمین کام کر رہے تھے، جبکہ یوفون کے تقریباً 300 ملازمین کو پہلے ہی کمپنی کے ہیڈکوارٹر 345 منتقل کیا جا چکا ہے۔ انضمام کے عمل کے ساتھ مزید تبادلوں کی بھی توقع ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ انضمام کے بعد ملازمین کی مجموعی تعداد آپریشنل ضروریات سے کہیں زیادہ ہو گئی ہے، جس کے باعث اندازہ ہے کہ کمپنی اپنے عملے میں تقریباً 300 سے 500 ملازمین کی کمی کر سکتی ہے تاکہ اسے پاکستان کی سب سے بڑی موبائل کمپنی جاز کے موجودہ تقریباً 1,100 ملازمین کے مساوی سطح پر لایا جا سکے۔

ذرائع کے مطابق تنظیمِ نو کے اثرات پہلے ہی سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ حال ہی میں سیلز کے ایک سینئر عہدیدار نے نئی کمپنی میں ایک عہدے کے لیے مقابلے میں ناکامی کے بعد استعفیٰ دے دیا۔ ذرائع کے مطابق اس عہدے کے لیے ان سمیت ایک اور امیدوار نے انٹرویوز اور جانچ کے مراحل مکمل کیے، تاہم یہ عہدہ خواجہ شہزاد اللہ کو دے دیا گیا، جس کے بعد ناکام امیدوار وقاص امان اللہ نے استعفیٰ دے دیا۔

ادھر ملازمین میں ملازمت کے تحفظ کے حوالے سے بے یقینی بڑھتی جا رہی ہے۔ ان کا خدشہ ہے کہ آئندہ ہفتوں میں بھی تنظیمِ نو کا عمل جاری رہے گا کیونکہ کمپنی اخراجات میں کمی، دہرے عہدوں کے خاتمے اور آپریشنل استعداد بہتر بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔

اس معاملے پر کمپنی کا مؤقف جاننے کے لیے رابطہ کرنے پر پی ٹی ایم ایل کے ڈائریکٹر کارپوریٹ کمیونیکیشنز، سعد مصطفیٰ وڑائچ نے کہا کہ نئی ضم شدہ تنظیم کے اس مرحلے پر ہماری توجہ انضمام کے عمل، آپریٹنگ ڈھانچے، گورننس اور پالیسیوں کے قیام پر مرکوز ہے۔ اس لیے اس وقت اندرونی منصوبوں سے متعلق قیاس آرائیوں پر تبصرہ نہیں کیا جا سکتا۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026