ٹیکس دہندگان کے خفیہ مالیاتی ڈیٹا کے تحفظ کو مزید مضبوط بنا جائے،وفاقی ٹیکس محتسب کا تاریخی حکم
- یہ تنازعہ وفاقی ٹیکس محتسب کے 11 جون 2026 کے ایک سابقہ حکم سے شروع ہوا
وفاقی ٹیکس محتسب (ایف ٹی او) ظفر حجازی نے ٹیکس دہندگان کے خفیہ مالیاتی ریکارڈ کے تحفظ کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ایک تاریخی حکم جاری کرتے ہوئے ٹیکس حکام کو ہدایت دی ہے کہ ٹیکس دہندگان کے مالیاتی ڈیٹا اور خفیہ ٹیکس معلومات کسی غیر مجاز شخص کے سامنے ظاہر نہ کی جائیں اور نہ ہی انہیں ایسی معلومات تک رسائی دی جائے۔ اس حکم کے ذریعے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 216 کے تحت فراہم کردہ رازداری کے قانونی نظام کی دوبارہ توثیق کی گئی ہے۔
ذرائع نے اس نمائندے کو بتایا کہ یہ منفرد حکم گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والے 6 ٹیکس دہندگان کی جانب سے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ایک سینئر افسر کے خلاف دائر کردہ نظرثانی/تصحیح درخواست پر جاری کیا گیا، جس میں قانون کی خلاف ورزی اور مالیاتی ڈیٹا کی سیکیورٹی میں کوتاہی کا معاملہ اٹھایا گیا تھا۔
تمام 6 درخواست گزاروں کی نمائندگی ایڈووکیٹ وحید شہزاد بٹ نے کی، جبکہ محکمہ کی جانب سے وقاص حنیف (، سی آئی آر) اور حسن مبرو ر (اے ڈی سی آئی آر) پیش ہوئے۔
یہ تنازعہ وفاقی ٹیکس محتسب کے 11 جون 2026 کے ایک سابقہ حکم سے شروع ہوا، جس میں واضح طور پر قرار دیا گیا تھا کہ درخواست گزاروں سے متعلق خفیہ ٹیکس معلومات کو دوسرے ٹیکس دہندگان کے اسیسمنٹ آرڈرز میں نقل یا شامل نہیں کیا جانا چاہیے تھا، بلکہ ایسی معلومات کو صرف سرکاری مقاصد کے لیے مکمل رازداری کے ساتھ استعمال کیا جانا چاہیے تھا۔
تاہم، اگرچہ اس فیصلے میں یہ واضح قانونی مؤقف اختیار کیا گیا تھا، لیکن اس کے عملی نفاذ کے لیے ضروری ہدایات جاری نہیں کی گئی تھیں۔ اسی خامی کی بنیاد پر موجودہ تصحیح کی درخواست دائر کی گئی۔
دونوں فریقین کا مؤقف سننے کے بعد وفاقی ٹیکس محتسب نے درخواست نمٹاتے ہوئے قرار دیا کہ درخواست گزاروں کا اعتراض درست ہے۔ محتسب نے مشاہدہ کیا کہ سابقہ حکم میں عملدرآمد سے متعلق ہدایات شامل نہ کرنا ریکارڈ پر موجود ایک غیر ارادی خامی تھی، جس کی تصحیح سے نہ تو پہلے سے دیے گئے فیصلے میں کوئی تبدیلی آتی ہے اور نہ ہی اس کے دائرہ کار میں اضافہ ہوتا ہے، بلکہ یہ پہلے سے دی گئی قانونی رعایت کو مکمل اور مؤثر بناتی ہے۔
وفاقی ٹیکس محتسب نے مزید واضح کیا کہ اگر ٹیکس حکام کسی مواد کو سرکاری ریکارڈ یا اپیلٹ فورمز کے سامنے پیش کرنے کے لیے ضروری سمجھتے ہیں تو انہیں ایسا مواد محفوظ رکھنے سے کوئی نہیں روک سکتا، تاہم یہ مواد محکمانہ خفیہ ریکارڈ کا حصہ ہونا چاہیے۔ مثال کے طور پر متعلقہ اسیسمنٹ آرڈر یا سرکاری دستاویز پر ”Note: not for public“ درج کیا جا سکتا ہے، بجائے اس کے کہ ایسی معلومات ایسے اسیسمنٹ آرڈرز میں شامل کی جائیں جن تک دوسرے ٹیکس دہندگان کی رسائی ہو۔
حکم کے مطابق چیف کمشنر اسیسمنٹ کے ان تمام احکامات کا جائزہ لیں گے جن کی نشاندہی پہلے حکم میں کی گئی تھی، اور قانون کے مطابق ایسے اقدامات کریں گے تاکہ درخواست گزاروں کی وہ خفیہ ٹیکس معلومات، جو کسی دوسرے ٹیکس دہندہ کے اسیسمنٹ آرڈر میں شامل ہو گئی تھیں، آئندہ کسی ایسے شخص کے لیے قابل رسائی یا قابل مشاہدہ نہ رہیں جو قانونی طور پر ان معلومات کا حق دار نہیں۔
حکم میں مزید کہا گیا ہے کہ اس پر عمل درآمد کے دوران محکمہ ایسا قانونی طریقہ اختیار کرے جو ایک طرف سرکاری اسیسمنٹ ریکارڈ کی سالمیت برقرار رکھے اور دوسری جانب ٹیکس دہندگان کی معلومات کی رازداری کو بھی یقینی بنائے۔ جہاں ضروری ہو، ایسے مواد کو صرف سرکاری یا اپیلٹ مقاصد کے لیے محکمانہ ریکارڈ کا حصہ رکھا جائے۔
وفاقی ٹیکس محتسب نے اپنے فیصلے میں اس امر پر زور دیا کہ انکم ٹیکس آرڈیننس کی دفعہ 216 کے تحت مالیاتی ڈیٹا اور ٹیکس گوشواروں کی رازداری محض ایک رسمی یا طریقہ کار کی شرط نہیں بلکہ ٹیکس حکام پر عائد ایک لازمی قانونی ذمہ داری ہے۔ اگر محکمہ کسی جائز سرکاری مقصد کے لیے اسیسمنٹ سے متعلق مواد محفوظ رکھنا چاہتا ہے تو اسے یہ کام ٹیکس دہندگان کے رازداری کے قانونی حق کو مجروح کیے بغیر انجام دینا ہوگا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026