ہر چند ہفتوں بعد آڈٹ کی ایک نئی رپورٹ پاکستان کے سرکاری شعبے کے کسی نہ کسی ادارے میں اربوں روپے کی مالی بے ضابطگیوں سے پردہ اٹھاتی ہے۔ اداروں کے نام بدل جاتے ہیں، محکمے تبدیل ہو جاتے ہیں اور اعداد و شمار میں فرق آ جاتا ہے، مگر بنیادی کہانی تقریباً ہمیشہ ایک جیسی رہتی ہے۔ مالی بدانتظامی، داخلی نگرانی کے کمزور نظام، خریداری کے قواعد کی خلاف ورزیاں، قوانین پر ناقص عملدرآمد اور احتساب کا واضح فقدان ملک کے انتظامی ڈھانچے کی مستقل خصوصیات بنتے جا رہے ہیں۔ اسی تناظر میں ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹڈاپ) کی تازہ آڈٹ رپورٹ اس لیے اہم ہے کہ یہ کوئی منفرد واقعہ نہیں بلکہ ریاستی اداروں میں موجود ایک گہرے اور وسیع ادارہ جاتی بحران کی عکاسی کرتی ہے۔

اور یہی وجہ ہے کہ اس رپورٹ کو انتہائی سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔

آڈٹ کے نتائج بذاتِ خود انتہائی تشویشناک ہیں۔ 3.656 ارب روپے کی بے ضابطگیاں ، قانونی تقاضوں کے مطابق مالیاتی گوشوارے تیار نہ کرنے، مالی نگرانی کے کمزور نظام، سرکاری فنڈز کے مشتبہ استعمال، خریداری کے قواعد کی خلاف ورزیوں اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ہدایات پر بار بار عمل نہ کرنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ محض انفرادی یا انتظامی غلطیاں نہیں بلکہ گورننس کے نظام میں موجود گہرے اور منظم نقائص ہیں۔

ایسے وقت میں جب برآمدات میں اضافہ پاکستان کی اہم ترین معاشی ترجیحات میں شامل ہے، ملک کی برآمدات کے فروغ کی ذمہ دار ادارے میں اس نوعیت کی کوتاہیوں اور بے ضابطگیوں کا دفاع کرنا انتہائی مشکل ہے۔

ٹڈاپ پاکستان کے معاشی ڈھانچے میں نہایت اہم اور تزویراتی حیثیت رکھتا ہے۔ برآمدات کے فروغ کے لیے ادارے کی ساکھ، مؤثر کارکردگی اور سرکاری وسائل کا نظم و نسق انتہائی ذمہ داری اور شفافیت کے ساتھ ہونا ضروری ہے، مگر آڈٹ رپورٹ ایک ایسے ادارے کی تصویر پیش کرتی ہے جو کسی بھی سرکاری ادارے سے متوقع بنیادی قانونی اور مالیاتی ذمہ داریوں کی تکمیل میں بھی مشکلات کا شکار دکھائی دیتا ہے۔

تاہم صرف ٹڈاپ تک اس معاملے کو محدود رکھنا اصل اور زیادہ اہم مسئلے سے نظریں ہٹانے کے مترجم ہوگا۔

جو بھی شخص پاکستان کی آڈٹ رپورٹس کو معمولی باقاعدگی کے ساتھ بھی پڑھتا ہے وہ بخوبی پہچان لے گا کہ یہی نمونہ متعدد وزارتوں، محکموں، اتھارٹیز اور سرکاری اداروں میں دہرایا جا رہا ہے۔ ایک ادارے کو خریداری میں بے ضابطگیوں پر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ دوسرے ادارے میں داخلی کنٹرول کی کمزوریوں کا ذکر کیا جاتا ہے۔ تیسرا ادارہ قانونی تقاضوں کی خلاف ورزی کرتا پایا جاتا ہے۔ چوتھا ادارہ سرکاری فنڈز کی ریکوری میں ناکام رہتا ہے۔ رپورٹس الگ الگ، مگر نتائج حیران کن حد تک ایک جیسے ہیں۔

اس کے باوجود ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان سے متعلق بعض آڈٹ مشاہدات خصوصی توجہ کے متقاضی ہیں۔ ٹڈاپ ایکٹ کے مطابق مالیاتی گوشوارے تیار نہ کرنا مالیاتی نظم و نسق میں ایک بنیادی ناکامی کی عکاسی کرتا ہے۔ کوئی بھی سرکاری ادارہ اس وقت تک شفافیت کا مؤثر دعویٰ نہیں کر سکتا جب تک وہ وہی بنیادی مالیاتی دستاویزات تیار نہ کرے جن کی بنیاد پر اس کی شفافیت کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ اسی طرح داخلی نگرانی کے نظام میں مسلسل کمزوریاں اس امر کی نشاندہی کرتی ہیں کہ بے ضابطگیوں کی بروقت روک تھام کے بجائے بعد میں ان کی وضاحت پیش کرنا گویا ادارہ جاتی ترجیح بنتا جا رہا ہے۔

یہ بات پاکستان کے زیادہ بنیادی طرزِ حکمرانی کے مسئلے کی طرف لے جاتی ہے۔

ملک میں آڈٹ کی کمی نہیں ہے۔ اس کے برعکس آڈٹ کرنے والے ادارے معمول کے مطابق خامیوں کی نشاندہی کرتے ہیں، مالی نقصانات کا تخمینہ لگاتے ہیں، اصلاحی اقدامات تجویز کرتے ہیں اور ذمہ دار افسران کی شناخت کرتے ہیں۔ اصل کمزوری کہیں اور ہے۔ جب سرخیاں ماند پڑجاتی ہیں تو یہ رپورٹس رفتہ رفتہ عوامی بحث سے غائب ہو جاتی ہیں۔ مہینوں بعد انہی میں سے بہت سی مشاہدات دوبارہ بعد کے آڈٹ میں سامنے آتے ہیں جن میں اکثر وہی ادارے اور کبھی کبھی وہی خامیاں ملوث ہوتی ہیں۔

ایک ایسا احتساب کا نظام جو بار بار مسائل کی نشاندہی تو کرے مگر مستقل بنیادوں پر انہیں حل نہ کرے، بالآخر اپنی بہت سی تادیبی اہمیت کھو دیتا ہے۔ سرکاری افسران منفی آڈٹ مشاہدات کو سنگین پیشہ ورانہ نتائج کے بجائے محض انتظامی رکاوٹیں سمجھنے لگتے ہیں۔ دریں اثنا، شہریوں کا یہ اعتماد ختم ہو جاتا ہے کہ نگران ادارے کسی بامعنی اصلاح کا باعث بنتے ہیں، انہیں یہ صرف جانی پہچانی ناکامیوں کی وقتاً فوقتاً دستاویزی کارروائی محسوس ہونے لگتی ہے۔

یہ سلسلہ اب ختم ہونا ضروری ہے

پاکستان کو ایک ایسے شفاف اور ادارہ جاتی طریقہ کار کی ضرورت ہے جس کے تحت بڑی منفی آڈٹ رپورٹس کا سامنا کرنے والے ہر سرکاری ادارے کے لیے یہ لازمی ہو کہ وہ وقتاً فوقتاً عملدرآمد کی رپورٹس شائع کرے۔ پارلیمنٹ، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اور عوام کو اس بات کی نگرانی کرنے کے قابل ہونا چاہیے کہ کن سفارشات پر عمل ہوا ہے، کون سی تاحال التوا میں ہیں، کس کا احتساب کیا گیا ہے اور حل نہ ہونے والے معاملات کیوں برقرار ہیں۔ احتساب کا عمل آڈٹ رپورٹ کی اشاعت پر ختم نہیں ہونا چاہیے بلکہ یہ تو وہ مقام ہے جہاں سے اسے شروع ہونا چاہیے۔

ٹڈاپ آڈٹ میں دی گئی سفارشات مکمل طور پر معقول ہیں۔ مالی گوشوارے وقت پر تیار ہونے چاہئیں۔ محصولات کا انتظام سختی سے قانون کے مطابق ہونا چاہیے۔ داخلی کنٹرول کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ خریداری کے قوانین کی پاسداری لازمی ہے۔ زیر التوا آڈٹ مشاہدات کو دوبارہ استعمال کرنے کے بجائے انہیں حل کیا جانا چاہیے۔

تاہم چیلنج کبھی بھی یہ نہیں رہا کہ کیا کرنے کی ضرورت ہے۔

پاکستان میں گورننس کا مسئلہ نہ تو ٹڈاپ تک محدود ہے اور نہ ہی کسی ایک وزارت یا محکمے تک۔ یہ ایک ایسے کلچر کی عکاسی کرتا ہے جہاں آڈٹ تو متاثر کن باقاعدگی کے ساتھ کمزوریوں کو بے نقاب کرتے ہیں، لیکن ان پر عمل درآمد حیران کن لاتعلقی کے ساتھ ہوتا ہے۔

جب تک نتائج اتنے ہی معمول بن جائیں جتنے خود آڈٹ کے نتائج ہوتے ہیں، تب تک اس جیسی رپورٹس اس بیماری کی علامات کو دستاویزی شکل دیتی رہیں گی جسے ہر کوئی تسلیم تو کرتا ہے مگر بہت کم لوگ ہی اس کے علاج کے لیے پرعزم نظر آتے ہیں۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026