ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز کا صنعتی بجلی ٹیرف میں بے ضابطگی کے فوری خاتمے کا مطالبہ
- بی 3 اور بی 4 صنعتی صارفین اپنی اصل سروس لاگت سے تقریباً 4 روپے فی یونٹ زیادہ بجلی کی قیمت ادا کر رہے ہیں، خرم مختار
پاکستان ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے پیٹرن چیف خرم مختار اور چیئرمین سہیل پاشا نے وفاقی حکومت اور نیپرا سے مطالبہ کیا ہے کہ صنعتی شعبے کے لیے بجلی کے نرخوں میں موجود طویل عرصے سے جاری بے ضابطگی کو فوری طور پر دور کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ بی 3 اور بی 4 صنعتی صارفین اپنی اصل سروس لاگت سے تقریباً 4 روپے فی یونٹ زیادہ بجلی کی قیمت ادا کر رہے ہیں جس کے باعث پاکستان کے پیداواری شعبے پر سالانہ تقریباً 55 ارب روپے کا غیرمنصفانہ اضافی بوجھ پڑ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ بے ضابطگی تکنیکی طور پر کسی بھی صورت قابلِ جواز نہیں کیونکہ زیادہ وولٹیج پر منسلک صارفین کے لیے ترسیل اور تقسیم کے بنیادی ڈھانچے کی ضرورت نمایاں طور پر کم ہوتی ہے اس لیے ان کے لیے بجلی کے نرخ بھی کم ہونے چاہییں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس کے برعکس بی تھری اور بی فور صنعتی صارفین اب بھی غیرمعمولی کراس سبسڈی کا بوجھ برداشت کر رہے ہیں جبکہ بی فور صارفین سے تو تقسیمی نیٹ ورک استعمال نہ کرنے کے باوجود تقسیمی اخراجات بھی وصول کیے جا رہے ہیں۔
خرم مختار نے نشاندہی کی کہ اگرچہ بی 3 اور بی 4 صنعتی صارفین کل صنعتی بجلی کے کنکشنز کا صرف 1.2 فیصد ہیں لیکن وہ کل صنعتی بجلی کا 62 فیصد استعمال کرتے ہیں جس سے ٹیرف میں یہ تضاد صنعتی مسابقت اور برآمدات میں اضافے کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ بن گیا ہے۔
انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ انصاف اور مساوات کے اصول کو برقرار رکھتے ہوئے سروس کی حقیقی لاگت کی بنیاد پر ٹیرف کا نظام نافذ کرے اور صنعتی بجلی کے نرخوں میں موجود اس بے ضابطگی کو مزید تاخیر کیے بغیر ختم کرے۔