کاروبار اور معیشت

امریکی عدالت نے ضیاء چشتی کے خلاف حکم امتناع میں توسیع کی درخواست مسترد کر دی

  • امریکی عدالت کا یہ آرڈر صرف حکمِ امتناع سے متعلق قانونی معیار کے تحت کمپنی کی درخواست تک محدود ہے اور یہ عدالت کے 12 مئی 2026 کے اس فیصلے کو تبدیل نہیں کرتا، ٹی آر جی پاکستان
شائع اپ ڈیٹ

ٹی آر جی پاکستان نے بتایا ہے کہ ایک امریکی وفاقی عدالت نے سابق سی ای او ضیاء چشتی کو کمپنی اور پاکستان میں اس کے وابستہ اداروں کے خلاف قانونی چارہ جوئی سے روکنے کے حکم میں توسیع کرنے سے انکار کر دیا ہے، تاہم کمپنی نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ایک علیحدہ فیصلہ جس کے تحت ریلیز ایگریمنٹ کو نافذ کیا گیا تھا، جاری اپیل کے باوجود بدستور مؤثر ہے۔

پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کو بھیجے گئے ایک نوٹس میں کمپنی نے مطلع کیا ہے کہ اسے یونائیٹڈ اسٹیٹس ڈسٹرکٹ کورٹ فار دی سدرن ڈسٹرکٹ آف نیویارک (ایس ڈی این وائی) کی جانب سے یکم جولائی 2026 کو جاری کردہ آرڈر کی کاپی موصول ہوئی ہے، جس میں عدالت نے ٹی آر جی پاکستان اور دی ریسورس گروپ انٹرنیشنل لمیٹڈ کی جانب سے مانگے گئے حکمِ امتناع کو دینے سے انکار کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ سابق سی ای او ضیاء چشتی کے خلاف 10 جون 2026 کو حاصل کردہ عارضی امتناعی حکم کی یکم جولائی 2026 کو مدت ختم ہونے کے بعد سامنے آیا ہے۔

نوٹس کے مطابق مانگے گئے حکمِ امتناع میں ضیاء چشتی کی جانب سے پاکستان میں کمپنی اور اس کے وابستہ اداروں کے خلاف شروع کی گئی مخصوص قانونی کارروائیوں کو روکنا شامل تھا۔

ٹی آر جی پاکستان نے بتایا کہ امریکی عدالت کا یہ آرڈر صرف حکمِ امتناع سے متعلق قانونی معیار کے تحت کمپنی کی درخواست تک محدود ہے اور یہ عدالت کے 12 مئی 2026 کے اس فیصلے کو تبدیل نہیں کرتا، جس میں نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ ” 10 جنوری 2022 کے ریلیز ایگریمنٹ کی تاریخ سے پہلے کے اقدامات سے متعلق کمپنی اور اس کے وابستہ اداروں کے خلاف ضیاء چشتی کے دعوے ہمیشہ کے لیے ختم ہو چکے ہیں اور دنیا کے کسی بھی فورم پر ان کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔“

ٹی آر جی پاکستان کا کہنا ہے کہ 12 مئی کا فیصلہ بدستور نافذ العمل ہے اور ضیاء چشتی نے نیویارک کی سیکنڈ سرکٹ کورٹ آف اپیلز میں اس کے خلاف اپیل دائر کر رکھی ہے۔ کمپنی نے مزید کہا کہ کمپنی اس نئی پیش رفت کی روشنی میں اپنے قانونی اختیارات کا جائزہ لے رہی ہے، جس میں نیویارک کی سیکنڈ سرکٹ کورٹ آف اپیلز میں اس آرڈر کے خلاف اپیل کرنا بھی شامل ہے۔

وضاحت: بزنس ریکارڈر سے وابستہ بورڈ کے ایک ممبر ٹی آر جی کے بورڈ میں بھی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ادارے کی رائے آزادانہ ہے۔