زندہ جانوروں کی برآمد سے معیشت کو نقصان ہوگا، میٹ ایکسپورٹرز
آل پاکستان میٹ ایکسپورٹرز اینڈ پروسیسرز ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ پاکستان کو زندہ جانوروں کی برآمد کی اجازت دینے سے گریز کرنا چاہیے اور اس کے بجائے ویلیو ایڈڈ حلال گوشت کی برآمدات کو بڑھانے پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔
ایسوسی ایشن کے مطابق زندہ جانوروں کی غیر محدود برآمدات ملک کی لائیو اسٹاک معیشت، گوشت پروسیسنگ کی صنعت اور متعلقہ شعبوں کو نقصان پہنچا سکتی ہیں جبکہ طویل مدت میں اس سے معاشی فوائد بھی کم حاصل ہوں گے۔
ایسوسی ایشن کی جانب سے تیار کردہ ایک پالیسی پیپر جس کا عنوان پاکستان سے زندہ جانوروں کی برآمد کی اجازت دینے کے ممکنہ منفی اثرات ہے میں دلائل دیے گئے ہیں کہ اگرچہ زندہ جانوروں کی برآمد سے قلیل مدتی زرمبادلہ حاصل ہوسکتا ہے لیکن یہ درحقیقت ملازمتوں، صنعتی سرگرمیوں اور ویلیو ایڈیشن کو درآمد کنندہ ممالک میں منتقل کر دیتا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کا تقابلی فائدہ زندہ جانوروں کو خام حالت میں برآمد کرنے کے بجائے حلال گوشت اور لائیو اسٹاک کی ضمنی مصنوعات کو ذبح کرنے، پراسیس کرنے، تصدیق کروانے اور برآمد کرنے میں ہے۔
پیپر کے مطابق لائیو اسٹاک پاکستان کے زرعی شعبے کا سب سے بڑا حصہ ہے اور یہ کئی صنعتوں کی بنیاد ہے، جن میں گوشت کی پروسیسنگ، چمڑے کی صنعت، آلائشیں ، ادویات سازی، جانوروں کی خوراک، کولڈ چین لاجسٹکس اور ٹرانسپورٹ شامل ہیں۔
اس میں خبردار کیا گیا ہے کہ زندہ جانوروں کی برآمد کی اجازت دینے والی کسی بھی پالیسی کا جائزہ صرف برآمدی موقع کے طور پر نہیں بلکہ مویشیوں کی پائیداری، مقامی سطح پر گوشت کی دستیابی، پروسیسنگ کی صلاحیت اور غذائی تحفظ کے تناظر میں لیا جانا چاہیے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026