شرح سود میں اضافے کی توقعات کم، سونے کی قیمتوں میں اضافہ
- اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.5 فیصد اضافے کے ساتھ 4,144.83 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی
عالمی منڈی میں جمعہ کے روز سونے کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ امریکی روزگار کے توقع سے کمزور اعداد و شمار سامنے آنے کے بعد سرمایہ کاروں نے امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں مزید اضافے کی توقعات کم کر دی ہیں۔ اس پیش رفت کے باعث سونا پانچ ہفتوں میں پہلی بار ہفتہ وار اضافے کی جانب گامزن ہے۔
اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.5 فیصد اضافے کے ساتھ 4,144.83 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی، جو 23 جون کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ اسی طرح اگست میں فراہمی کے لیے امریکی گولڈ فیوچرز 0.8 فیصد اضافے کے ساتھ 4,157.50 ڈالر فی اونس پر پہنچ گئے۔
ہفتہ وار بنیاد پر سونے کی قیمت میں تقریباً 1.2 فیصد اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جو 25 مئی کے بعد پہلی ہفتہ وار بڑھوتری ہوگی۔ اس اضافے کی بنیادی وجہ امریکی نان فارم پے رولز اور نجی شعبے میں ملازمتوں کے کمزور اعداد و شمار ہیں، جنہوں نے مہنگائی اور طویل عرصے تک بلند شرح سود برقرار رہنے سے متعلق خدشات کو کم کیا ہے۔
امریکی محکمہ محنت کے مطابق گزشتہ ماہ نان فارم پے رولز میں صرف 57 ہزار ملازمتوں کا اضافہ ہوا، جبکہ رائٹرز کے سروے میں ماہرین نے 1 لاکھ 10 ہزار نئی ملازمتوں کی پیش گوئی کی تھی۔
ان اعداد و شمار کے بعد سرمایہ کار اب ستمبر میں شرح سود میں اضافے کے امکان کو تقریباً 54 فیصد تصور کر رہے ہیں، جو اس سے قبل 66 فیصد تھا۔
دوسری جانب سان فرانسسکو فیڈرل ریزرو کی صدر میری ڈیلی نے کہا ہے کہ امریکی مانیٹری پالیسی اس وقت کسی حد تک سخت ہے، تاہم مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے متعلق سرمایہ کاری میں غیرمعمولی اضافہ اور مستحکم لیبر مارکیٹ کے باعث یہ کہنا مشکل ہے کہ فیڈرل ریزرو کا اگلا قدم کیا ہوگا۔
ورلڈ گولڈ کونسل کے مطابق دنیا بھر کے مرکزی بینک مئی کے دوران دوبارہ سونے کی خریداری کی جانب لوٹ آئے، جس کے نتیجے میں سرکاری ذخائر میں مجموعی طور پر 41 ٹن خالص اضافہ ہوا۔ ادھر چاندی، پلاٹینم اور پیلیڈیم کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا اور یہ تینوں دھاتیں بھی ہفتہ وار بنیاد پر مثبت کارکردگی کی جانب بڑھ رہی ہیں۔