سوہنی دھرتی ریمیٹنس پروگرام بند کرنے کا فیصلہ
- اسٹیٹ بینک جولائی 2026ء سے سوہنی دھرتی پروگرام کے پوائنٹس دینا بند کر دے گا
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے سوہنی دھرتی ریمیٹنس پروگرام کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے ساتھ ہی قانونی بینکنگ چینلز کے ذریعے رقم بھیجنے پر سمندر پار پاکستانیوں کو انعامات دینے والی یہ ترغیبی اسکیم ختم ہو گئی ہے۔
بینکوں اور مالیاتی اداروں کو جاری اسٹیٹ بینک کے ایک مکتوب کے مطابق مالیاتی سال 27-2026 کے آغاز یعنی یکم جولائی 2026ء سے اس پروگرام کے تحت مزید کوئی ریوارڈ پوائنٹس (انعامی پوائنٹس) نہیں دیے جائیں گے۔ مرکزی بینک نے واضح کیا کہ 30 جون 2026ء تک بھیجی جانے والی تمام اہل ترسیلاتِ زر پر پوائنٹس ملیں گے اور انہیں اسکیم کے تحت کریڈٹ کے لیے ”ون لنک“ کو رپورٹ کیا جائے گا۔
تاہم صارفین کے پاس 30 جون 2026ء تک جمع ہونے والے ریوارڈ پوائنٹس مالیاتی سال 2027ء کے اختتام یعنی 30 جون 2027ء تک کارآمد رہیں گے اور انہیں استعمال کیا جا سکے گا۔ اسٹیٹ بینک نے اپنے خط میں کہا کہ اس کے بعد یکم جولائی 2027ء سے سوہنی دھرتی پروگرام مکمل طور پر غیر فعال ہو جائے گا۔
سوہنی دھرتی ریمیٹنس پروگرام (ایس ڈی آر پی) اسٹیٹ بینک کی جانب سے شروع کیا گیا ایک لائلٹی پروگرام تھا جس کا مقصد سمندر پار پاکستانیوں کو سرکاری بینکنگ چینلز کے ذریعے رقم بھیجنے کی ترغیب دینا تھا۔ یہ پروگرام پوائنٹس کے نظام پر کام کرتا تھا، جس میں رقم بھیجنے والے اسٹیٹ بینک سے منظور شدہ اداروں کے ذریعے پیسے بھیج کر انعامی پوائنٹس جمع کرتے تھے۔ اس پروگرام کا بنیادی مقصد قانونی ذرائع کے استعمال کو فروغ دے کر ملک میں غیر ملکی زرِ مبادلہ کی آمد کو بڑھانا تھا۔
شروع میں اس پروگرام کی تین کیٹیگریز تھیں جس میں گرین، گولڈ اورپلیٹینم شامل تھے،بعد ازاں اس اسکیم کو مزید پرکشش بنانے کے لیے 22 ستمبر 2023 ء سے ایک نئی ”ڈائمنڈ“ کیٹیگری کا بھی اضافہ کیا گیا تھا۔
اس پروگرام کے ذریعے جمع ہونے والے پوائنٹس کو رقم بھیجنے والے اور پاکستان میں ان کے اہلخانہ متعدد مفت مصنوعات اور خدمات حاصل کرنے کے لیے استعمال کر سکتے تھے۔ ان مراعات میں بیورو آف ایمیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ میں رجسٹریشن کی فیس، فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو امپورٹڈ موبائل فونز اور گاڑیوں پر کسٹم ڈیوٹی کی ادائیگی، اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن کے اسکولوں کی فیس اور ڈائریکٹوریٹ جنرل آف امیگریشن اینڈ پاسپورٹس سے پاسپورٹ کی تجدید (رینیو) شامل تھیں۔
دوسری جانب بدھ کو وزیراعظم شہباز شریف نے سمندر پار پاکستانیوں کو ملک کا ”سب سے قیمتی اثاثہ“ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی بھیجی گئی رقم معیشت کے لیے لائف لائن اور ملک کے غیر ملکی زرِ مبادلہ کے ذخائر کو سہارا دینے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے تارکینِ وطن کے دیرینہ مسائل کو حل کرنے کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا اور حکام کو ہدایت کی کہ وہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی فلاح و بہبود کے اقدامات کو تیزی سے آگے بڑھائیں۔