دنیا

مشاورت مکمل ہونے تک ’یوزر نیم‘ فیچر متعارف نہ کرایا جائے، بھارت کی واٹس ایپ سے درخواست

  • بھارتی آئی ٹی وزارت کے مطابق ’یوزر نیم‘ فیچر آن لائن فراڈ اور جعل سازی کے حملوں کا خطرہ بڑھا سکتا ہے
شائع July 2, 2026 اپ ڈیٹ July 2, 2026 12:12am

بھارت نے بدھ کو میٹا کی ملکیت والے واٹس ایپ کو ہدایت کی ہے کہ وہ تین روز کے اندر وضاحت کرے کہ اس کے مجوزہ ”یوزر نیم“ فیچر پر ضابطہ جاتی کارروائی کیوں نہ کی جائے۔ ساتھ ہی حکومت نے کمپنی سے کہا ہے کہ مشاورت مکمل ہونے تک اس فیچر کا اجرا بھارت میں نہ کیا جائے۔ یہ بات رائٹرز کی جانب سے دیکھے گئے ایک سرکاری خط میں سامنے آئی ہے۔

وزارتِ اطلاعات و ٹیکنالوجی کی جانب سے بھیجے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے واٹس ایپ کے اس اعلان کا نوٹس لیا ہے جس کے تحت صارفین فون نمبر ظاہر کیے بغیر صرف یوزر نیم کے ذریعے گفتگو شروع کر سکیں گے۔

میٹا کے ترجمان نے کہا، ”ہم نے اعلان کیا ہے کہ صارفین واٹس ایپ پر اپنی پسند کا یوزر نیم محفوظ کر سکیں گے۔“ انہوں نے مزید بتایا کہ یہ فیچر ابھی فعال نہیں کیا گیا، جبکہ عوامی شخصیات، سرکاری اداروں اور میٹا کے تصدیق شدہ اکاؤنٹس کے لیے یوزر نیم پہلے ہی محفوظ رکھے گئے ہیں تاکہ جعلی شناخت کے ذریعے دھوکا دہی (امپرسونیشن) کی روک تھام کی جا سکے۔

بھارتی وزارتِ آئی ٹی نے خدشہ ظاہر کیا کہ یہ فیچر آن لائن فراڈ، فشنگ، جعلی گرفتاری کے فراڈ (ڈیجیٹل گرفتاری فراڈ) اور جعلی شناخت کے ذریعے دھوکا دہی جیسے حملوں میں نمایاں اضافہ کر سکتا ہے، کیونکہ اس کے ذریعے بدنیت عناصر فون نمبر ظاہر کیے بغیر متاثرہ افراد سے رابطہ کر سکیں گے۔

وزارت نے یہ تشویش بھی ظاہر کی کہ اگر کسی کا یوزر نیم افراد، مالیاتی اداروں یا سرکاری ایجنسیوں کے نام سے مشابہ ہوا تو اس سے شناخت کی جعل سازی (آئیڈینٹی سپوفنگ) اور جعلی شناخت اختیار کرکے دھوکا دہی کے واقعات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب چند روز قبل رائٹرز نے خبر دی تھی کہ بھارتی حکومت نے ٹیلی گرام کے ان فیچرز کا بھی جائزہ لیا ہے، جو صارفین کو فون نمبر ظاہر کیے بغیر ایک دوسرے سے رابطہ کرنے کی سہولت دیتے ہیں۔

جون میں بھارتی وزارتِ داخلہ کی ایک رپورٹ، جس کا جائزہ رائٹرز نے لیا، میں کہا گیا تھا کہ اس نوعیت کے پرائیویسی فیچرز صارفین کی شناخت کا سراغ لگانا مشکل بنا دیتے ہیں، جبکہ سائبر فراڈ اور غیر قانونی مواد کی ترسیل میں بھی ان کے استعمال پر خدشات ظاہر کیے گئے تھے۔

گزشتہ ماہ ٹیلی گرام کو بھی بھارت میں عائد عارضی پابندی کے خلاف قانونی چارہ جوئی میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ حکومت نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ یوزر نیم کے ذریعے رابطے اور فون نمبر مخفی رکھنے جیسے فیچرز قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے کارروائی میں مشکلات پیدا کرتے ہیں۔