بی آر ریسرچ

فرنٹیئر سیرامکس لمیٹڈ: کارکردگی اور مستقبل کا منظرنامہ

  • 2025-26 کے پہلے نو ماہ کے دوران کمپنی کا خالص منافع 126.19 فیصد بڑھ کر 18 کروڑ 56 لاکھ 80 ہزار روپے تک پہنچ گیا۔
شائع July 1, 2026 اپ ڈیٹ July 1, 2026 08:44pm

فرنٹیئر سیرامکس لمیٹڈ (پی ایس ایکس: ایف آر سی ایل) 1982 میں پاکستان میں ایک پبلک لمیٹڈ کمپنی کے طور پر قائم ہوئی۔ کمپنی دیواروں اور فرش کے لیے سیرامک ٹائلز، سینیٹری ویئر اور دیگر متعلقہ مصنوعات تیار کرنے اور فروخت کرنے کے کاروبار سے وابستہ ہے۔

حصص کی ملکیت کا ڈھانچہ

30 جون 2025 تک فرنٹیئر سیرامکس لمیٹڈ کے جاری کردہ حصص کی تعداد 3 کروڑ 78 لاکھ 74 ہزار تھی، جو 980 حصص یافتگان کی ملکیت تھے۔

کمپنی کے ڈائریکٹرز، ان کی شریک حیات اور کم عمر بچوں کے پاس تقریباً 96 فیصد حصص ہیں، جبکہ مقامی عام سرمایہ کار کمپنی کے 3.15 فیصد حصص کے مالک ہیں۔ باقی حصص دیگر اقسام کے حصص یافتگان کے پاس ہیں۔

مالی کارکردگی (2019 تا 2025)

جائزہ مدت کے دوران 2024 میں سالانہ بنیاد پر ریکارڈ کی جانے والی کمی کے علاوہ کمپنی کی آمدنی (ٹاپ لائن) میں مجموعی طور پر اضافہ دیکھنے میں آیا۔ تاہم خالص منافع (باٹم لائن) کے لحاظ سے کمپنی کو 2019، 2023 اور 2024 میں خسارے کا سامنا کرنا پڑا۔

کمپنی کے منافع کے مارجن 2019 میں نمایاں طور پر کم ہوئے، تاہم اس کے بعد اگلے دو برسوں میں ان میں بہتری آئی۔ اس کے بعد 2022 اور 2023 میں مارجنز میں دوبارہ نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔

2024 میں مجموعی منافع کا مارجن ( جی پی مارجن) مزید کم ہوا، تاہم آپریٹنگ منافع کے مارجن (او پی مارجن) اور خالص منافع کے مارجن (این پی مارجن) میں معمولی بہتری ریکارڈ کی گئی۔

2025 میں کمپنی کے منافع کے مارجنز میں نمایاں بحالی دیکھنے میں آئی (تفصیلات کے لیے منافع کے تناسب کے گراف کا جائزہ لیا جا سکتا ہے)۔ زیرِ جائزہ عرصے کی مالی کارکردگی کی تفصیل درج ذیل ہے۔

2019 میں فرنٹیئر سیرامکس لمیٹڈ کی آمدنی میں سالانہ بنیاد پر 17.57 فیصد اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں کمپنی کی آمدنی بڑھ کر 78 کروڑ 18 لاکھ 30 ہزار روپے تک پہنچ گئی۔ اس اضافے کی بنیادی وجہ فروخت کے حجم میں اضافہ تھا۔

تاہم اسی سال فروختی لاگت میں سالانہ بنیاد پر 36.75 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کی بڑی وجہ گیس کی لوڈشیڈنگ کے باعث پیداوار برقرار رکھنے کے لیے ایل پی جی کا زیادہ استعمال تھا۔

اس کے علاوہ گیس کے نرخوں میں اضافہ اور پاکستانی روپے کی قدر میں کمی نے بھی فروختی لاگت بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا، جس کے باعث 2019 میں مجموعی منافع 84 فیصد کم ہو گیا۔ نتیجتاً مجموعی منافع کا مارجن (جی پی مارجن) گھٹ کر 2.16 فیصد رہ گیا، جبکہ ایک سال قبل یہ 15.89 فیصد تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ تنخواہوں اور اثاثوں کی قدر میں کمی (ڈیپریسی ایشن) کے اخراجات بڑھنے کے باعث آپریٹنگ اخراجات میں بھی اضافہ ہوا، جس سے کمپنی کی منافع بخشی مزید دباؤ کا شکار رہی۔

2019 میں فرنٹیئر سیرامکس لمیٹڈ نے اپنے ملازمین کی تعداد 203 سے بڑھا کر 242 کر دی۔ اس کے نتیجے میں کمپنی کو 2 کروڑ 21 لاکھ 80 ہزار روپے کا آپریٹنگ خسارہ برداشت کرنا پڑا، جبکہ 2018 میں اسے 5 کروڑ 46 لاکھ 50 ہزار روپے کا آپریٹنگ منافع حاصل ہوا تھا۔

تاہم 2019 میں دیگر اخراجات میں 92 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، کیونکہ کمپنی نے اس سال ورکرز ویلفیئر فنڈ (ڈبلیو ڈبلیو ایف) اور ورکرز پرافٹ پارٹیسپیشن فنڈ (ڈبلیو پی پی ایف) کے لیے کوئی رقم مختص نہیں کی۔ اس کے علاوہ، گزشتہ سال کے برعکس 2019 میں ذخائر (انوینٹری) کی مالیت میں کمی کے باعث کوئی تحریری کٹوتی (رائٹ آف) بھی نہیں کی گئی۔

دوسری جانب دیگر آمدنی بھی کمپنی کو سہارا نہ دے سکی اور 2019 میں سالانہ بنیاد پر 90.40 فیصد کم ہو گئی۔ اس کی بنیادی وجہ بلند تقابلی بنیاد ( ہائی بیس ایفیکٹ) تھی، کیونکہ 2018 میں کمپنی نے 1 کروڑ 94 لاکھ 70 ہزار روپے کی واجبات ختم کرکے انہیں آمدنی میں شامل کیا تھا۔ ادھر مالیاتی اخراجات میں بھی سالانہ بنیاد پر 240 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا، جس نے کمپنی کے خالص منافع پر مزید منفی اثر ڈالا۔

اس اضافے کی وجہ صرف شرحِ سود میں اضافہ نہیں تھا بلکہ سال کے دوران کمپنی کے قلیل مدتی اور طویل مدتی قرضوں میں بھی اضافہ ہوا۔ نتیجتاً فرنٹیئر سیرامکس لمیٹڈ کو 2019 میں 8 کروڑ 84 لاکھ 70 ہزار روپے کا خالص خسارہ ہوا، جبکہ 2018 میں کمپنی نے 3 کروڑ 94 لاکھ 30 ہزار روپے کا خالص منافع کمایا تھا۔

2019 میں کمپنی کا فی حصص خسارہ ( ایل پی ایس) 2.34 روپے رہا، جبکہ 2018 میں فی حصص آمدنی (ای پی ایس) 1.04 روپے ریکارڈ کی گئی تھی۔

اس کے بعد کے دو سال، یعنی 2020 اور 2021، کمپنی کے لیے غیرمعمولی مالی بہتری کے سال ثابت ہوئے، جن کے دوران آمدنی، خالص منافع اور منافع کے مارجنز میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ فروخت میں یہ اضافہ نہ صرف فروخت کے حجم میں بہتری بلکہ مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا بھی نتیجہ تھا۔

2020 میں، کووڈ-19 کی وبا پھیلنے سے قبل کمپنی نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور مالی سال کے دوسرے نصف حصے میں کاروباری سست روی کے باوجود خالص فروخت میں 42.64 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا۔ 2021 میں کووڈ کے بعد تعمیراتی سرگرمیوں میں نمایاں تیزی آئی، جس کے نتیجے میں کمپنی کی آمدنی میں 153.67 فیصد کا غیرمعمولی اضافہ ہوا، جو زیرِ جائزہ عرصے کی بلند ترین شرح تھی۔

دونوں برس فروختی لاگت کو مؤثر انداز میں قابو میں رکھا گیا، جس کے باعث 2020 اور 2021 میں مجموعی منافع بالترتیب 566.40 فیصد اور 162.81 فیصد بڑھ گیا۔ اس کے نتیجے میں مجموعی منافع کا مارجن 2020 میں 10.11 فیصد اور 2021 میں 10.47 فیصد تک پہنچ گیا۔

تاہم فروخت میں اضافے اور مہنگائی کے دباؤ کے باعث ان دونوں برسوں میں آپریٹنگ اخراجات بھی بڑھے۔ کمپنی نے اپنے افرادی قوت میں اضافہ کرتے ہوئے ملازمین کی تعداد 2020 میں 546 اور 2021 میں 764 کر دی، جس سے تنخواہوں کے اخراجات میں اضافہ ہوا۔ اس کے علاوہ مال برداری کے اخراجات اور اثاثوں کی قدر میں کمی کے اخراجات بڑھنے سے بھی آپریٹنگ اخراجات میں اضافہ ہوا۔

اسی طرح دیگر اخراجات میں بھی 2020 اور 2021 میں بالترتیب 116.83 فیصد اور 336.59 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کی بنیادی وجہ ورکرز ویلفیئر فنڈ اور ورکرز پرافٹ پارٹیسپیشن فنڈ کے لیے زیادہ رقوم مختص کرنا، نیز قانونی اور پیشہ ورانہ خدمات کے اخراجات میں اضافہ تھا۔

2020 میں کمپنی نے 6 کروڑ 78 لاکھ 90 ہزار روپے کا آپریٹنگ منافع حاصل کیا، جبکہ 2019 میں اسے 2 کروڑ 21 لاکھ 80 ہزار روپے کا آپریٹنگ خسارہ ہوا تھا۔ اس طرح آپریٹنگ منافع کا مارجن 6.10 فیصد رہا۔

2021 میں آپریٹنگ منافع مزید 243.81 فیصد بڑھ گیا اور آپریٹنگ منافع کا مارجن 8.25 فیصد تک پہنچ گیا، جو زیرِ جائزہ عرصے کی بلند ترین سطح تھی۔ اس دوران دیگر آمدنی میں بھی 2020 اور 2021 میں بالترتیب 43.24 فیصد اور 33.06 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ مالیاتی اخراجات میں کمی نے بھی خالص منافع میں بہتری لانے میں اہم کردار ادا کیا۔

2020 میں اگرچہ شرحِ سود سال کے بیشتر حصے میں بلند رہی، تاہم کمپنی نے اپنے طویل مدتی قرضوں میں نمایاں کمی کی، جس سے مالیاتی اخراجات 13.60 فیصد کم ہو گئے۔ 2021 میں مانیٹری پالیسی میں نرمی کے باعث مالیاتی اخراجات میں مزید 12.40 فیصد کمی آئی۔

نتیجتاً 2020 میں کمپنی نے 4 کروڑ 38 لاکھ 50 ہزار روپے کا خالص منافع حاصل کیا، جبکہ فی حصص آمدنی (ای پی ایس) 1.16 روپے رہی۔ 2021 میں خالص منافع 266.50 فیصد اضافے کے ساتھ 16 کروڑ 7 لاکھ 10 ہزار روپے تک پہنچ گیا اور فی حصص آمدنی 4.24 روپے ریکارڈ کی گئی۔ اس عرصے میں خالص منافع کا مارجن بالترتیب 3.93 فیصد اور 5.68 فیصد رہا۔

تاہم لگاتار دو برس کی مضبوط کارکردگی کے بعد 2022 میں کمپنی کی مالی صورتحال دوبارہ دباؤ کا شکار ہو گئی۔ اگرچہ اس سال خالص فروخت میں 32.85 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 375 کروڑ 81 لاکھ 60 ہزار روپے تک پہنچ گئی، لیکن خالص منافع میں نمایاں کمی اور منافع کے مارجنز میں سکڑاؤ دیکھنے میں آیا۔

سال کے دوران صارفین کی قوتِ خرید میں کمی اور تعمیراتی سامان کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافے کے باعث سرکاری اور نجی شعبے کی تعمیراتی سرگرمیاں سست پڑ گئیں۔

اس کے باوجود کمپنی نے اپنی فروختی حکمت عملی میں تبدیلی کرتے ہوئے زیادہ منافع بخش مصنوعات پر توجہ مرکوز کی، جس سے فروخت میں اضافہ ممکن ہوا۔ دوسری جانب فروختی لاگت مسلسل بڑھتی رہی کیونکہ کمپنی نے اپنے پلانٹ کو قدرتی گیس کے بجائے آر ایل این جی پر منتقل کر دیا، جو نسبتاً زیادہ مہنگی ہے۔ اس کے ساتھ پاکستانی روپے کی قدر میں کمی اور خام مال کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے مجموعی منافع پر منفی اثر ڈالا، جو 2022 میں 18.52 فیصد کم ہو گیا۔

اس کے نتیجے میں مجموعی منافع کا مارجن بھی کم ہو کر 6.42 فیصد رہ گیا۔

مہنگائی کے دباؤ نے آپریٹنگ اخراجات میں بھی اضافہ کیا۔ اس دوران کمپنی نے مزید 22 ملازمین بھرتی کیے، جس سے ملازمین کی مجموعی تعداد بڑھ کر 786 ہو گئی۔

اگرچہ سال کے دوران ورکرز ویلفیئر فنڈ اور ورکرز پرافٹ پارٹیسپیشن فنڈ کے لیے کم رقوم مختص کی گئیں، جس کے باعث دیگر اخراجات میں 29.47 فیصد کمی آئی، تاہم اس کے باوجود آپریٹنگ منافع 26.68 فیصد گھٹ گیا اور آپریٹنگ منافع کا مارجن 8.25 فیصد سے کم ہو کر 4.55 فیصد رہ گیا۔

2022 میں مالیاتی اخراجات میں 20.79 فیصد اضافہ ہوا، جس کی بنیادی وجہ شرحِ سود میں اضافہ تھا۔ اس کے علاوہ کمپنی نے سال کے دوران جنریٹر کی خریداری کے لیے 7 کروڑ 32 لاکھ 60 ہزار روپے کا نیا طویل مدتی قرض بھی حاصل کیا۔

اس کے نتیجے میں 2022 میں کمپنی کا خالص منافع سالانہ بنیاد پر 76 فیصد کم ہو کر 3 کروڑ 85 لاکھ 10 ہزار روپے رہ گیا۔ اس عرصے میں فی حصص آمدنی 1.02 روپے جبکہ خالص منافع کا مارجن صرف ایک فیصد ریکارڈ کیا گیا۔

2022 میں شروع ہونے والا خالص منافع میں کمی اور منافع کے مارجنز کے سکڑنے کا رجحان 2023 میں بھی جاری رہا، کیونکہ ملک کو معاشی اور سیاسی عدم استحکام کا سامنا رہا۔

اس کے باوجود 2023 میں کمپنی کی خالص فروخت سالانہ بنیاد پر 9.51 فیصد بڑھ کر 411 کروڑ 45 لاکھ روپے تک پہنچ گئی۔ اس کی وجہ مصنوعات کے پورٹ فولیو اور فروختی ذرائع (سیلز چینل مکس) میں تبدیلیاں تھیں، جن کی بدولت کمپنی گزشتہ سال کے برابر فروختی حجم برقرار رکھنے میں کامیاب رہی۔

تاہم فروختی لاگت میں 14 فیصد اضافہ ہوا، جس کی وجہ روس۔یوکرین جنگ کے باعث عالمی سطح پر اشیائے صرف کی قیمتوں میں تیزی تھی۔ اس کے ساتھ پاکستانی روپے کی قدر میں کمی، ملک میں بلند افراطِ زر، توانائی کے نرخوں میں اضافہ، گیس کی غیر مستقل فراہمی اور درآمدی پابندیوں کے باعث سپلائی چین متاثر ہوئی، جس سے پیداواری لاگت مزید بڑھ گئی۔

ان عوامل کے نتیجے میں مجموعی منافع 57.18 فیصد کم ہو گیا اور مجموعی منافع کا مارجن گھٹ کر 2.51 فیصد رہ گیا۔

2023 میں تنخواہوں، اثاثوں کی قدر میں کمی کے اخراجات اور متوقع قرضہ جاتی نقصانات کے لیے مختص رقوم کے باعث تقسیمی اور انتظامی اخراجات میں بالترتیب 33.58 فیصد اور 29.13 فیصد اضافہ ہوا۔

سال کے دوران کمپنی کے ملازمین کی تعداد بڑھ کر 813 ہو گئی۔

دوسری جانب دیگر اخراجات میں 459.58 فیصد کا غیرمعمولی اضافہ ہوا اور یہ بڑھ کر 7 کروڑ 3 لاکھ 50 ہزار روپے تک پہنچ گئے، جس کی بنیادی وجہ زرِ مبادلہ کے بھاری نقصان (ایکسچینج لاس) کا سامنا کرنا تھا۔

ان تمام عوامل کے باعث کمپنی کو 2023 میں 4 کروڑ 19 لاکھ 90 ہزار روپے کا آپریٹنگ خسارہ ہوا۔

اگرچہ دیگر آمدنی میں زیادہ مارک اپ آمدنی کے باعث 344 فیصد اضافہ ہوا، تاہم بلند شرحِ سود کے باعث مالیاتی اخراجات مسلسل بڑھتے رہے، جس کے نتیجے میں کمپنی کو 15 کروڑ 34 لاکھ 70 ہزار روپے کا خالص خسارہ ہوا، جبکہ فی حصص خسارہ 4.05 روپے ریکارڈ کیا گیا۔

2024 میں کمپنی کی مالی کارکردگی مزید دباؤ کا شکار رہی اور خالص فروخت سالانہ بنیاد پر 16.91 فیصد کم ہو کر 341 کروڑ 93 لاکھ 50 ہزار روپے رہ گئی۔ اس کی بنیادی وجہ تعمیراتی سرگرمیوں میں سست روی تھی، جس سے ٹائلز اور سیرامکس کی طلب بری طرح متاثر ہوئی۔

سپلائی کے محاذ پر لیٹر آف کریڈٹ (ایل سی) کھولنے پر عائد پابندیوں کے باعث سپلائی چین میں رکاوٹیں پیدا ہوئیں، جس کے نتیجے میں کمپنی سال بھر اپنی پیداواری صلاحیت کا مکمل استعمال نہ کر سکی۔

کم پیداواری استعداد، گیس اور بجلی کے بلند نرخ، اجرتوں میں اضافہ اور خام مال کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث مجموعی منافع 29.76 فیصد کم ہو گیا، جبکہ مجموعی منافع کا مارجن مزید گھٹ کر 2.12 فیصد پر آ گیا، جو زیرِ جائزہ عرصے کی کم ترین سطح تھی۔

2024 میں تقسیمی اخراجات میں 2.69 فیصد اضافہ ہوا، جس کی وجہ مال برداری کے اخراجات اور تقسیمی نظام سے وابستہ ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ تھا۔

اس کے برعکس انتظامی اخراجات میں 21.64 فیصد کمی آئی، کیونکہ کمپنی نے مشکوک قرضوں کے خلاف کوئی رقم مختص نہیں کی، جبکہ افرادی قوت 813 سے کم کر کے 765 کرنے کے باعث تنخواہوں کے اخراجات بھی کم ہوئے۔

اسی طرح دیگر اخراجات میں 94.41 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ سال کے دوران کمپنی کو زرِ مبادلہ کے نقصان کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

2024 میں فرنٹیئر سیرامکس لمیٹڈ نے 61 لاکھ 90 ہزار روپے کا آپریٹنگ منافع حاصل کیا، جبکہ گزشتہ سال کمپنی کو 4 کروڑ 19 لاکھ 90 ہزار روپے کا آپریٹنگ خسارہ ہوا تھا۔

اسی دوران زیادہ مارک اپ آمدنی کے باعث دیگر آمدنی میں 77.77 فیصد اضافہ ہوا، تاہم مالیاتی اخراجات میں 29 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کی بنیادی وجہ پراویڈنٹ فنڈ پر ادا کیے گئے مارک اپ کے باعث بلند شرحِ سود کا اثر تھا۔

دوسری جانب کمپنی کا گیئرنگ ریشو 2023 کے 32 فیصد سے کم ہو کر 2024 میں 24 فیصد رہ گیا، جو قرضوں پر انحصار میں کمی کی نشاندہی کرتا ہے۔

اگرچہ خالص خسارے میں سالانہ بنیاد پر 28.38 فیصد کمی آئی، تاہم کمپنی کو 2024 میں 10 کروڑ 99 لاکھ 13 ہزار روپے کا خالص خسارہ برداشت کرنا پڑا۔ اس کے نتیجے میں فی حصص خسارہ 2.90 روپے رہا۔

2025 کی کارکردگی

2025 میں کمپنی کی مالی کارکردگی میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی۔ اس کی خالص فروخت سالانہ بنیاد پر 28.40 فیصد بڑھ کر 439 کروڑ 4 لاکھ 10 ہزار روپے تک پہنچ گئی۔

اگرچہ تعمیراتی شعبہ، جو کمپنی کی مصنوعات کی طلب کا بنیادی ذریعہ ہے، بلند افراطِ زر، پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے تحت سست اخراجات اور سرمایہ کاروں کے محتاط رویے کے باعث سال بھر دباؤ کا شکار رہا، تاہم کمپنی زیادہ منافع بخش اور ڈیزائن پر مبنی مصنوعات پر توجہ دے کر اپنی فروخت بڑھانے میں کامیاب رہی۔

اس دوران کمپنی نے اپنے ”فورٹے (FORTE)“ برانڈ کی تشہیر اور مارکیٹ میں اس کی شناخت مضبوط بنانے پر بھی خصوصی توجہ دی۔

کمپنی نے آپریشنل کارکردگی بہتر بنانے اور توانائی کے استعمال کے طریقہ کار (انرجی مکس) کو مؤثر بنا کر پیداواری لاگت کو بھی قابو میں رکھا۔ اس کے نتیجے میں 2025 میں فروختی لاگت میں 19.21 فیصد اضافہ ہوا، جو فروخت میں ہونے والے اضافے سے خاصا کم تھا۔

اس کا مثبت اثر مجموعی منافع پر پڑا، جو 452.28 فیصد بڑھ گیا، جبکہ مجموعی منافع کا مارجن بڑھ کر 9.13 فیصد تک پہنچ گیا۔

2025 میں مواصلاتی، سفری اور اثاثوں کی قدر میں کمی کے اخراجات کم ہونے کے باعث تقسیمی اخراجات میں 6.12 فیصد کمی آئی۔

اس کے برعکس ڈائریکٹرز کے معاوضوں میں اضافے اور متوقع قرضہ جاتی نقصانات (ای سی ایل) کے لیے زیادہ رقم مختص کیے جانے کے باعث انتظامی اخراجات 3.41 فیصد بڑھ گئے۔

کمپنی نے اپنی افرادی قوت 765 سے کم کر کے 732 ملازمین تک محدود کر دی، جس سے تنخواہوں کے اخراجات میں کمی آئی۔

دوسری جانب ورکرز ویلفیئر فنڈ اور ورکرز پرافٹ پارٹیسپیشن فنڈ کے لیے زیادہ رقوم مختص کیے جانے کے باعث دیگر اخراجات میں 611 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا۔

اس کے باوجود کمپنی کا آپریٹنگ منافع 4907.34 فیصد بڑھ گیا، جبکہ آپریٹنگ منافع کا مارجن بڑھ کر 7 فیصد ہو گیا۔

تاہم 2025 میں دیگر آمدنی میں 84.63 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، کیونکہ کمپنی کو کرایے کی مد میں کوئی آمدنی حاصل نہیں ہوئی اور مارک اپ آمدنی میں بھی نمایاں کمی آئی۔

دوسری طرف مانیٹری پالیسی میں نرمی اور طویل مدتی قرضوں میں نمایاں کمی کے باعث مالیاتی اخراجات 79.68 فیصد کم ہو گئے۔ اسی دوران گیئرنگ ریشو بھی 24 فیصد سے گھٹ کر صرف 6 فیصد رہ گیا۔

ان تمام عوامل کے نتیجے میں کمپنی نے 2025 میں 14 کروڑ 74 لاکھ 95 ہزار روپے کا خالص منافع حاصل کیا، جبکہ 2024 میں اسے 10 کروڑ 99 لاکھ 13 ہزار روپے کا خالص خسارہ ہوا تھا۔

اسی طرح فی حصص آمدنی 2025 میں 3.89 روپے رہی، جبکہ 2024 میں فی حصص خسارہ 2.90 روپے ریکارڈ کیا گیا تھا۔

حالیہ مالی کارکردگی (مالی سال 2025-26 کے پہلے نو ماہ)

جاری مالی سال کے پہلے نو ماہ کے دوران فرنٹیئر سیرامکس لمیٹڈ کی خالص فروخت میں سالانہ بنیاد پر 10.29 فیصد اضافہ ہوا اور یہ بڑھ کر 359 کروڑ 36 لاکھ 90 ہزار روپے تک پہنچ گئی۔ اس اضافے کی بنیادی وجوہات فروخت کے حجم میں اضافہ، مصنوعات کی قیمتوں پر نظرثانی اور زیادہ منافع بخش مصنوعات پر مشتمل متوازن فروختی حکمت عملی تھیں۔

اس عرصے میں طلب کا زیادہ تر انحصار گھروں اور عمارتوں کی تزئین و مرمت اور سرکاری شعبے کے بحالی منصوبوں پر رہا، جبکہ نجی شعبے کی طلب نسبتاً کمزور رہی۔

حالیہ عرصے میں کمپنی نے زیادہ منافع بخش مصنوعات پر خصوصی توجہ مرکوز رکھی۔ اس حکمت عملی کے ساتھ ساتھ مہنگائی اور عالمی اجناس کی قیمتوں میں کمی، پاکستانی روپے کے استحکام اور توانائی کے ذرائع کے مؤثر امتزاج کے باعث پیداواری لاگت میں بہتری آئی، جس کے نتیجے میں 2025-26 کے پہلے نو ماہ کے دوران مجموعی منافع میں 42.82 فیصد اضافہ ہوا۔

اس عرصے میں مجموعی منافع کا مارجن بڑھ کر 8.26 فیصد ہو گیا، جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں یہ 6.38 فیصد تھا۔

پیداوار اور فروخت کے حجم میں اضافے کے ساتھ مہنگائی کے دباؤ کے باعث 2025-26 کے پہلے نو ماہ میں تقسیمی اخراجات 7 فیصد اور انتظامی اخراجات 13.60 فیصد بڑھ گئے۔

اسی طرح دیگر اخراجات میں 2.58 فیصد اضافہ ہوا، جس کی ممکنہ وجہ ورکرز ویلفیئر فنڈ اور ورکرز پرافٹ پارٹیسپیشن فنڈ کے لیے زیادہ رقوم مختص کرنا تھی۔

اس کے باوجود کمپنی کا آپریٹنگ منافع 59.46 فیصد بڑھ گیا، جبکہ آپریٹنگ منافع کا مارجن گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے 4.29 فیصد کے مقابلے میں بڑھ کر 6.20 فیصد ہو گیا۔

دوسری جانب دیگر آمدنی میں غیرمعمولی اضافہ دیکھنے میں آیا، جو 46 لاکھ 60 ہزار روپے سے بڑھ کر 5 کروڑ 83 لاکھ 30 ہزار روپے ہو گئی، یعنی سالانہ بنیاد پر 1151.13 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ بظاہر اس کی وجہ متعلقہ فریقوں ( کو دیے گئے قرضوں میں نمایاں اضافے کے نتیجے میں مارک اپ آمدنی میں اضافہ تھا۔

اگرچہ مانیٹری پالیسی میں نرمی کی گئی، تاہم کمپنی کے قلیل مدتی واجبات میں اضافے کے باعث مالیاتی اخراجات میں 3.78 فیصد اضافہ ہوا۔ اس کے باوجود کمپنی گزشتہ چند برسوں کے دوران اپنے قرضوں میں نمایاں کمی لانے میں کامیاب رہی ہے۔

ان تمام عوامل کے نتیجے میں 2025-26 کے پہلے نو ماہ کے دوران کمپنی کا خالص منافع 126.19 فیصد بڑھ کر 18 کروڑ 56 لاکھ 80 ہزار روپے تک پہنچ گیا۔

اس عرصے میں فی حصص آمدنی 4.90 روپے رہی، جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں یہ 2.17 روپے تھی۔ اسی طرح خالص منافع کا مارجن 2.52 فیصد سے بڑھ کر 5.17 فیصد ہو گیا۔

مستقبل کا منظرنامہ

حالیہ عرصے میں تعمیراتی سرگرمیوں میں مسلسل سست روی کے باعث ٹائلز کی مقامی مارکیٹ نمایاں طور پر سکڑ گئی ہے۔ اس کی بنیادی وجوہات معاشی اور سیاسی عدم استحکام، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی اور پراپرٹی ٹیکس میں اضافہ، بلند شرحِ سود، صارفین کی قوتِ خرید میں کمی اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں مسلسل کمزوری ہیں۔

اگرچہ حالیہ مہینوں میں بعض معاشی اشاریوں میں بہتری کے آثار نمایاں ہوئے ہیں، تاہم سرمایہ کاروں کے اعتماد کی مکمل بحالی میں ابھی وقت لگے گا۔ اس وقت تعمیراتی سرگرمیوں کا زیادہ تر انحصار تزئین و مرمت اور سرکاری منصوبوں پر ہے، جبکہ ان منصوبوں کے لیے بھی فنڈز کا اجرا سست روی کا شکار ہے۔

اسی تناظر میں کمپنی فی الحال اپنی آپریشنل کارکردگی بہتر بنانے، برانڈ کی شناخت مضبوط کرنے، ڈیلرز کے نیٹ ورک کو وسعت دینے اور اپنی فروخت میں زیادہ منافع بخش مصنوعات کا تناسب بڑھانے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔