سیمنٹ صنعت مستحکم، مگر ترقی کی رفتار اب بھی محدود
- اندازہ ہے کہ سال بھر کے دوران سیمنٹ کی مجموعی ترسیلات 5 کروڑ ٹن سے کچھ زیادہ رہیں گی
پاکستان کی سیمنٹ صنعت مالی سال 2025-26 کا اختتام نسبتاً مضبوط بنیادوں پر کر رہی ہے۔ اندازہ ہے کہ سال بھر کے دوران سیمنٹ کی مجموعی ترسیلات 5 کروڑ ٹن سے کچھ زیادہ رہیں گی، جو مالی سال 2024-25 (مالی سال 25) کے مقابلے میں 7 فیصد زیادہ ہیں۔ یوں طویل جمود کے بعد بحالی کا یہ مسلسل دوسرا سال ہوگا۔ اس اضافے کی بنیادی وجہ تقریباً مکمل طور پر ملکی طلب ہے، جہاں مقامی ترسیلات میں 9 فیصد اضافہ متوقع ہے، جبکہ برآمدات میں 3 فیصد کمی آنے کا امکان ہے۔
وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان میں تعمیرات کا شعبہ بتدریج استحکام کی جانب بڑھ رہا ہے۔ مہنگائی میں کمی، شرحِ سود میں کمی اور کاروباری اعتماد میں بہتری نے نجی تعمیراتی سرگرمیوں کو دوبارہ متحرک کیا، جس کے نتیجے میں مالی سال 2022 سے 2025 کے دوران انتہائی کمزور رہنے والی مقامی سیمنٹ طلب میں بحالی دیکھنے میں آئی۔
اس کے باوجود مجموعی ترسیلات اب بھی ان سطحوں سے خاصی کم ہیں جن کی سیمنٹ ساز کمپنیوں نے توقع کی تھی، جب انہوں نے چند سال قبل پیداواری صلاحیت میں بڑے پیمانے پر توسیع کا جارحانہ منصوبہ شروع کیا تھا۔
ادھر پیداواری صلاحیت مسلسل بڑھتی رہی، جبکہ کھپت اس رفتار سے نہیں بڑھ سکی، جس کے نتیجے میں صنعت کو اپنی تاریخ کے سب سے بڑے اضافی پیداواری صلاحیت کے بوجھ کا سامنا ہے۔
رواں سال پیداواری صلاحیت کے استعمال کی شرح گزشتہ سال کے 56 فیصد کے مقابلے میں بڑھ کر تقریباً 59 فیصد رہنے کی توقع ہے، تاہم یہ اب بھی 65 فیصد کی اس سطح سے کم ہے جسے ایک معقول اور صحت مند شرح سمجھا جاتا ہے۔ یہ عدم توازن کئی برسوں کے دوران پیدا ہوا ہے۔
چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سے وابستہ تعمیراتی سرگرمیوں کے عروج اور مالی سال 2021 میں نیا پاکستان ہاؤسنگ پروگرام کے تحت دی گئی ہاؤسنگ مراعات کے دوران سیمنٹ کمپنیوں نے بنیادی ڈھانچے اور رہائشی تعمیرات میں مسلسل اضافے کی توقع کرتے ہوئے اپنی پیداواری لائنوں میں تیزی سے توسیع کی۔ لیکن اس کے برعکس، معاشی عدم استحکام، سیاسی غیر یقینی صورتحال اور بار بار کے معاشی استحکام کے پروگراموں نے نئی پیداواری صلاحیت جذب ہونے سے پہلے ہی تعمیراتی سرگرمیوں کو شدید سست کر دیا۔
کئی برسوں تک برآمدات نے اس صورتحال کے منفی اثرات کو کسی حد تک کم کرنے میں مدد دی۔ بیرونِ ملک سیمنٹ کی ترسیلات نے مقامی طلب کی کمزوری کا کچھ بوجھ اٹھایا، لیکن اب یہ سہارا پہلے کے مقابلے میں خاصا محدود ہو چکا ہے۔
رواں سال برآمدی ترسیلات میں کمی متوقع ہے کیونکہ علاقائی سطح پر مسابقت میں اضافہ ہو رہا ہے اور مال برداری کی لاگت اور معاشی عوامل پہلے کی نسبت کم سازگار ہوتے جا رہے ہیں، خصوصاً جنوبی پاکستان کے ان سیمنٹ ساز اداروں کے لیے جو اپنی برآمدات سمندری راستوں کے ذریعے کرتے ہیں۔
جون کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنوبی علاقوں سے سمندری راستے کے ذریعے ہونے والی برآمدات، اگرچہ ماہانہ بنیاد پر مجموعی برآمدی ترسیلات میں اضافہ ہوا ہے، اس کے باوجود گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں طور پر کمزور رہی ہیں۔
دوبارہ مقامی منڈی کی جانب توجہ مرکوز ہونا تجارتی اعتبار سے سیمنٹ ساز کمپنیوں کے لیے زیادہ فائدہ مند ہے۔ مقامی مارکیٹ میں عموماً قیمتوں پر بہتر اختیار حاصل ہوتا ہے اور برآمدات کے مقابلے میں نقل و حمل اور لاجسٹکس کے اخراجات بھی نمایاں طور پر کم ہوتے ہیں۔ تاہم اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ اب صنعت کی کارکردگی پہلے سے کہیں زیادہ پاکستان کے اپنے تعمیراتی شعبے سے وابستہ ہو گئی ہے، جہاں طلب کا بڑا انحصار حکومتی ترقیاتی اخراجات اور ہاؤسنگ سرگرمیوں پر ہے۔
مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں حکومت نے تعمیرات اور رئیل اسٹیٹ کے شعبے کو متحرک کرنے کے لیے متعدد ٹیکس اقدامات کا اعلان کیا ہے، جبکہ رعایتی ہاؤسنگ فنانس اسکیم سے بھی گھروں کی ملکیت کے فروغ میں مدد ملنے کی توقع ہے۔
مالیاتی اخراجات میں کمی سے توقع کی جا رہی ہے کہ نجی تعمیراتی کمپنیاں بتدریج ان منصوبوں کو دوبارہ شروع کریں گی جو بلند شرحِ سود کے دور میں مالی طور پر ناقابلِ عمل ہو گئے تھے۔
تاہم یہ ابھی واضح نہیں کہ آیا یہ اقدامات ایک مرتبہ پھر تعمیراتی شعبے میں تیزی پیدا کرنے کے لیے کافی ثابت ہوں گے یا نہیں۔
رہائش کی استطاعت مسلسل کمزور ہو رہی ہے کیونکہ گھریلو آمدن میں اضافہ، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور ٹیکسوں کے بوجھ کا ساتھ نہیں دے پا رہا۔ دوسری جانب مالیاتی نظم و ضبط کی ضروریات کے باعث سرکاری ترقیاتی اخراجات بھی محدود ہیں، جس سے حکومت کی اس صلاحیت پر بھی قدغن لگتی ہے کہ وہ ماضی کی طرح بنیادی ڈھانچے پر مبنی ایسے بڑے منصوبے شروع کر سکے جو سیمنٹ کی کھپت میں نمایاں اضافہ کرتے تھے۔
مقامی طلب میں اضافے کی رفتار مستقبل قریب میں اتنی تیز دکھائی نہیں دیتی کہ پاکستان کی موجودہ بڑی اضافی پیداواری صلاحیت کو جذب کر سکے۔ جب تک بڑے پیمانے پر بنیادی ڈھانچے میں مستقل سرمایہ کاری، رہائشی تعمیرات میں حقیقی تیزی یا برآمدات کی مسابقت میں نمایاں بحالی نہیں آتی، اس وقت تک آئندہ چند برسوں میں پیداواری صلاحیت کے استعمال کی شرح میں صرف بتدریج بہتری آنے کی توقع ہے۔
تاہم سیمنٹ ساز اداروں کے لیے شاید یہ کوئی منفی صورتحال نہ ہو۔ ملک کی بڑی سیمنٹ کمپنیوں نے گزشتہ کئی برسوں کے دوران اپنی مالی پوزیشن کو مضبوط بنانے، پیداواری لاگت کم کرنے اور جہاں ممکن ہو وہاں اپنی برآمدی منڈیوں کو متنوع بنانے پر توجہ دی ہے۔
ممکن ہے اب انہیں منافع بخش رہنے کے لیے مالی سال 2021 جیسی غیر معمولی طلب میں اچانک اضافے کی ضرورت نہ ہو۔ ان کے لیے زیادہ اہم چیز ایک مستحکم ملکی معیشت ہے، جو ہر سال مسلسل چند ملین ٹن اضافی مقامی طلب پیدا کرتی رہے، نہ کہ ایک اور عارضی تعمیراتی جنون پیدا ہو۔
بالآخر یہی صورتحال اس صنعت کے لیے زیادہ مضبوط اور پائیدار بنیاد ثابت ہو سکتی ہے، خواہ اس کا مطلب یہ ہی کیوں نہ ہو کہ پاکستان کی سیمنٹ کی بڑی اضافی پیداواری صلاحیت ابھی بھی طویل عرصے تک مارکیٹ پر اپنا سایہ ڈالے رکھے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026