مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی میں کمی کے باوجود سری لنکا کی معیشت اب بھی غیر محفوظ، اصلاحات ناگزیر، آئی ایم ایف
- چار سال قبل ڈالر کی ریکارڈ قلت کے باعث پیدا ہونے والے شدید مالی بحران سے سری لنکا بتدریج بحالی کی راہ پر گامزن
آئی ایم ایف کے ایک عہدیدار نے منگل کے روز کہا ہے کہ اگرچہ مشرقِ وسطیٰ کے بحران میں کمی آئی ہے، تاہم سری لنکا کی معیشت اب بھی بیرونی جھٹکوں کے مقابلے میں غیر محفوظ ہے، اس لیے ملک کو بنیادی معاشی اصلاحات پر مستقل عمل درآمد جاری رکھنا ہوگا۔
عالمی مالیاتی ادارے کے 2.9 ارب ڈالر کے امدادی پروگرام کی بدولت سری لنکا چار سال قبل ڈالر کی ریکارڈ قلت سے پیدا ہونے والے شدید مالی بحران سے بتدریج بحالی کی راہ پر گامزن ہے۔
توانائی کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے سے بری طرح متاثر ہونے والے اس جزیرہ نما ملک، جو اپنی تمام ایندھن کی ضروریات درآمدات سے پوری کرتا ہے، نے اس بحران کے دوران ایندھن کی راشن بندی نافذ کی، قیمتوں میں نمایاں اضافہ کیا اور مارچ کے آغاز سے ہر بدھ کو سرکاری تعطیل کا اعلان بھی کیا تھا۔
آئی ایم ایف کے سری لنکا مشن کے سربراہ ایون پاپاجارجیو نے کہا کہ اگرچہ توانائی کی قیمتوں میں کمی آئی ہے، تاہم سری لنکا کو اب بھی سرکاری اخراجات میں احتیاط برتنی چاہیے، زرمبادلہ کے ذخائر کو مزید مستحکم کرنا چاہیے اور غریب ترین گھرانوں کے تحفظ کو یقینی بنانا چاہیے۔
ایون پاپاجارجیو نے کہا، ”عالمی سطح پر غیر یقینی صورتحال میں اضافے کے پیشِ نظر قیمتوں کے استحکام کو یقینی بنانے کے لیے مانیٹری پالیسی محتاط، لچکدار اور معاشی اعداد و شمار کی بنیاد پر ترتیب دی جانی چاہیے۔“ انہوں نے مزید کہا کہ بیلنس آف پیمنٹس سے متعلق عائد پابندیاں بھی مرحلہ وار ختم کی جانی چاہییں۔
سری لنکا کے مرکزی بینک نے مئی میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور امریکا اوراسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے نتیجے میں توانائی کے شعبے پر پڑنے والے اثرات سے کرنسی کی قدر میں آنے والی کمی کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنی بنیادی شرحِ سود میں 100 بیسس پوائنٹس اضافہ کرتے ہوئے اسے 8.75 فیصد کر دیا تھا۔ یہ گزشتہ تین برسوں میں شرحِ سود میں سب سے بڑا اضافہ تھا۔
تاہم شرحِ سود میں اضافے کے باوجود جون میں افراطِ زر 6.8 فیصد تک پہنچ گئی، اور تجزیہ کاروں کے مطابق آئندہ 3 سے 4 ماہ تک اس کے سری لنکا کے مرکزی بینک (سی بی ایس ایل) کے 5 فیصد ہدف سے اوپر رہنے کا امکان ہے۔
پاپاجارجیو نے مزید کہا کہ معاشی بحالی کو مزید مستحکم بنانے کے لیے سری لنکا کو خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کی اصلاحات کا عمل تیز کرنا، توانائی کی قیمتوں کے تعین کے موجودہ نظام کو برقرار رکھنا اور سرکاری قرضوں کے انتظام کو مزید مؤثر بنانا ہوگا۔
آئی ایم ایف کے امدادی پروگرام کا ساتواں جائزہ رواں سال کے اواخر میں شروع کیا جائے گا۔