کھیل

اینسیلوٹی کا جادو چل گیا، برازیل نے ریال میڈرڈ کے انداز میں سنسنی خیز فتح سمیٹ لی

  • ریال میڈرڈ کے ساتھ طویل رفاقت نے اینسیلوٹی کو طویل اور پیچیدہ ٹورنامنٹس کی نزاکتوں سے خوب آشنا کر دیا ہے
شائع June 30, 2026 اپ ڈیٹ June 30, 2026 06:30pm

کارلو اینسیلوٹی کئی ہفتوں سے خبردار کرتے آ رہے تھے کہ طویل اور کٹھن ورلڈ کپ میں کامیابی کا دار و مدار عزم، ہمت اور ثابت قدمی پر ہوگا۔ اس میچ نے ثابت کر دیا کہ برازیلین کھلاڑیوں نے اپنے کوچ کی بات پلے باندھ لی ہے، اگرچہ جاپان کے خلاف مقابلے کے بیشتر حصے میں وہ خود ہی اس نظریے کو کڑی آزمائش میں ڈالتے دکھائی دیے۔

یہ محض برازیل کی 1-2 سے فتح نہیں تھی بلکہ ایسا لگا جیسے کارلو اینسیلوٹی کی ایک اور شاہکار پیشکش ہو؛ ابتدا میں کھیل پر مکمل گرفت، پھر اچانک لڑکھڑاہٹ، اس کے بعد اپنی ہی غلطیوں سے مشکلات کو دعوت، اور جب لگنے لگا کہ میچ اضافی وقت کی جانب بڑھ رہا ہے تو عین آخری لمحات میں ایسا جوابی وار، جس میں حکمتِ عملی سے زیادہ جذبے اور حوصلے کی جھلک نمایاں تھی۔

ریال میڈرڈ کے ساتھ طویل عرصہ گزارنے کے باعث اینسیلوٹی طویل اور پیچیدہ ٹورنامنٹس کی نفسیات سے بخوبی واقف ہیں۔ ان کی بہترین ریال میڈرڈ ٹیمیں ہمیشہ بے عیب نہیں تھیں، مگر ان کے پاس ایک ایسی قوت ضرور تھی جو کمال سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہوتی تھی: یہ غیرمتزلزل یقین کہ کہانی اس وقت تک ختم نہیں ہوتی جب تک آخری سیٹی نہ بج جائے۔

برازیل کی اس کارکردگی میں ریال میڈرڈ کی جھلک صاف دکھائی دی۔

2022 میں ریال میڈرڈ نے چیمپئنز لیگ کے ناک آؤٹ مرحلے میں پیرس سینٹ جرمین، چیلسی اور مانچسٹر سٹی کے خلاف ناقابلِ یقین کم بیکس کرتے ہوئے ٹرافی اپنے نام کی تھی۔ کئی مواقع پر ٹیم شکست کے دہانے پر کھڑی دکھائی دی، لیکن اگلے ہی لمحے منظر نامہ بدل گیا۔

یہ فتوحات ہمیشہ خوبصورت یا بے داغ نہیں تھیں، بلکہ اکثر بے ترتیب دکھائی دیتی تھیں۔ تاہم ان کی کامیابی کی بنیاد غیرمعمولی اعصابی مضبوطی، انتشار کے عالم میں درست فیصلے کرنے کی صلاحیت اور واضح نظر آنے والے انجام کو تسلیم کرنے سے انکار پر تھی، یہاں تک کہ جب ایسا کرنا عقل کے خلاف محسوس ہوتا تھا۔

برازیل ایک طویل عرصے تک ورلڈ کپ کی وہی ہیبت اور رعب رکھتا تھا۔ ہر چار سال بعد ایسا محسوس ہوتا جیسے یہ ٹورنامنٹ انہی کی جاگیر، انہی کا اسٹیج اور انہی کا قدرتی میدان ہو۔ بالکل ویسے ہی جیسے چیمپئنز لیگ میں ریال میڈرڈ۔ وہ محض اس مقابلے میں حصہ نہیں لیتے تھے بلکہ اس پر اپنی دھاک بٹھا دیتے تھے، اور حریفوں کے دل میں ہمیشہ یہ احساس رہتا تھا کہ اگر اپنی حیثیت منوانی ہے تو پہلے برازیل کو شکست دینا ہوگی۔

جاپان کے خلاف اس مقابلے میں پیلے لباس میں ملبوس برازیل نے اینسیلوٹی کے فلسفے کے دونوں رخ پیش کیے۔

ابتدا ہی سے برازیل کھیل پر حاوی رہا اور مجموعی طور پر بہتر ٹیم بھی ثابت ہوا، لیکن ساتھ ہی اس نے ایسی غلطیاں بھی کیں جو متوقع، جانی پہچانی اور خطرناک محسوس ہو رہی تھیں۔ ریال میڈرڈ، مانچسٹر سٹی اور یووینٹس کی نمائندگی کرنے والے تجربہ کار ڈینیلو، جو اب سینٹر بیک کے طور پر کھیل رہے ہیں اور دو ہفتوں بعد 35 برس کے ہو جائیں گے، نے دفاع سے کھیل کی شروعات کرتے ہوئے ایک آسان پاس غلط دے دیا۔

قابلِ اعتماد تجربہ کار کھلاڑی

اینسیلوٹی کے قابلِ اعتماد سینئر کھلاڑیوں میں شامل کاسیمیرو بھی ایک موقع پر جاپانی کھلاڑی کی رفتار کا مقابلہ نہ کر سکے، جس سے ایک بار پھر یہ حقیقت سامنے آئی کہ تجربہ قیادت تو دے سکتا ہے، لیکن ہمیشہ رفتار نہیں۔

کچھ دیر کے لیے برازیل ماضی اور حال کے درمیان پھنسا ہوا دکھائی دیا؛ اتنا بڑا کہ گھبراہٹ کا شکار نہ ہو، مگر اتنا کمزور بھی کہ اطمینان سے نہ کھیل سکے۔

لیکن یہی وہ مرحلہ ہوتا ہے جہاں اینسیلوٹی کی ٹیمیں سب سے زیادہ دلچسپ بن جاتی ہیں۔ اطالوی کوچ کبھی بھی محض یکطرفہ غلبے کے قائل نہیں رہے۔ ان کی بہترین ٹیمیں اکثر کھیل کے انہی نازک لمحات میں اپنی شناخت بناتی ہیں، جہاں مقابلہ جذباتی، بے ترتیب اور جبلّی کیفیت اختیار کر لیتا ہے۔

اور پھر تقریباً آخری ہی حملے میں، جب جاپانی ٹیم کی نظریں اضافی وقت پر جمی ہوئی تھیں، برازیل نے نجات کا راستہ ڈھونڈ لیا۔

نوجوان ریان نے مسلسل دباؤ ڈال کر گیند چھین لی اور اسے برونو گیمارائش کے حوالے کر دیا، جو اینسیلوٹی کے نظام کا دھڑکتا ہوا دل ثابت ہوئے۔

گیمارائش نے متبادل کھلاڑی گیبریل مارٹینیلی کو جاپانی مدافعین کے ہجوم میں تلاش کیا، اور مارٹینیلی نے ایسی بےرحمانہ فنشنگ کی جس نے ایک ٹیم کے خواب چکنا چور کر دیے اور دوسری کو یہ یقین دلا دیا کہ قسمت اسی کا ساتھ دے رہی ہے۔

جاپان کے لیے یہ لمحہ انتہائی دل شکن تھا، جبکہ برازیل کے لیے یہ کسی حد تک اپنی کھوئی ہوئی شناخت واپس حاصل کرنے کے مترادف تھا۔

یہ برازیل اپنی خوبصورت ترین یا مکمل ترین شکل میں نہیں تھا، لیکن ورلڈ کپ شاذ و نادر ہی محض خوبصورتی کے بل بوتے پر جیتے جاتے ہیں۔ اینسیلوٹی کے مطابق کامیابی ان ٹیموں کا مقدر بنتی ہے جو مشکل لمحات میں ڈٹی رہیں، اپنی غلطیوں کا بوجھ برداشت کریں اور آخری لمحے تک اس یقین کو زندہ رکھیں کہ ابھی ایک موقع باقی ہے۔

اینسیلوٹی یہ منظر کئی بار دیکھ چکے ہیں، اور اب برازیل اسی کہانی کو اپنی داستان بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔