ٹڈاپ میں 3.65 ارب روپے کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف، سخت جانچ پڑتال کا سامنا
- ملکی برآمدات کے فروغ کے ذمہ دار ادارے کی کارکردگی پر سنگین سوالات کھڑے ہوگئے
پاکستان کے پرائمری ایکسپورٹ پروموشن ادارے، ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹڈاپ) کو آڈٹ رپورٹ میں مالی بے قاعدگیوں، گورننس کی ناکامیوں اور اندرونی کنٹرول کے نظام میں کمزوریوں کے انکشاف کے بعد سخت جانچ پڑتال کا سامنا ہے۔
ٹڈاپ کی مالی سال 2024-25 سے متعلق آڈٹ رپورٹ میں 3 ارب 65 کروڑ 60 لاکھ روپے سے زائد کی مالی بے ضابطگیوں، کمزور داخلی نگرانی، مالی بدانتظامی اور قانونی تقاضوں کی خلاف ورزیوں کا انکشاف ہوا ہے، جس نے ملکی برآمدات کے فروغ کے ذمہ دار ادارے کی کارکردگی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
آڈٹ رپورٹ کے مطابق بے ضابطگیوں میں 1.6 ارب روپے سے زائد کی ریکوریز، 1.36 ارب روپے کی داخلی کنٹرول کی خامیاں، جبکہ 51 کروڑ 36 لاکھ روپے سے زائد کی کمرشل بینک اکاؤنٹس کے غلط انتظام سے متعلق معاملات شامل ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان بے ضابطگیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ادارہ مالی نظم و ضبط اور انتظامی شفافیت کے حوالے سے سنگین مسائل کا شکار ہے۔
آڈیٹرز نے نشاندہی کی کہ ٹڈاپ نے ٹڈاپ ایکٹ 2013 کی واضح قانونی شقوں کے باوجود مالی سال کے اختتام کے بعد بھی بیلنس شیٹ، آمدنی کا گوشوارہ اور کیش فلو اسٹیٹمنٹ تیار نہیں کیے، جو قانونی تقاضوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔ انتظامیہ نے مؤقف اختیار کیا کہ گزشتہ برسوں کے مالی گوشوارے بیرونی آڈیٹرز نے تیار کیے تھے جبکہ 2024-25 کے گوشواروں پر کام جاری ہے، تاہم آڈیٹرز نے اس وضاحت کو غیر تسلی بخش قرار دیا۔
رپورٹ میں کراچی ایکسپو سینٹر کی آمدنی سے حاصل ہونے والے 51 کروڑ 36 لاکھ روپے نیشنل بینک آف پاکستان کے کمرشل اکاؤنٹ میں رکھنے کو بھی غیر قانونی قرار دیا گیا۔ آڈٹ کے مطابق قانون کے تحت یہ رقم ٹڈاپ فنڈ میں جمع کرانا لازمی تھی، تاہم انتظامیہ نے اس میں سے 40 کروڑ 6 لاکھ روپے مختلف انتظامی اخراجات پر خرچ کر دیے۔
آڈٹ میں مزید بتایا گیا کہ کراچی ایکسپو سینٹر میں اضافی سیٹ اپ اور ڈسمینٹلنگ ایام کے چارجز وصول نہ کرنے کے باعث 2 کروڑ 95 لاکھ روپے کا نقصان ہوا۔ دفاعی برآمدی فروغ تنظیم (ڈیپو) سے اضافی دنوں کے واجبات وصول نہیں کیے گئے، حالانکہ قواعد کے مطابق اضافی مدت پر 50 فیصد شرح سے فیس وصول کی جانی چاہیے تھی۔
اسی طرح کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے پانی کے بل بروقت ادا نہ کرنے کے باعث 2 کروڑ 41 لاکھ روپے کی واجب الادا رقم جمع ہو گئی، جسے آڈیٹرز نے ناقص مالی انتظام قرار دیا۔
رپورٹ میں 14 کروڑ 40 لاکھ روپے سے زائد کی خریداری سے متعلق بے ضابطگیوں، مالی ریکارڈ کی ناقص دستاویز بندی، اکاؤنٹس کی بروقت مفاہمت نہ ہونے اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کی ہدایات پر کمزور عملدرآمد کی بھی نشاندہی کی گئی۔
آڈیٹرز نے سفارش کی ہے کہ ٹڈاپ فوری طور پر قانونی تقاضوں کے مطابق مالی گوشوارے تیار کرے، تمام آمدنی مقررہ فنڈ میں جمع کرائے، داخلی مالیاتی کنٹرول کو مضبوط بنائے، واجبات کی بروقت مفاہمت یقینی بنائے اور بے ضابطگیوں میں ملوث ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کی جائے۔ رپورٹ کے مطابق ادارے میں شفافیت، احتساب اور گورننس کے نظام میں بنیادی اصلاحات ناگزیر ہو چکی ہیں تاکہ برآمدات کے فروغ کے قومی مقصد کو مؤثر انداز میں حاصل کیا جا سکے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026