پاکستان

ملک بھر میں یومِ عاشور کے جلوس، سیکیورٹی ہائی الرٹ

  • مختلف شہروں میں عزادار نوحہ خوانی کرتے ہوئے حضرت امام حسینؓ اور ان کے جان نثار ساتھیوں کو خراجِ عقیدت پیش کررہے ہیں
شائع June 26, 2026 اپ ڈیٹ June 26, 2026 11:42am

ملک بھر میں آج نواسہ رسولؐ حضرت امام حسینؓ اور شہدائے کربلا کی عظیم قربانیوں کی یاد میں یوم عاشور منایا جارہا ہے، اس سلسلے میں چھوٹے بڑے شہروں میں ماتمی جلوس برآمد ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ آج نیوز کے مطابق ماتمی جلوسوں اور مجالس کی حفاظت کے لیے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

مختلف شہروں میں عزادار نوحہ خوانی کرتے ہوئے حضرت امام حسینؓ اور ان کے جان نثار ساتھیوں کو خراجِ عقیدت پیش کررہے ہیں جب کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے جلوسوں کی سیکیورٹی کے لیے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں۔ جلوسوں کی نگرانی سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے کی جارہی ہے اور مختلف مقامات پر طبی امداد، سبیلوں اور دیگر سہولیات کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق کراچی میں یومِ عاشور کا مرکزی جلوس نشتر پارک سے برآمد ہوا جہاں عزاداروں کی بڑی تعداد جلوس کے ہمراہ رواں دواں ہے۔ جلوس اپنے روایتی اور مقررہ راستوں سے گزرتا ہوا امام بارگاہ حسینیہ ایرانیاں کھارادر پہنچ کر اختتام پذیر ہوگا۔

اس موقع پر سیکیورٹی کے لیے پانچ ہزار سے زائد پولیس افسران اور اہلکار تعینات کیے گئے ہیں جبکہ جلوس کی گزرگاہوں کی سی سی ٹی وی کیمروں سے مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔

عزاداروں کی سہولت کے لیے مختلف مقامات پر سبیلیں قائم کی گئی ہیں اور طبی امداد کی فراہمی کے لیے خون کے عطیات کے کیمپ بھی لگائے گئے ہیں۔

لاہور میں گزشتہ روز نثار حویلی سے برآمد ہونے والا مرکزی شبیہِ ذوالجناح کا جلوس آج بھی اپنے روایتی راستوں پر گامزن ہے۔ جلوس سخت سیکیورٹی حصار میں اندرون لاہور کے مختلف علاقوں سے گزرتا ہوا کربلا گامے شاہ پہنچ کر اختتام پذیر ہوگا۔ انتظامیہ کی جانب سے راستوں میں سبیلوں، طبی امداد اور دیگر سہولیات کا انتظام کیا گیا ہے۔

شہر میں جلوس کی سیکیورٹی کے لیے بارہ ہزار سے زائد پولیس افسران اور اہلکار تعینات کیے گئے ہیں جبکہ واک تھرو گیٹس، میٹل ڈیٹیکٹرز، سی سی ٹی وی مانیٹرنگ، سادہ لباس کمانڈوز اور اہم مقامات پر سنائپرز بھی تعینات ہیں۔

اُدھر راولپنڈی میں مرکزی جلوس کرنل مقبول امام بارگاہ سے برآمد ہوا جو راجا بازار، جامع مسجد روڈ اور پرانا قلعہ سے گزرتا ہوا قدیمی امام بارگاہ پہنچ کر اختتام پذیر ہوگا۔ جلوس کی حفاظت کے لیے آٹھ ہزار سے زائد پولیس افسران اور اہلکار تعینات ہیں۔

پشاور میں شبیہِ ذوالجناح کے 12 جلوس نکالے جارہے ہیں۔ مرکزی جلوس امام بارگاہ آغا سید علی شاہ رضوی سے برآمد ہو کر اپنے مقررہ راستوں سے گزرتا ہوا امام بارگاہ آغا مصطفیٰ شاہ میں اختتام پذیر ہوگا۔

نمازِ مغرب کے بعد مختلف امام بارگاہوں میں مجالس عزا منعقد کی جائیں گی۔ شہر میں دس ہزار سے زائد پولیس اہلکار سیکیورٹی کی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔

کوئٹہ میں بھی یومِ عاشور کا مرکزی جلوس علمدار روڈ سے برآمد ہو کر اپنے مقررہ راستوں پر منزل کی جانب رواں دواں ہے۔ شہر میں سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور اکیس ہزار سے زائد سیکیورٹی اہلکار فرائض انجام دے رہے ہیں۔

دوسری جانب یومِ عاشور کے موقع پر ملک بھر میں سیکیورٹی کو ہائی الرٹ رکھا گیا ہے۔ حساس شہروں میں پولیس، رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار تعینات ہیں جبکہ سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر کئی شہروں میں موبائل فون سروس بھی جزوی یا مکمل طور پر معطل کی گئی ہے۔