نیمار واپس آ گئے، لیکن برازیل کو اب ایک نیا ’’جونیئر‘‘ بھی مل چکا
- ایک وقت تھا جب برازیل کو حریف کا دفاعی حصار توڑنے کے لیے صرف نیمار کا سہارا ہوتا تھا، مگر اب ونیسیئس جونیئر کی صورت میں اسے ایک اور غیرمعمولی صلاحیتوں کا حامل سپر اسٹار بھی میسر آ گیا ہے
برازیل کے اسٹار فٹبالر نیمار جونیئر نے بدھ کے روز 981 دن بعد قومی ٹیم میں واپسی کی اور متبادل کھلاڑی کے طور پر میدان میں اترتے ہوئے اپنے کیریئر کا 14واں ورلڈ کپ میچ کھیلا، جس میں برازیل نے اسکاٹ لینڈ کو 0-3 سے شکست دے کر آخری 32 ٹیموں کے مرحلے میں جگہ بنا لی۔
پنڈلی کی انجری کے باعث پانچ ہفتے میدانوں سے دور رہنے کے بعد برازیل کے صدر کی جانب سے ’’گھر بیٹھ کر کھیلنے والے کھلاڑی‘‘ کی تنقید کا نشانہ بننے والے 34 سالہ فارورڈ نے 2023 کے اواخر کے بعد پہلی بار بین الاقوامی میچ میں شرکت کی اور تقریباً 20 منٹ کھیلنے کا موقع پایا۔
اگرچہ اس عرصے میں لیونل میسی اور کرسٹیانو رونالڈو جیسے سپر اسٹارز کے مقابلے میں ان کی چمک کچھ ماند پڑی ہے، لیکن وہ آج بھی برازیلی فٹبال کی ایک نمایاں اور محبوب علامت ہیں۔ چنانچہ جب برازیل نے کھیل کے ایک گھنٹے بعد 0-3 کی برتری حاصل کی تو وارم اپ کے دوران پورا اسٹیڈیم ’’نیمار! نیمار!‘‘ کے نعروں سے گونج اٹھا۔
اسکاٹ لینڈ کے خلاف مقابلہ تقریباً برازیل کی جھولی میں جا چکا تھا جب کارلو انچیلوتی نے 76ویں منٹ میں ماتھیوس کونیا کی جگہ نیمار کو میدان میں بھیجا، جس پر اسٹیڈیم میں موجود برازیلی شائقین نے بھرپور تالیاں بجا کر اور نعروں سے ان کا استقبال کیا۔
غیرمعمولی فنی مہارت کے ساتھ ساتھ نیمار برازیل کے تاریخ کے سب سے کامیاب بین الاقوامی گول اسکورر بھی ہیں۔ 2010 میں ڈیبیو کے بعد سے وہ 129 میچوں میں اپنے ملک کے لیے 79 گول کر چکے ہیں۔
اگرچہ میامی اسٹیڈیم میں مختصر شرکت کے دوران ان کا 80واں بین الاقوامی گول نہ آ سکا، لیکن نہ نیمار اور نہ ہی تجربہ کار انچیلوتی اس بات پر پریشان ہوں گے، جن کا ہدف برازیل کو چھٹا عالمی کپ جتوانا ہے۔
ایک وقت تھا جب برازیل حریف کا دفاعی حصار توڑنے کے لیے صرف نیمار کی جانب دیکھتا تھا، مگر اب ونیسیئس جونیئر کی صورت میں اسے ایک اور غیرمعمولی صلاحیتوں کا حامل سپر اسٹار بھی میسر آ گیا ہے۔
25 سالہ ونیسیئس جونیئر نے اپنی رفتار اور فنی مہارت سے اسکاٹ لینڈ کے دفاع کے اوسان خطا کیے رکھے۔ وہ خود کو بدقسمت سمجھ سکتے ہیں کہ 1958 میں پیلے کے بعد ورلڈ کپ میں کسی برازیلی کھلاڑی کی پہلی ہیٹ ٹرک مکمل کرنے سے محروم رہ گئے۔
نیمار کے لیے جگہ بنانے سے قبل پورے فارورڈ لائن پر متحرک رہنے والے ونیسیئس نے اسکاٹ لینڈ کے دفاع کی ایک غلطی کا فائدہ اٹھا کر پہلا گول کیا، جبکہ پہلے ہاف کے اضافی وقت میں ہیڈر کے ذریعے دوسرا گول بھی داغ دیا۔
ان دونوں گولوں کے درمیان انہوں نے جیک ہینڈری سے گیند چھین کر جال میں پہنچا دی تھی، لیکن وی اے آر جائزے کے بعد ریفری نے فیصلہ دیا کہ انہوں نے مدافع کے خلاف فاؤل کیا تھا، لہٰذا گول مسترد کر دیا گیا۔
اس سے چند منٹ قبل انہوں نے گول کی جانب ایک خطرناک شاٹ لگائی اور پھر تماشائیوں میں موجود برازیلی شائقین کی جانب رخ کرکے ہاتھ کے اشارے سے مزید جوش و خروش دکھانے کی اپیل کی، جس کا جواب مجمع نے فوری طور پر بھرپور نعروں کی صورت میں دیا۔
دوسرے ہاف میں بھی انہیں چند مواقع ملے، لیکن گول کیپر نے انہیں کامیابی سے محروم رکھا۔ اس کے باوجود جب بھی گیند ان کے قدموں میں آئی، اسکاٹ لینڈ کا دفاع غیرمطمئن اور دباؤ کا شکار دکھائی دیا۔
ورلڈ کپ کے لیے نیمار کو دوبارہ ٹیم میں شامل کرنے کا انچیلوتی کا فیصلہ متنازع ضرور تھا، تاہم ونیسیئس جونیئر کی موجودگی میں یہ زیرک اطالوی کوچ بخوبی جانتے ہیں کہ تیس کی دہائی میں داخل ہو چکے نیمار اب برازیل کے حملے کا واحد محور نہیں بلکہ کئی مؤثر آپشنز میں سے ایک ہیں۔