ایک حالیہ میڈیا رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ پالیسی سازی کے حلقوں میں یہ رائے تیزی سے مقبول ہو رہی ہے کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم کا موجودہ این ایف سی ایوارڈ کا عمودی فارمولہ اب ناقابلِ عمل ہو چکا ہے اور اسے وفاقی حکومت کو درپیش مالی حقائق کے مطابق ازسرِنو ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔
اس کے حامیوں کا موقف ہے کہ موجودہ انتظامات کے تحت مرکز کے پاس اتنے وسائل نہیں بچتے کہ وہ اپنی بنیادی ذمہ داریوں، خاص طور پر دفاع اور قرضوں کی ادائیگی کو پورا کر سکے۔
یہ بحث اس مالیاتی فریم ورک کے گرد مرکوز ہے جو ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے تحت 18ویں ترمیم کے بعد قائم کیا گیا تھا، جس کے تحت قابلِ تقسیم ٹیکس پول میں صوبوں کا حصہ 57.5 فیصد تک بڑھا دیا گیا تھا جبکہ وفاقی حصے کو کم کرکے 42.5 فیصد کر دیا گیا تھا۔
مزید اہم بات یہ ہے کہ اس میں یہ شرط بھی شامل کی گئی کہ مستقبل میں کوئی بھی این ایف سی ایوارڈ صوبوں کے موجودہ حصے کو کم نہیں کرسکتا جس کے نتیجے میں عمودی وسائل کی تقسیم میں کسی بھی تبدیلی کو مؤثر طور پر آئینی ترمیم سے مشروط کر دیا گیا ہے۔
تاہم اس معاملے کی حساسیت کے پیش نظر صوبے اب تک ایسی کسی آئینی ترمیم پر اتفاق نہیں کرسکے ہیں۔
اس کے متبادل کے طور پر حالیہ بجٹ سازی کے سیشنز کے دوران ایک طریقہ کار نکالا گیا، جس کے تحت صوبوں نے اپنی مرضی سے تقسیم کے قابل ٹیکس پول سے 1.035 ٹریلین روپے مرکز کے حوالے کر دیے، تاہم بااثر حلقے اب بھی اس بات پر قائل ہیں کہ بنیادی توازن کی یہ خرابی بالآخر ایک آئینی ترمیم کی متقاضی ہوگی۔
تاہم اس بحث میں اکثر یہ پہلو نظرانداز کردیا جاتا ہے کہ موجودہ فارمولہ مخصوص مفروضوں پر مبنی تھا: ایک یہ کہ معیشت اتنی رفتار سے ترقی کرے گی کہ مجموعی مالیاتی وسائل کا حجم بڑھ جائے گا اور دوسرا یہ کہ 18ویں ترمیم کے تحت تعلیم اور صحت جیسے شعبوں کی صوبوں کو منتقلی کے ساتھ وفاقی سطح پر متعلقہ وزارتوں کے خاتمے کا عمل بھی ساتھ ساتھ ہوگا لیکن یہ دونوں توقعات پوری نہیں ہوسکیں۔
معیشت کی شرح نمو پیشگوئیوں سے کم رہی جبکہ بہت سی منتقل شدہ وزارتیں وفاقی سطح پر بدستور کام کرتی رہیں جس کے باعث وفاقی حکومت کو وہ ذمہ داریاں بھی مالی طور پر پوری کرنی پڑیں جو توقع تھی کہ ختم ہو جائیں گی۔ اگر یہ مفروضے درست ثابت ہوتے تو عمودی مالی فارمولے کی غیر پائیداری کے حوالے سے جو موجودہ مالی دباؤ پیش کیا جارہا ہے وہ شاید اتنا شدید نہ ہوتا۔
تاہم اگرچہ تمام تر توجہ وسائل کی عمودی تقسیم (وفاق اور صوبوں کے درمیان) پر مرکوز ہے لیکن اس کے بارے میں بہت کم بات ہورہی ہے جو این ایف سی ڈھانچے کا شاید اس سے بھی زیادہ ناقابلِ عمل پہلو ہے: یعنی صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم کا افقی فارمولا۔
اس نظام کے تحت آبادی کو صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم میں 82 فیصد بھاری وزن دیا جاتا ہے۔ اس پیمانے پر حد سے زیادہ انحصار دراصل آبادی میں تیز رفتار اضافے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے، یہ صورتحال خاص طور پر تشویشناک ہے کیونکہ پاکستان کی آبادی میں اضافہ شاید ملک کا سب سے بڑا وجودی چیلنج ہے۔
سالانہ 2.55 فیصد کی شرح سے آبادی اس رفتار سے بڑھ رہی ہے کہ اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کم از کم 6 فیصد جی ڈی پی گروتھ ہر سال درکار ہوگی اور پاکستان کی موجودہ پیداواری صلاحیت کو دیکھتے ہوئے یہ ہدف حاصل ہونا غیر ممکن نہیں تو کم از کم انتہائی مشکل ضرور ہے۔
اس کے نتائج اب واضح ہیں۔ ہر سال لاکھوں نوجوان افرادی قوت میں شامل ہوتے ہیں لیکن معیشت میں انہیں جذب کرنے کی صلاحیت کا فقدان ہے۔ بے روزگاری عروج پر ہے، سماجی دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے اور پاکستان کو برین ڈرین (ذہین افراد کے بیرونِ ملک انخلا) کی بڑھتی ہوئی لہر کا سامنا ہے جس میں بہت سے روشن دماغ اپنے مستقبل کی تعمیر کے لیے دوسرے ممالک کا انتخاب کررہے ہیں۔ جب آبادی نہ صرف وسائل کی تقسیم بلکہ وفاقی ملازمتوں کے کوٹے اور دیگر حکومتی ڈھانچوں میں بھی ایک غالب عنصر رہے گی تو آبادی پر قابو پانے کے مؤثر اقدامات کی ترغیب ناگزیر طور پر کمزور ہو جائے گی۔ اگر پاکستان اپنے طویل مدتی چیلنجوں سے نمٹنے میں سنجیدہ ہے تو افقی تقسیم کے فارمولے میں اصلاحات پر بھی اتنی ہی توجہ دی جانی چاہیے جتنی کہ عمودی تقسیم پر بحث کے لیے دی جاتی ہے۔ وفاق اور صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم میں تبدیلی کے برعکس افقی فارمولے پر نظر ثانی کے لیے آئینی ترمیم کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کے لیے صرف این ایف سی عمل کے ذریعے وفاقی اکائیوں کے مابین اتفاقِ رائے درکار ہے۔
چونکہ عمودی فارمولے میں تبدیلی کے لیے سیاسی اور آئینی رکاوٹیں موجود ہیں، اس لیے ایک زیادہ متوازن افقی فارمولے پر اتفاق رائے پیدا کرنا نہ صرف زیادہ قابلِ حصول اصلاحات ہوسکتی ہیں بلکہ یہ زیادہ اہم بھی ہے اور اس پر فوری توجہ دی جانی چاہیے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026