تازہ ترین پاکستان اکنامک سروے 2025-26 ملک کے عوامی صحت کے منظرنامے کی ایک تشویشناک تصویر پیش کرتا ہے۔ حکومت اگرچہ بعض اشاریوں میں معمولی بہتری کا دعویٰ کرتی ہے، تاہم جنوبی ایشیا کی اوسط کارکردگی سے تقابل کیا جائے تو پاکستان متعدد اہم شعبوں میں اپنے علاقائی ہمسایوں سے پیچھے نظر آتا ہے۔

مزید تشویشناک امر یہ ہے کہ ماہرینِ صحت اور ترقیاتی ماہرین کی جانب سے صحت کے شعبے میں مسلسل کم سرمایہ کاری کے سنگین نتائج سے بارہا خبردار کیے جانے کے باوجود یہ خلا بدستور برقرار ہے۔

سروے کے اعداد و شمار نہایت فکر انگیز ہیں۔ پاکستان میں پیدائش کے وقت متوقع عمر 67.8 سال ہے جو جنوبی ایشیا کی اوسط 72.6 سال سے تقریباً پانچ سال کم ہے۔

زچگی کے دوران اموات کی شرح بدستور خطرناک حد تک بلند ہے، جو 100,000 پیدائشوں پر 155 اموات تک پہنچتی ہے، جبکہ خطے میں یہ شرح 120 ہے۔ اسی طرح بچوں کی اموات کی شرح بھی علاقائی اوسط سے کہیں زیادہ ہے، جو زچہ و بچہ کی صحت کی سہولیات میں سنگین خامیوں کی نشاندہی کرتی ہے۔

اسی طرح غذائی قلت اور بچوں کی نشوونما میں رکاوٹ (اسٹنٹنگ) کی بلند سطح بھی تشویش ناک ہے، جو لاکھوں بچوں کو متاثر کر رہی ہے اور ان کی جسمانی و ذہنی نشوونما کو متاثر کر رہی ہے۔ یہ مسائل ملک کی نسبتاً بلند شرحِ پیدائش کے باعث مزید پیچیدہ ہو جاتے ہیں۔

تیز رفتار آبادیاتی اضافہ پہلے ہی سے دباؤ کا شکار صحت، تعلیم اور سماجی بہبود کے نظاموں پر غیر معمولی بوجھ ڈال رہا ہے۔ مؤثر فیملی پلاننگ خدمات اور تولیدی صحت میں مزید سرمایہ کاری کے بغیر پاکستان انسانی ترقی کے اشاریوں میں اپنے ہمسایوں سے مزید پیچھے جا سکتا ہے۔

حکومتی معاشی منتظمین اکثر مالیاتی محدودیتوں کو جواز بنا کر سماجی شعبے میں کم اخراجات کا دفاع کرتے ہیں، تاہم اصل مسئلہ ترجیحات کا ہے۔

جن ممالک نے صحت کے میدان میں نمایاں بہتری حاصل کی ہے، انہوں نے صحت کو اخراجات کے بجائے سرمایہ کاری کے طور پر دیکھا ہے۔ بہتر صحت نہ صرف ایک زیادہ پیداواری افرادی قوت پیدا کرتی ہے بلکہ غربت میں کمی اور طویل المدتی مالی دباؤ میں بھی کمی لاتی ہے۔

پاکستان کے صحت کے اشاریے محض اعداد و شمار نہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کی حقیقی زندگیوں کی عکاسی کرتے ہیں۔ جب تک صحت—تعلیم کے ساتھ—قومی ترقیاتی منصوبہ بندی کے مرکز میں نہیں رکھی جاتی اور اس شعبے میں خاطر خواہ سرمایہ کاری نہیں کی جاتی، ملک اس غفلت کی بھاری معاشی اور سماجی قیمت ادا کرتا رہے گا۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026