✕
کاروبار اور معیشت

ضیاء چشتی کو ٹی آر جی انٹرنیشنل کو اثاثے منتقل اور ثالثی ایوارڈ کی بقایا رقم ادا کرنے کا حکم

  • فیصلے کے مطابق ضیاء چشتی کی اہلیہ کے پاس موجود ٹی آر جی پاکستان کے حصص کو ثالثی ایوارڈ کی باقی ماندہ رقم کے جزوی تصفیے کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دے دی گئی
شائع اپ ڈیٹ

ٹی آر جی پاکستان نے جمعہ کے روز بتایا ہے کہ امریکا کی وفاقی عدالت (سدرن ڈسٹرکٹ آف نیویارک، ایس ڈی این وائی) کے جج نے کمپنی کے سابق سی ای او ضیاء چشتی کو حکم دیا ہے کہ وہ 30 دن کے اندر ٹی آر جی انٹرنیشنل کو اثاثے منتقل کریں، جس کی مالیت ثالثی ایوارڈ کی باقی ماندہ رقم تک ہو سکتی ہے۔

یہ پیشرفت 18 جون 2026 کو سامنے آئی، جب جج نے ضیاء چشتی کے خلاف مالی ثالثی ایوارڈ کی وصولی سے متعلق فیصلے کے نفاذ کی کارروائی میں یہ حکم جاری کیا۔

ٹی آر جی پاکستان لمیٹڈ نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کو جمعہ کو دیے گئے اپنے نوٹس میں بتایا ہے کہ اس کی منسلک کمپنی دی ریسورس گروپ انٹرنیشنل لمیٹڈ (ٹی آر جی آئی) نے آگاہ کیا ہے کہ 18 جون 2026 کو امریکا کی وفاقی عدالت، سدرن ڈسٹرکٹ آف نیویارک (ایس ڈی این وائی) میں ایک جج نے ضیاء چشتی کے خلاف مالی ثالثی ایوارڈ کی وصولی سے متعلق نفاذی کارروائی میں فیصلہ جاری کیا ہے۔

نوٹس کے مطابق امریکا میں ایک ثالث (آربٹریٹر) نے 2025 کے اوائل میں ضیاء چشتی کے خلاف فیصلہ جاری کیا تھا، جس میں یہ پایا گیا کہ انہوں نے اپنے کمپنی شیئرز جے ایس بینک کے حق میں بطور ضمانت رہن رکھ کر ٹی آر جی آئی کے ساتھ اپنے معاہداتی فرائض کی خلاف ورزی کی۔ اس فیصلے میں ضیاء چشتی کو ٹی آر جی آئی کو 9.1 ملین امریکی ڈالر ادا کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔

ایس ڈی این وائی نے قرار دیا کہ ضیاء چشتی کی جانب سے اپنی اہلیہ کو منتقل کیے گئے 9.8 ملین امریکی ڈالر کی رقم نیویارک کے فراڈولنٹ ٹرانسفر قوانین کے تحت قابلِ منسوخی ہے، جن میں سے 8.7 ملین ڈالر کی منتقلی ایسے ارادے کے ساتھ کی گئی کہ قرض دہندگان کو نقصان پہنچایا جائے، ادائیگی میں تاخیر ہو یا دھوکا دیا جائے۔ عدالت نے مزید کہا کہ ضیاء چشتی کے قرض دہندگان میں ثالثی ایوارڈ کے تحت ٹی آر جی آئی اور امریکی انٹرنل ریونیو سروس (آئی آر ایس) بھی شامل ہیں، جن کے حوالے سے تقریباً 10 ملین امریکی ڈالر کے غیر ادا شدہ وفاقی ٹیکس واجبات موجود ہیں۔

ایس ڈی این وائی نے حکم دیا ہے کہ 30 دن کے اندر ٹی آر جی آئی کو اثاثے منتقل کیے جائیں، جس کی مالیت ثالثی ایوارڈ کی باقی ماندہ رقم تک ہو سکتی ہے۔ عدالت نے یہ بھی اجازت دی ہے کہ اس ذمہ داری کی ادائیگی ضیاء چشتی کی اہلیہ کے اختیار پر، ان کے پاس موجود کمپنی کے حصص ٹی آر جی آئی کو منتقل کر کے بھی کی جا سکتی ہے۔

ٹی آر جی پاکستان نے کہا ہے کہ وہ اس عدالتی حکم پر عملدرآمد سے متعلق پیش رفت کی نگرانی کر رہا ہے اور قانون کے مطابق مزید ضروری انکشافات کرتا رہے گا۔