پاکستان کا غذائی نظام خطرے کی زد میں
- موسمیاتی تپش، آبی قلت اور مہنگی کاشتکاری نے ایسا ٹائم بم بنایا ہے جس نے شہری بازاروں اور سستے اناج پر براہِ راست حملہ کر دیا ہے
پاکستان کا غذائی نظام اس وقت اپنی تاریخ کے نازک ترین موڑ پر کھڑا ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کی تپش، سکڑتے ہوئے آبی وسائل اور کاشتکاری کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے مل کر ایک ایسا ٹائم بم تیار کر دیا ہے جو محض کھیتوں تک محدود نہیں ہے بلکہ ملکی معاشی استحکام اور سستے اناج کی دستیابی پر براہِ راست حملہ آور ہے اور شہری بازاروں میں تیزی سے نمایاں ہو رہے ہیں، جہاں صارفین کو ضروری اشیائے خورونوش کی دستیابی اور قیمتوں میں عدم استحکام کا سامنا ہے۔
اس بگاڑ کی اصل وجہ موسمیاتی تبدیلی (کلائمیٹ چینج) ہے۔ پاکستان کی زراعت، جو طویل عرصے سے موسموں کے قابلِ پیش گوئی چکر پر منحصر تھی اب بڑھتے ہوئے درجہ حرارت، بے ترتیب بارشوں اور بدلتے ہوئے موسمی پیٹرن کی زد میں ہے۔ فصلوں کی بڑھوتری کے اہم مراحل کے دوران شدید گرمی پیداوا ر کو کم کر رہی ہے جبکہ تاخیر سے یا غیر مساوی بارشیں بوائی اور کٹائی کے چکروں کو متاثر کر رہی ہیں۔ گندم اور چاول، جو ملک کی غذائی سپلائی کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں خاص طور پر اس کا شکار ہو رہے ہیں۔ یہ تبدیلیاں عارضی اتار چڑھاؤ نہیں بلکہ زرعی و موسمیاتی ماحول میں گہری تبدیلی کی علامات ہیں۔
حالیہ موسمیاتی اشارے ایک مضبوط ایل نینو فیز کے امکان کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں، جو خطے میں گرمی کی لہروں کو تیز اور خشک سالی کے دورانیے کو طول دے سکتا ہے۔ پاکستان کے لیے ایسی صورتحال پانی کے وسائل پر اضافی دباؤ ڈالے گی اور فصلوں کے چکر کو مزید غیر مستحکم کرے گی۔ ماضی کے تجربات بتاتے ہیں کہ مختصر مدت کی موسمیاتی تبدیلیاں بھی اہم زرعی نقصانات کا باعث بن سکتی ہیں، خاص طور پر ان علاقوں میں جو پہلے ہی ماحولیاتی دباؤ کا شکار ہیں۔
پانی کی قلت سب سے اہم رکاوٹوں میں سے ایک ہے۔ گزشتہ دہائیوں میں پاکستان پانی کی تقابلی کثرت سے شدید قلت کی طرف بڑھ چکا ہے۔ زراعت دستیاب میٹھے پانی کا بڑا حصہ استعمال کرتی ہے، اس کے باوجود آبپاشی کے نظام میں نااہلیاں اس کی پائیداری کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔ نہروں کا رساؤ، آبپاشی کے پرانے طریقے اور زیرِ زمین پانی کا بے دریغ اخراج ایسی صورتحال پیدا کر رہے ہیں جہاں پانی تیزی سے نایاب اور مہنگا ہوتا جا رہا ہے۔ کئی زرعی علاقوں میں زیرِ زمین پانی کی سطح میں گراوٹ آبپاشی کو مشکل بنا رہی ہے، خاص طور پر چھوٹے کسانوں کو دشواری ہورہی ہے۔
ماحولیاتی انحطاط ان دباؤ کو مزید بڑھا رہا ہے۔ زراعت کے شدید روایتی طریقوں کی وجہ سے مٹی کی زرخیزی کم اور کیمیائی اجزا پر انحصار بڑھ گیا ہے۔ اگرچہ ماضی میں کھاد اور کیڑے مار ادویات نے پیداواری صلاحیت کو سہارا دیا لیکن ان کے ضرورت سے زیادہ استعمال کے نتیجے میں طویل مدتی ماحولیاتی نقصان ہوا ہے۔ مٹی کی حالت کی خرابی، حیاتیاتی تنوع کا نقصان اور پانی کے ذخائر کا آلودہ ہونا اب سنگین خدشات بن کر ابھر رہے ہیں۔ یہ رجحانات زرعی نظام کی لچک اور مدافعت کو کم کرتے اور کیڑوں، بیماریوں اور موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف ان کی کمزوری کو بڑھاتے ہیں۔
اس بحران کا معاشی پہلو بھی اتنا ہی اہم ہے۔ کھاد ، ایندھن اور بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے کاشتکاری کی لاگت میں اضافہ کر دیا ہے، جس سے پہلے ہی کم منافع کا مارجن مزید سکڑ گیا ہے۔ چھوٹے کسان، جو ملک کے زرعی منظر نامے پر غالب ہیں ان بڑھتی ہوئی قیمتوں کے دباؤ کا خاص طور پر شکار ہیں۔ قرضوں، انشورنس اور جدید ٹیکنالوجیز تک محدود رسائی کی وجہ سے ان کی ایڈجسٹمنٹ کی صلاحیت محدود ہے۔ نتیجے کے طور پر بہت سے کسان کھاد وغیرہ کا استعمال کم کر دیتے ہیں یا فصلوں کے پیٹرن کو بدل دیتے ہیں، جو اکثر پیداواری صلاحیت کی قیمت پر ہوتا ہے۔
صارفین کے لیے اس کے نتائج تیزی سے واضح ہو رہے ہیں۔ سپلائی کی رکاوٹوں اور بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت کی وجہ سے غذائی مہنگائی ایک مستقل چیلنج بن چکی ہے۔ بنیادی غذائی اشیاء اب عام لوگوں کی پہنچ سے باہر ہوتی جا رہی ہیں، خاص طور پر کم اور متوسط آمدنی والے خاندان محروم ہورہے ہیں۔ یہ نہ صرف غذائی تحفظ (فوڈ سیکیورٹی) کو متاثر کرتا ہے بلکہ غذائیت اور عوامی صحت پر بھی اس کے وسیع تر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اس تناظر میں زراعت پر دباؤ اب محض ایک شعبہ جاتی مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ ایک قومی تشویش ہے۔
سپلائی چین کی نااہلیاں اس مسئلے کو مزید سنگین بناتی ہیں۔ کٹائی کے بعد کے نقصانات، اسٹوریج کے ناکافی انفرااسٹرکچر اور بکھرے ہوئے مارکیٹ سسٹمز خوراک کی موثر سپلائی کو کم کرتے ہیں۔ زرعی پیداوار کا ایک اہم حصہ صارفین تک پہنچنے سے پہلے ہی ضائع ہو جاتا ہے، جس سے کسانوں کی آمدنی اور مارکیٹ کا استحکام دونوں متاثر ہوتے ہیں۔ غذائی نظام کی پائیداری کو بہتر بنانے کے لیے ان نااہلیوں کو دور کرنا ناگزیر ہے۔
ان چیلنجوں کے باوجود ایک زیادہ پائیدار اور مضبوط مستقبل کی طرف راستے موجود ہیں۔ ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز اب عملی حل پیش کرنے لگی ہیں۔ موبائل پر مبنی مشاورتی خدمات، موسم کی فوری معلومات اور ڈیجیٹل مارکیٹ پلیسز کسانوں کو باخبر فیصلے کرنے، خطرات کا انتظام کرنے اور منڈیوں تک رسائی کو بہتر بنانے میں مدد دے سکتے ہیں۔ ایک ایسے ماحول میں جہاں روایتی توسیعی خدمات (ایکسٹینشن سروسز) محدود ہیں ایسے ٹولز پیداواری صلاحیت اور موافقت کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
ایگری بزنسز اور ریٹیل چینز کا بھی اس میں اہم کردار ہے۔ پروڈیوسرز اور صارفین کے درمیان ثالث کے طور پر وہ پوری ویلیو چین کے طریقوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ کولڈ اسٹوریج، لاجسٹکس اور کوالٹی کنٹرول میں سرمایہ کاری کٹائی کے بعد کے نقصانات کو کم اور کارکردگی کو بہتر بنا سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی پائیداری پر مرکوز کارپوریٹ اقدامات، جیسے کہ ذمہ دارانہ خریداری اور چھوٹے کسانوں کی مدد ایک زیادہ متوازن اور ماحولیاتی طور پر ذمہ دار غذائی نظام میں حصہ ڈال سکتے ہیں۔
پاکستان کا غذائی نظام صرف معمولی ردوبدل کے ذریعے برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔ جس چیز کی ضرورت ہے وہ موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف مزاحمت رکھنے والی اور وسائل کے موثر استعمال پر مبنی زراعت کی طرف ایک فیصلہ کن پیش رفت ہے۔ اس کا آغاز آبپاشی کے درست طریقوں کو فروغ دے کر نہری نقصانات کو کم کرکے اور زیرِ زمین پانی کے اخراج کو منظم کرکے واٹر گورننس کی اصلاح سے ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی پالیسیوں کے ذریعے کسانوں کو فصلوں میں تنوع لانے کی ترغیب دی جانی چاہیے اور گرمی اور خشک سالی کے خلاف مدافعت رکھنے والی بیجوں کی اقسام کو اپنانے میں مدد کرنی چاہیے، ان ساختی تبدیلیوں کے بغیر پیداوار میں اضافہ عارضی رہے گا۔
ڈیجیٹل تبدیلی کا کردار بھی اتنا ہی اہم ہے۔ موسم کی فوری معلومات، موبائل پر مبنی مشاورتی خدمات اور ڈیجیٹل مارکیٹ پلیسز تک رسائی کو بڑھانا کسانوں کو خطرات کا انتظام کرنے اور کارکردگی کو بہتر بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔ ان ٹولز کو محض پائلٹ پراجیکٹس تک محدود رکھنے کے بجائے سرکاری اور نجی شعبے کی مشترکہ کوششوں کے ذریعے بڑے پیمانے پر پھیلایا جانا چاہیے۔ توسیعی نظام کو مضبوط بنانا اور انہیں ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے جوڑنا ان کے اثرات کو نمایاں طور پر بڑھا سکتا ہے۔
ایگری بزنسز اور ریٹیل چینز کو بھی روایتی طریقوں سے آگے بڑھنا ہوگا۔ کولڈ اسٹوریج، لاجسٹکس اور شفاف سپلائی چینز میں سرمایہ کاری کٹائی کے بعد کے نقصانات کو کم اور قیمتوں کو مستحکم کر سکتی ہے۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ کارپوریٹ ذمہ داری کے اقدامات کو پائیدار خریداری، ماحولیاتی اثرات کو کم کرنے اور چھوٹے کسانوں کے ساتھ براہِ راست رابطے پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔ ایک زیادہ جوابدہ ویلیو چین معاشی فوائد کو ماحولیاتی پائیداری کے سانچے میں ڈھال سکتی ہے۔
پالیسی کی سطح پر قلیل مدتی ریلیف کے اقدامات کے بجائے طویل مدتی منصوبہ بندی کو جگہ دینی چاہیے۔ سبسڈیز کا رخ کارکردگی بڑھانے والی ٹیکنالوجیز کی طرف موڑنا چاہیے نہ کہ صرف کیمیکلز اور کھادوں کے بے دریغ استعمال پرتوجہ دینی چاہیے۔ اصلاحات کو مؤثر طریقے سے نافذ کرنے کے لیے ادارہ جاتی ہم آہنگی خاص طور پر وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان تعاون کو مضبوط بنانا لازمی ہوگا۔ گورننس کی ہم آہنگی کے بغیر اچھی طرح سے تیار کردہ پالیسیوں کے بھی غیر مؤثر رہنے کا خطرہ رہے گا۔
اب داؤ پر صرف زراعت ہی نہیں لگی ہے۔ ایک کمزور غذائی نظام کا مطلب مسلسل مہنگائی، بڑھتی ہوئی ناہمواری اور گھریلو بہبود پر بڑھتا ہوا دباؤ ہے۔ اگر ان چیلنجوں کو حل نہ کیا گیا تو یہ معاشی استحکام اور سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچاتے رہیں گے۔ پاکستان کے پاس ان مسائل سے نمٹنے کے لیے علم یا وسائل کی کمی نہیں۔ جس چیز کی ضرورت ہے وہ ہے عجلت کا احساس، باہمی تعاون اور مستقل عزم۔ آج کیے جانے والے فیصلے ہی یہ طے کریں گے کہ ملک ایک مضبوط اور پائیدار غذائی نظام کی طرف بڑھتا ہے یا مسلسل بڑھتی ہوئی کمزوریوں کے سائے میں چلتا رہتا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر2026