اسٹاک ایکسچینج میں اتار چڑھاؤ، 100 انڈیکس معمولی اضافے کے ساتھ بند
- کاروبار کے اختتام پر 100 انڈیکس 180,511.02 پوائنٹس پر بند
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں بدھ کو اتار چڑھاؤ سے بھرپور ٹریڈنگ سیشن دیکھا گیا، اس دوران 100 انڈیکس دونوں جانب حرکت کرنے کے بعد مثبت زون میں بند ہوا۔
تفصیلات کے مطابق اسٹاک مارکیٹ میں انڈیکس تقریباً 181,000 کی سطح پر کھلنے کے بعد دوپہر تک فروخت کے دباؤ کے باعث مسلسل گرتا رہا اور 179,564.16 کی کم ترین سطح پر آ گیا۔
تاہم آخری 90 منٹوں میں خریداری کا عمل دوبارہ شروع ہوا جس سے ایک تیز بحالی دیکھنے میں آئی اور انڈیکس 181,357.70 کی بلند ترین سطح تک پہنچ گیا۔
کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 118.05 پوائنٹس یا 0.07 فیصد کے اضافے سے 180,511.02 پوائنٹس پر بند ہوا۔
بروکریج ہاؤس ٹاپ لائن سیکورٹیز نے مارکیٹ کے اختتام پر جاری کردہ اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی اور جیو پولیٹیکل استحکام کے حوالے سے بہتر ہوتی توقعات کے باعث سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال رہا، خاص طور پر ممکنہ امریکہ ایران معاہدے اور آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے کی امیدوں سے متعلق حالیہ پیش رفت کے بعد مارکیٹ کو سہارا ملا۔ تاہم چند بڑے اور اہم شعبوں میں منافع کی وصولی نے مجموعی برتری کو محدود رکھا۔ ٹاپ لائن کے مطابق انڈیکس میں حصہ ڈالنے کے لحاظ سے مارکیٹ کے بڑے شیئرز جیسے فاٹما، پی پی ایل، او جی ڈی سی، ایم ٹی ایل اور شفاء مارکیٹ کی تیزی کے اہم محرک بن کر ابھرے اور انہوں نے مشترکہ طور پر بینچ مارک انڈیکس میں 611 پوائنٹس کا اضافہ کیا۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق ایک اہم پیش رفت میں پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ مئی 2026 میں 459 ملین ڈالر کے نمایاں سرپلس میں رہا۔
منگل کو سٹاک ایکسچینج میں تیزی کا ریکارڈ ساز سلسلہ برقرار رہا کیونکہ مرکزی بینک کی جانب سے پالیسی ریٹ کو برقرار رکھنے کے فیصلے کے بعد سرمایہ کاروں نے جارحانہ خریداری جاری رکھی جبکہ علاقائی کشیدگی اور عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی کی توقعات نے مارکیٹ کے جذبات کو مزید مضبوط کیا۔ بینچ مارک 100 انڈیکس 3,353.15 پوائنٹس یا 1.89 فیصد اضافے سے 180,392.98 پوائنٹس پر بند ہوا۔
بین الاقوامی سطح پر بدھ کو خام تیل کی قیمتوں میں گراوٹ کی خبریں سامنے آئیں جس کی بنیادی وجہ یہ امید ہے کہ ایرانی ایندھن جلد عالمی منڈیوں میں دستیاب ہوگا جس سے مہنگائی میں کمی کی توقع پیدا ہوئی ہے۔ اس پیش رفت کے نتیجے میں بانڈز ییلڈ میں کمی دیکھی گئی جبکہ فیڈرل ریزرو کے نئے چیئرمین کیون وارش کے پہلے اجلاس سے قبل اسٹاک اور کرنسی مارکیٹ میں سکون رہا۔
برینٹ کروڈ آئل فیوچرز کی قیمت 80 ڈالر سے نیچے گر گئی جو کہ مارچ میں امریکہ-ایران تنازع کے آغاز کے بعد سے اب تک کی نچلی ترین سطح ہے۔
ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار نے کہا کہ جنگ کے خاتمے کے معاہدے کے تحت، امریکہ ایرانی تیل پر عائد پابندیاں ختم کر دے گا جس سے عالمی منڈی میں لاکھوں بیرل اضافی سپلائی آنے کا امکان پیدا ہوگیا ہے۔
امریکی بانڈز ییلڈ (شرح منافع) میں کمی دیکھی گئی اور ایشیائی مارکیٹوں میں بھی یہی رجحان رہا، جاپان کی 10 سالہ بانڈ ییلڈ 1.5 بیسز پوائنٹس کم ہو کر 2.63 فیصد اور آسٹریلیا کی 10 سالہ شرح تقریباً 5 بیسز پوائنٹس کم ہو کر 4.787 فیصد پر آگئی۔
امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے کی بہت کم تفصیلات عوامی سطح پر تصدیق کی گئی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی تین ماہ کی بندش نے تیل ذخائر کو ختم کر دیا جس کے بعد امریکی ذخائر 1983 کے بعد اپنی نچلی ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں۔
وال سٹریٹ پر سرمایہ کاروں نے ٹیک اور سیمی کنڈکٹر اسٹاکس میں اپنے زیادہ بھرے ہوئے سودوں کو کم کیا، جس سے نیسڈیک میں 1.15 فیصد کی گراوٹ دیکھی گئی۔ دوسری جانب مالیاتی اور صنعتی اسٹاکس میں اضافے نے ڈاؤ کو ریکارڈ بلندی پر پہنچانے میں مدد کی۔
ایشیائی مارکیٹوں میں فیوچرز معمولی طور پر مثبت رہے جبکہ تائیوان اور جنوبی کوریا میں چپ بنانے والی کمپنیوں کے بھاری شیئرز والی مارکیٹیں قدرے نیچے آئیں اور جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک کے شیئرز کا ایم ایس سی آئی کا وسیع تر انڈیکس تقریباً 0.3 فیصد گر گیا۔
جاپان کا نکی انڈیکس 0.4 فیصد بڑھ گیا۔ ہانگ کانگ اور شنگھائی کی اسٹاک مارکیٹیں مجموعی طور پر مستحکم رہیں۔
دریں اثنا بدھ کو انٹر بینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں معمولی اضافہ دیکھا گیا اور اس میں 0.01 فیصد کی بہتری آئی۔ مارکیٹ کے اختتام پر مقامی کرنسی ڈالر کے مقابلے میں 3 پیسے (0.03 روپے) کے اضافے کے ساتھ 278.27 پر بند ہوئی۔
آل شیئرز انڈیکس پر کاروبار کا حجم (والیوم) گزشتہ سیشن کے 1,224.40 ملین شیئرز سے بڑھ کر 1,230.54 ملین شیئرز ہو گیا۔ تاہم، شیئرز کی مالیت گزشتہ سیشن کے 70.22 ارب روپے کے مقابلے میں کم ہو کر 69.21 ارب روپے رہ گئی۔
کاروبار کے لحاظ سے سروس لانگ مارچ 189.43 ملین شیئرز کے ساتھ پہلے نمبر پر رہا، جس کے بعد کوہ نور اسپننگ 72.28 ملین شیئرز اور کے الیکٹرک لمیٹڈ 53.63 ملین شیئرز کے ساتھ نمایاں رہے۔
بدھ کو مجموعی طور پر 495 کمپنیوں کے شیئرز کا کاروبار ہوا، جن میں سے 206 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتوں میں اضافہ اور 259 میں کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ 30 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتیں مستحکم رہیں۔