کاروبار اور معیشت

اسپیس ایکس کے آئی پی او نے ایلون مسک کو دنیا کا پہلا کھرب پتی بنا دیا

  • اسپیس ایکس نے آئی پی او کے ذریعے ریکارڈ 75 ارب ڈالر اکٹھے کیے
شائع June 12, 2026 اپ ڈیٹ June 12, 2026 05:08pm

امریکی ارب پتی کاروباری شخصیت اور دنیا کے پہلے کھرب پتی بننے والے ایلون مسک ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔ ان کی خلائی، سیٹلائٹ اور مصنوعی ذہانت پر مشتمل کمپنی اسپیس ایکس نے جمعرات کو اپنے ابتدائی عوامی شیئر فروخت (آئی پی او) کے ذریعے ریکارڈ 75 ارب ڈالر اکٹھے کیے، جس کے بعد ایلون مسک کی مجموعی دولت 1.1 کھرب ڈالر سے تجاوز کرنے کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے۔

فوربز کے مطابق آئی پی او سے قبل ایلون مسک کی دولت تقریباً 780 ارب ڈالر تھی، جبکہ ان کی دولت کا بڑا حصہ اسپیس ایکس میں موجود حصص پر مشتمل ہے، جن کی مالیت تقریباً 866 ارب ڈالر بتائی جاتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اسپیس ایکس کی لسٹنگ کے بعد ایلون مسک دنیا کے امیر ترین فرد کی حیثیت مزید مستحکم کر لیں گے۔

54 سالہ ایلون مسک نے جنوبی افریقہ میں جنم لیا اور بعد ازاں امریکہ میں کاروباری دنیا میں اپنی شناخت بنائی۔ انہوں نے 2008 میں ٹیسلا کی قیادت سنبھالی اور الیکٹرک گاڑیوں کی صنعت میں انقلاب برپا کیا۔ ان کے حامی انہیں جدت طرازی اور جرات مندانہ وژن کی علامت قرار دیتے ہیں، جبکہ ناقدین ان پر حد سے زیادہ اثر و رسوخ، کمزور کارپوریٹ گورننس اور سیاسی معاملات میں مداخلت کے الزامات عائد کرتے ہیں۔

2022 میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کے 44 ارب ڈالر کے حصول نے ایلون مسک کو عالمی سیاسی اور سماجی مباحث میں ایک طاقتور آواز بنا دیا۔ گزشتہ برس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ میں ان کے کردار نے بھی خاصی بحث کو جنم دیا۔

سرمایہ کاروں کا ماننا ہے کہ اسپیس ایکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں ایلون مسک کی قیادت مستقبل میں بھی غیرمعمولی منافع پیدا کر سکتی ہے۔ مالیاتی تجزیہ کاروں کے مطابق اسپیس ایکس کی بلند ترین قدر روایتی مالیاتی پیمانوں سے زیادہ ایلون مسک کے وژن اور ساکھ پر مبنی ہے، جسے بعض ماہرین ایلون پریمی کا نام دیتے ہیں۔ تاہم ناقدین خبردار کرتے ہیں کہ کسی ایک شخصیت پر حد سے زیادہ انحصار سرمایہ کاروں اور کمپنیوں دونوں کے لیے خطرات پیدا کر سکتا ہے۔